السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ میں ایک شادی شدہ فرد ہوں، میرے سسرال میں دو کمرے ہیں، ایک میں ساس اور سسر رہتے ہیں اور دوسرے کمرے میں چار سالے رہتے ہیں، جن میں سے تین بالغ ہیں، میرے تین سالیوں کی شادیاں ہوچکی ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ میری زوجہ جب اپنے ماں کے گھر جاتی ہے تو وہ اسی کمرے میں اپنے بھائیوں کے ساتھ سوتی ہے، میرے دو چھوٹے بچے بھی ہیں اور بیڈ نہیں ہے، نیچے چٹائی بچاکر سوتے ہیں تو مجھے اچھا نہیں لگتا، بعض دفعہ تو میری سالیاں بھی آجاتی ہیں تو وہ بھی اسی کمرے میں سوتی ہیں، جگہ بھی بہت تنگ ہےتو اس میں شرعی کیا حکم ہے؟ رہنمائی فرمائیں، کیا میں اپنی زوجہ کو منع کرسکتا ہوں کہ وہاں رات نا گزارے؟ شکریہ
سائل کے سسرال کا گھر اگر واقعۃً اتنا تنگ ہو کہ سائل کی بیوی کو رات اپنے بھائیوں کے کمرہ میں گزارنی پڑتی ہو تو اگر چہ سائل کی بیوی کا اپنے بھائیوں کے کمرے میں سونا شرعاً ناجائز اور حرام تو نہیں، لیکن اس سے بھی احتیاط بہرحال بہتر ہے، اس لئے سائل کی بیوی کو چاہیئے کہ میکے میں رات نہ گزارے، بلکہ دن میں والدین اور بھائیوں کے ساتھ ملاقات کرکے رات کو اپنے شوہر کے گھر لوٹ جایا کرے، تاکہ میکے والے بھی تنگی میں مبتلاء نہ ہوں اور کسی قسم کا ناگفتہ بہ واقعہ رونما نہ ہو۔
کما فی رد المحتار: (قوله في كل جمعة) هذا هو الصحيح، خلافا لمن قال له المنع من الدخول معللا بأن المنزل ملكه، وله حق المنع من دخول ملكه دون القيام على باب الدار، ولمن قال لا منع من الدخول بل من القرار؛ لأن الفتنة في المكث وطول الكلام، أفاده في البحر.
وظاهر الكنز وغيره اختيار القول بالمنع من الدخول مطلقا واختاره القدوري وجزم به في الذخيرة، وقال: ولا يمنعهم من النظر إليها والكلام معها خارج المنزل إلا أن يخاف عليها الفساد فله منعهم من ذلك أيضا (قوله في كل سنة) وقيل في كل شهر كما مر (قوله لها الخروج ولهم الدخول زيلعي) المناسب إسقاط هذه الجملة كما في بعض النسخ. وعبارة الزيلعي: وقيل لا يمنعها من الخروج إلى الوالدين ولا يمنعهم من الدخول عليها في كل جمعة إلخ (قوله ويمنعهم من الكينونة) الظاهر أن الضمير عائد إلى الأبوين والمحارم (قوله وفي نسخة من البيتوتة إلخ) وبه عبر في النهر، وتعبير منلا مسكين يؤيد النسخة الأولى، ومثله في الزيلعي والبحر، ويؤيده ما مر من التعليل بأن الفتنة في المكث وطول الكلام اھ۔ (ج۳، ص۶۰۳ ط۔ سعید)۔