السلام علیکم !میں اپنے شوہر کی دوسری بیوی ہوں ،لیکن میرا شوہر میرے مالی حقوق کو بری طرح نظر انداز کر رہا ہے،اپنی تنخواہ کا دو تہائی سے زیادہ اپنی پہلی بیوی اور بچوں پر خرچ کر رہا ہے،ان کے لیے گھریلو سامان اور فرنیچر خریدنا،کپڑوں کے ساتھ ساتھ روزمرہ کی ضروریات اور سامان بھی خرید تا ہے ، اور جب میں مانگتی ہوں تو اس نے ہمیشہ انکار کر دیا ، اس پر میرا ماہانہ خرچ بمشکل 20 ہزار ہوگا اور وہ وہاں ایک لاکھ پچاس ہزار یا اس سے زیادہ خرچ کرتا ہے ،اور ہمیشہ اس کے دوسرے مطالبات پورے کرتا رہتا ہے ،مجھے کہتا ہے تم کام کرنے والی عورت ہو ،تم اپنے لیے انتظام کر سکتی ہو، میں اب بہت پریشان ہوں کہ اپنی تعلیم اور محنت کے باوجود میری کوئی قدر نہیں ہے، میرے شوہر ہمیشہ پہلی بیوی اور بچوں کو ترجیح دیتے ہیں ۔
واضح ہو کہ شوہر کے ذمہ دونوں بیویوں کے درمیان حقوق واجبہ(رات گزارنے ،نان ونفقہ اور سکنیٰ )میں برابری کا معاملہ کرنا شرعاً لازم اورضروری ہے،چنانچہ" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور اس نے ان کے درمیان عدل یعنی برابری نہیں رکھی ہوتو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا آدھا دھڑ جھکا ہوا ہوگا"لہذا صورت مسؤلہ میں سائلہ کے شوہر پر لازم ہے کہ وہ اپنی دونوں بیویوں کے درمیان برابری کا خیال رکھے اور جس طرح پہلی بیوی کو رہائش،کھانا پینا،لباس اور دیگر سہولیات دے رہا ہے ،اسی طرح دوسری بیوی کو بھی دے،اور اب تک وہ جس کو تاہی کا مرتکب ہوا ہے ،اس پر سچے دل سے توبہ واستغفار کرنے کے ساتھ ساتھ دوسری بیوی سے معافی بھی مانگے جس کی اس نے ابھی تک حق تلفی کی ہے،کیونکہ حقوق العباد صرف توبہ سے معاف نہیں ہوتے،بلکہ توبہ کے ساتھ ساتھ متعلقہ بندے سے بھی معافی تلافی ضروری ہوتی ہے۔
کما فی سنن الترمذی: "عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إذا كان عند الرجل امرأتان فلم يعدل بينهما جاء يوم القيامة وشقه ساقط(ج2ص438ط: دار الغرب الإسلامي بيروت)۔
وفی الدرالمختار: "(يجب) وظاهر الآية أنه فرض نهر (أن يعدل) أي أن لا يجور (فيه) أي في القسم بالتسوية في البيتوتة (وفي الملبوس والمأكول) والصحبة (لا في المجامعة) كالمحبة بل يستحب. ويسقط حقها بمرة ويجب ديانة أحيانا(باب القسم بین الزوجات ج3 ص201 ط: دار الفكر-بيروت)۔
وفی الھدایہ: وإذا كان للرجل امرأتان حرتان فعليه أن يعدل بينهما في القسم بكرين كانتا أو ثيبين أو إحداهما بكرا والأخرى ثيبا " لقوله عليه الصلاة والسلام " من كانت له امرأتان ومال إلى إحداهما في القسم جاء يوم القيامة وشقه مائل " وعن عائشة رضي الله عنها أن النبي عليه الصلاة والسلام كان يعدل في القسم بين نسائه وكان يقول " اللهم هذا قسمي فيما أملك فلا تؤاخذني فيما لا أملك " يعني زيادة المحبة ولا فصل فيما روينا(باب القسم ج1ص215 ط: دار احياء التراث العربي بيروت لبنان)۔