السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! میرا نام عبد الوہاب ہے ، میرا سوال یہ ہے کہ میری شادی 2017 میں ہوئی، اس وقت تک میں اپنے والدین کے ساتھ اپنے بھائی اور اس کے خاندان کے ساتھ جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہ رہا ہوں، بعد میں باہمی افہام و تفہیم کے بعد میرا بھائی ہم سے جدا ہو گیا، اب میں اپنی بیوی اور میرے بچے اپنے والدین کے ساتھ رہ رہے ہیں، میری نوکری مرچنٹ نیوی میں ہے، اس لیے میں 4 سے 6 ماہ بیرون ملک اور 5 سے 6 ماہ گھر پر رہتا ہوں، پچھلے 3 ،4 سالوں سے مجھے اپنی بیوی کے ساتھ جوائنٹ فیملی سسٹم سے متعلق مسائل درپیش ہیں، کیونکہ ہم اپنے والدین کے گھر میں رہتے ہیں، اس لیے میرے والد گھر پر حکمرانی کرتے تھے، ہر کام ان کے مطابق ہونا چاہیے جیسے نماز وقت اور گھر پر پڑھنا، اس انتظام کی وجہ سے بعض اوقات میرے والد میری بیوی پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، اور اسے مشورہ دیتے رہتے ہیں کہ تم یہ ٹھیک نہیں کر رہی ہو، تمہیں ایسا کرنا چاہیے وغیرہ، اس نے مجھ سے کئی بار اس کی شکایت کی، لیکن میں نے اسے صرف نظر انداز کرنے کو کہا ، کیونکہ وہ والدین ہیں، ان کی عمر کے عنصر کو دیکھتے ہوئے وہ کبھی کبھی زیادہ ردعمل ظاہر کر سکتے ہیں، کبھی کبھی وہ کچھ کہتے ہیں جو سب کو پسند نہیں ہے وغیرہ، لہذا صرف نظر انداز کرنے کی کوشش کریں اور خدا کی خاطر کنٹرول کریں اور یہ سمجھیں کہ وہ میرے والدین ہیں، کچھ تفصیلات کا تذکرہ کرتے ہوئے حقائق یہ ہیں کہ چونکہ ہم اپنے والدین کے گھر میں رہتے ہیں، وہاں میری شادی شدہ بہنیں اکثر آتی رہتی ہیں اور کچن کے معاملات وغیرہ کے لیے صرف میری بیوی ہی ہوتی ہے، تو اب حالت یہ ہے کہ میری بیوی کہہ رہی ہے، یہ میری حد سے باہر ہے، اب میں آپ کے والدین کا ایک لفظ بھی نہیں سن سکتی، مجھے اپنے اور اپنے بچوں کے لیے الگ رہائش کی ضرورت ہے، جب کہ میں ان سے یہ گزارش کرتا رہتا ہوں کہ بس اللہ کے لیے صبر کرو، ہمیں نہیں معلوم کہ وہ ہمارے ساتھ کتنے ہوں گے، لہٰذا ان سے زیادہ سے زیادہ دعائیں لیں، چاہے وہ تمہیں کچھ ناگوار کیوں نہ کہیں . وہ مجھ سے شکایت کرتی ہے کہ میں (میرا شوہر) اپنے والدین کے سامنے کبھی کچھ نہیں بولتا جب وہ میری بیوی سے کچھ کہہ رہے ہوتے ہیں، اس پر میرا مؤقف یہ ہے کہ میں ان کے سامنے بات نہیں کر سکتا جب وہ کسی مسئلے پر بات کر رہے ہوں ، تو بعد میں جب وہ اچھے موڈ میں ہوں، تو میں ان سے الگ سے بات کر سکتا ہوں، میں بہت پریشان ہوں کہ میں یہ رشتہ کیسے جاری رکھوں؟ کیونکہ میں اپنے والدین کو نہیں چھوڑ سکتا اور نہ ہی میں اپنی بیوی کو چھوڑنا چاہتا ہوں، ہمارے 2 بچے ہیں، مزید 2 ، 3 مرتبہ میں اس مسئلہ کے بارے میں کئی بار چند مفتی حضرات سے ملا ہوں، اور جب بھی انہوں نے میری بیوی سے کہا کہ صبر کرو، جواب میں میری بیوی نے ہمیشہ پوچھا کہ صرف عورتوں کو ہی کیوں صبر کرنا چاہیے اور ہمیشہ صبر کرنا چاہیے، براہ کرم اس پر مشورہ دیں ، موضوع کے لیے اپنی سمجھ بوجھ پر بھروسہ کریں۔
سائل نے اگر بیوی کو مشترکہ گھر میں اپنا مستقل رہائشی کمرہ، اٹیچ باتھ روم اور کچن وغیرہ دیا ہو کہ جس میں کسی دوسرے کا عمل دخل نہ ہو تو سائل کے ذمہ الگ سے گھر دینا شرعاً لازم نہیں، لہذا بیوی کا سسرال والوں سے تنگ آکر الگ گھر کا مطالبہ کرنا درست نہیں، تاہم اگر سائل کے والدین خدمت کے محتاج نہ ہوں اور آپس کے بار بار لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے بیوی کا ان کے ساتھ رہنا ممکن نہ ہو اور بیوی کو ہر ممکن طریقہ سے سمجھانے اور جوائیٹ فیملی سسٹم میں رہنے کا کہنے کے باوجود وہ الگ رہائش ہی پر بضد ہو تو والدین کے مشورہ سے سائل اس کو الگ رہائش بھی دے سکتا ہے، البتہ اس صورت میں سائل کو چاہیے کہ وقتاً فوقتاً والدین کی ملاقات کے لئے جایا کرے، تاکہ ان کی بھی دلجوئی ہوتی رہے۔
کما فی الفتاوی الھندیۃ: تجب السكنى لها عليه في بيت خال عن أهله وأهلها إلا أن تختار ذلك (الی قولہ) امرأة أبت أن تسكن مع ضرتها، أو مع أحمائها كأمه وغيرها، فإن كان في الدار بيوت فرغ لها بيتا، وجعل لبيتها غلقا على حدة ليس لها أن تطلب من الزوج بيتا آخر، فإن لم يكن فيها إلا بيت واحد فلها ذلك،الخ(ج1 ص556 الفصل الثاني في السكنى،الباب السابع عشر في النفقات، کتاب الطلاق ط ماجدیہ)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله لحصول المقصود) هو أنها على متاعها؛ وعدم ما يمنعها من المعاشرة مع زوجها والاستمتاع (قوله وفي البحر عن الخانية إلخ) عبارة الخانية: فإن كانت دار فيها بيوت وأعطى لها بيتا يغلق ويفتح لم يكن لها أن تطلب بيتا آخر إذا لم يكن ثمة أحد من أحماء الزوج يؤذيها. اهـ.
قال المصنف في شرحه: فهم شيخنا أن قوله ثمة أشار للدار لا البيت؛ لكن في البزازية: أبت أن تسكن مع أحماء الزوج وفي الدار بيوت إن فرغ لها بيتا له غلق على حدة وليس فيه أحد منهم لا تمكن من مطالبته ببيت آخر. اھ الخ(ج3 ص600 مطلب في مسكن الزوجة باب النفقة ط سعید)۔