میں سرکاری ٹیچر ہوں اور میری جو تنخواہ آتی ہے وہ ساری میرے شوہر گھر کے خرچ وغیرہ میں استعمال کر لیتے ہیں، تو میرے اکاؤنٹ میں کوئی پیسہ نہیں ہوتا ، اب اگر میں اپنے والِد کی طرف سے جو جائیداد ہے، اُس میں سے اپنا حصہ دے دوں یا اپنے شوہر کو دے دوں تو میں یہ نہیں کرنا چاہتی ، کیونکہ میری کوئی اولاد نہیں ہے، اگر میں سارے پیسے بھیج کر فرق کر دوں تو پھر میرے پاس کچھ نہیں بچے گا، اس لئے میں چاہتی ہوں کہ اپنی زندگی میں ہی جو والِد کی جائیداد میں میرا حق بنتا ہے وہ اپنے بہن بھائیوں کو دے دوں، اور جو میرا پلاٹ یا دوسرا سامان ہے وہ اپنے شوہر کو دے دوں، لیکن میں سارا کچھ نہیں دینا چاہتی، کچھ سامان کا خیال ہے کہ وہ میرے پاس رہے ،کیا میں ایسی وصیت کر سکتی ہوں کہ اپنی ساری والد کی طرف سے جائیداد اپنے بہن بھائیوں کو دے دوں اور جو پلاٹ ہے وہ اپنے شوہر کو دے دوں؟ کیا یہ ٹھیک ہوگا؟
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے پہلے اپنے مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتاہے،وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرسکتا ہے ، اس کے ذمہ زندگی میں اپنا مال و جائیداد اپنے بہن بھائیوں وغیرہ میں تقسیم کرنا لازم اور ضروری نہیں، لہذا سائلہ کے پاس جو کچھ موجود ہے یا والد کے ترکے میں سے اسے جو کچھ ملے گا ،وہ سارا کا سارا سائلہ کی ملکیت ہے، اور سائلہ کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنا مال اور جائیداد تقسیم کرنا کوئی لازم اور ضروری نہیں، البتہ اگر سائلہ اپنی مرضی سے بلا کسی جبر و اکراہ اپنا مال ہو جائیداد تقسیم کرنا چاہتی ہے ،تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے، اور اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ سائلہ اپنی بقیہ زندگی کے لئے محتاط انداز کے مطابق جو کچھ رکھنا چاہے، وہ رکھ کر بقیہ مال وجائیداد اپنے شوہر اور بہن بھائیوں کے درمیان اپنی مرضی سے تقسیم کر کے ہر ایک کو اس کا حصہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ حوالہ کر دے، چنانچہ ایسا کرنے سے ہر ایک اپنے اپنے حصے کا مالک بن جائے گا، لیکن اگر سائلہ اپنی زندگی میں اپنا مال و جائیداد تقسیم نہ کرے، بلکہ ورثاء کے درمیان جائیداد تقسیم کرنے کی وصیت کرے، تو چونکہ ورثاء کے حق میں شرعاًوصیت معتبر نہیں، اس لئے اگر سائلہ کی وفات کے وقت یہی ورثاء موجود ہو تو انہیں اس وصیت کے مطابق شرعاً عمل کرنا لازم اور ضروری نہ ہوگا۔
كمافي سنن ابن ماجه : عن أبي أمامة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في خطبته، عام حجة الوداع : إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه، فلا وصية لوارث ( باب لا وصية لوارث، ج 4، ص 18، رقم : 2713، ط : دار الرسالة العالمية)-
وفي الأصل لمحمد بن الحسن : وإذا أوصى الرجل بعبده لبعض ورثته ولأجنبي فإنه لا يجوز حصة الورثة من ذلك، وتجوز حصة الأجنبي من الثلث. (باب الوصية للوارث والأجنبي، ج 5، ص 444، ط : دار ابن حزم، بيروت)-
وفي الدر المختار: (وتتم) الهبة ( بالقبض ) الكامل الخ. (كتاب الهبة ، ج 5، ص 690، ط : سعید)-
وفی الفتاوى الھندیة : ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض (4 الباب الأول تفسير الهبة وركنها وشرائطها وأنواعها وحكمها، ج 4، ص 374، ط : دار الفكر، بيروت)-
وفي بدائع الصنائع : وأما حكم الهبة ( إلى قوله) أصل الحكم ثبوت الملك للموهوب له من غير عوض الخ (ج 6، ص 127، ط : سعيد)-