السلام علیکم ،امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے، حضور میں آپ سے موجودہ معاشرتی حالات کے تحت ایک شرعی مسئلہ دریافت کرنا چاہتا ہوں،آج کل مختلف ڈیجیٹل فورمز پر خواتین (بیویوں) کی ذہن سازی کی جارہی ہے کہ بیوی پر شوہر کے والدین کی خدمت واجب نہیں ہے۔ گھر کے کام یا شوہر کی خدمت گزاری ضروری نہیں ہے اور اس بنیاد پر مختلف خاندانوں میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں،طلاقیں ہو جاتی ہیں، بچے در بدر ہو جاتے ہیں ،کیا ایسی صورتحال میں کوئی صاحب حیثیت مرد مخصوص شرائط کے تحت معاوضہ طے کرکے کسی عورت سے شرعی طور پر نکاح کرسکتا ہے ؟ مثلاً میں آپ کو بطور شوہر ماہانہ اتنا معاوضہ دوں گا لیکن اس کے بدلے آپ میرے والدین کی خدمت کریں گی، میری خدمت گزاری کریں گی، میری حکم عدولی نہیں کریں گی، میرے رشتوں کا احترام کریں گی،اگر آپ مندرجہ بالا شرائط میں کوتاہی کریں گی تو میں آپ سے باعزت طریقے سے علیحدگی اختیار کرنے کا حقدار ہوں گا۔ نکاح اس لئے کر رہا ہوں کہ خدمت گزاری کے دوران اگر محبت کے احساس کے تحت کوئی ہمبستری وغیرہ ہو تو حرام تعلق نہ تصور ہو ،براہ مہربانی اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں ۔
واضح ہو کہ نکاح کرنے کا مقصد فقط شوہر یا اس کے والدین کی خدمت گزاری نہیں ہوتی، بلکہ اس عظیم سنت کا مقصد سنت پر عمل، افزائش نسل، اور تقوی کا حصول ہے ،لہذا سائل کا فقط والدین یا اپنی خدمت گزاری کی خاطر کسی خاتون کو اپنے نکاح کے بندھن میں باندھنا اور نکاح کے بعد ان کے دیگر واجبی حقوق سے صرف ِنظر کرتے ہوئے انہیں ماہوار تنخواہ پر رکھنا شرعاً جائز نہیں،اس لیے اگر سائل شادی شدہ ہو اور اسے دوسری شادی کی ضرورت نہ ہو یا وہ دو بیویوں کے درمیان برابری کرنے پر قادر نہ ہو تو فقط والدین کی خدمت گزاری کے لیے کسی خاتون کو اپنے نکاح میں قید کرنے کے بجائے اس کام کے لیے ملازمہ رکھنے کا اہتمام کرے ،تاکہ اس ضرورت کی تکمیل کی وجہ سے کسی خاتون کی ازدواجی زندگی متاثر نہ ہو۔
کما فی سنن لابی داود: عن معاوية بن قرة، عن معقل بن يسار، قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: إني أصبت امرأة ذات حسب وجمال، وإنها لا تلد، أفأتزوجها، قال: 'لا"ثم أتاه الثانية فنهاه، ثم أتاه الثالثة، فقال: "تزوجوا الودود الولود فإني مكاثر بكم الأمم"(رقم الحدیث2050،ج2،ص220،المكتبة العصرية)۔
وفی الھندیۃ: تجب على الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمية والفقيرة والغنية دخل بها أو لم يدخل كبيرة كانت المرأة أو صغيرة يجامع مثلها كذا في فتاوى قاضي خان سواء كانت حرة أو مكاتبة كذا في الجوهرة النيرة(الی قولہ) والنفقة الواجبة المأكول والملبوس والسكنى (الی قولہ) إذا كان زوج المرأة موسرا، ولها خادم فرض عليه نفقة الخادم هذا إذا كانت حرةالخ(فصل في نفقة الزوجة،ج1،ص544،ط:ماجدیہ)۔