ایک عورت کا خاوند اگر وفات پا جاتا ہے اور اس خاوند نے اپنی بیوی کو کچھ سونا اور زیورات وغیرہ شادی پر دئیے ہوں ، لیکن اس نیت سے کہ ان کی ملکیت بیوی کو نہ سونپی ہو، بلکہ اس نیت سے دئیے ہوں کہ میرے نکاح میں ہے، لہذا جیسے چاہے پہنے، اس بارے میں خاوند نے اپنی ایک وصیت بھی لکھ چھوڑی ہو اور بیوی کو بھی مناسب کنائیے میں بتا دیا ہو کہ یہ سونا اصل میں میرا ہے اور آپ اسے پہنیں ، اب اگر خاوند کا انتقال ہو جاتا ہے، تو ان سونے کے زیورات کی کیا حیثیت ہو گی؟ کیا یہ اس بیوہ کو ملیں گے یا خاوند کی مجموعی وراثت میں شمار ہوں گے اور پھر اس میں سے جو شرعی حصہ بیوی کا ہو گا وہ اسے دیا جائے گا؟
سائل کا سوال پوری طرح واضح نہیں کہ شوہر نے زیورات کے متعلق کیا وصیت کی ہے، اور اگر شوہر نے وہ زیورات بیوی کو ملکیۃ ً نہ دئیے ہوں، تو اشارات وکنایات میں بتانے کا کیا مقصد ہے؟ تاہم خاندانی عرف و رواج کے مطابق شوہرکی طرف سے شادی کے موقع پر بیوی کو جو زیورات دئیے جاتے ہیں ،یہ اگر باقاعدہ مالکانہ طور پر دئیے جاتے ہوں ،یا شوہر نے باقاعدہ مالکانہ قبضہ کے ساتھ زیورات بیوی کو دئیے ہوں، جس کا کوئی ثبوت یا قابل قبول واضح قرینہ موجود ہو، تو ایسی صورت میں شرعاً بیوی ان زیورات کی مالک شمارہوگی، اور اب شوہر کی وفات کے بعد اس میں دیگر ورثاء کا کوئی حق نہ ہوگا ،ورنہ یہ زیورات مرحوم کے ترکے میں شامل ہو کر بیوی سمیت تمام ورثاء میں حسب حصصِ شرعی تقسیم ہوں گے۔
کما الفتاوى الهندية : وإذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية. (الفصل السادس عشر في جهاز البنت، ج1، ص 327، ط : دار الفكر،بيروت)-
وفي تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق : وفي فتاوى أهل سمرقند رجل تزوج امرأة وبعث إليها بهدايا وعوضته المرأة على ذلك عوضا، ثم زفت إليه، ثم فارقها، وقال: إنما بعثت إليك عارية وأراد أن يسترد ذلك وأرادت المرأة أن تسترد العوض فالقول له في الحكم؛ لأنه أنكر التمليك فإذا استرد ذلك منها كان لها أن تسترد ما عوضته (باب المهر، ج 2، ص 159، ط : دار الكتاب الإسلامي)-
و في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل الخ. (كتاب الهبة ، ج 5، ص 690، ط : سعید)-
و في بدائع الصنائع : وأما حكم الهبة ( إلى قوله) أصل الحكم ثبوت الملك للموهوب له من غير عوض الخ (ج 6، ص 127، ط : سعيد)-