کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس بابت کہ اگر زوجہ کو اپنے میکے جانا ہو تو کیا وہ شوہر سے اجازت طلب کرے گی یا شوہر کے ساتھ ساتھ ساس سسر سے بھی اجازت طلب کرے گی؟ دین اسلام اس بابت کیا احکامات دیتا ہے؟
بیوی کا شوہر کی اجازت اور رضامندی سے میکے جانا اور دیگر ضروریات کی خاطر گھر سے باہر نکلنا اگرچہ شرعاً جائز اور درست ہے، ساس اور سسر سے بھی اس کام کےلئے اجازت طلب کرنا ضروری نہیں، تاہم میاں بیوی اگر ساس ،سسر کے ساتھ رہ رہے ہوں تو گھر کے سربراہ اور بڑے ہونے کی حیثیت سے اخلاقاً و مروتاً ان سے اجازت لینا زیادہ بہتر ہے، جبکہ ساس،سسر کو بھی چاہیے کہ وہ اس سلسلہ میں بلا وجہ زیادہ روک ٹوک اور سختی سے کام نہ لیں، تاکہ ان کی طبعی آزادی متأثر نہ ہو۔
کما فی الفقہ الإسلامی وأدلتہ: (ومن حقوق الزوج) طاعة الزوجة لزوجها في الاستمتاع والخروج من المنزل (إلی قولہ) ومن الطاعة: القرار في البيت متى قبضت معجل مهرها وهو تفرغها لشؤون الزوجية والبيت ورعاية الأولاد في الصغر والكبر، فليس للزوجة الخروج من المنزل ولو إلى الحج إلا بإذن زوجها، فله منعها من الخروج إلى المساجد وغيرها، لما روى ابن عمر رضي الله عنه قال: رأيت امرأة أتت إلى النبي صلّى الله عليه وسلم، وقالت: «يارسول الله، ما حق الزوج على زوجته؟ قال: حقه عليها ألا تخرج من بيتها إلا بإذنه، فإن فعلت، لعنها الله وملائكة الرحمة، وملائكة الغضب حتى تتوب أو ترجع، قالت: يا رسول الله، وإن كان لها ظالماً؟ قال: وإن كان لها ظالماً» ولأن حق الزوج واجب، فلا يجوز تركه بما ليس بواجب (6850/9)