میرا نکاح 6 مہینے پہلے ہوا ہے، اور میں نے ایک طالب علم لڑکی سے نکاح کیا اسے دیندار سمجھ کے، اب 6 مہینے بعد میں نے اسے فحش ویڈیو دیکھتے ہوئے پکڑ لیا، اور پھر پتہ چلا کہ اس کی یہ عادت بہت پرانی ہے شادی سے پہلےبھی اور شادی کے بعد بھی، اس نے مجھ سے معافی مانگ لی ہےاور تو بہ بھی کر لی ہے، مگر میرا دل مطمئن نہیں ہورہا ، میں نے اسے معاف کردیا ہے، لیکن اس کی اس حرکت کی وجہ سے میرا بھروسہ ٹوٹ گیا اور دل بھی ٹوٹ گیا، جس کی وجہ سے مجھے غم لاحق ہو رہا ہے، میں اس کی بھلائی چاہتا ہوں، اس صورت میں کیا حکم ہے ، کیا ایسی لڑکی کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیئے یا نہیں۔
واضح ہو کہ فحش ویڈیوز دیکھنا ناجائز اور حرام ہے، لہذا سائل کی بیوی اگر اپنی اس عادتِ بد سے بصدق دل توبہ کررہی ہو اور آئندہ بھی اس فعل کے مرتکب نہ ہونے کا پختہ عزم کررہی ہو تو سائل کو چاہیئے کہ وہ بھی اس کو معاف کردے اور آئندہ کی زندگی پیار ومحبت اور عفت وپاکدامنی کے ساتھ گزارنے کی ترغیب دے اور اس کے لئے اسے نیک ماحول اور اچھی صحبت بھی فراہم کرنے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ ان تمام چیزوں سے بھی دور رکھنے کا اہتمام کرے، جس کی وجہ سے اسے اس گناہ میں پڑنے کا اندیشہ ہو، جبکہ تو بہ تائب ہو نے کے باوجود سائل کا اسے سابقہ غلطیوں اور کوتاہیوں پر پکڑ کرنے اور ناراضگی کا اظہار کرنا گھر کا ماحول بگاڑنے اور سکون غارت کرنے کا باعث بنے گا، اس لئے سائل کو نرم خوئی کا رویہ اپنا کر مؤدت وسکون سے اسے سمجھانے اور گھریلو زندگی بسر کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے ۔
قال اللہ تعالی: قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ (30) وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ (الی قولہ تعالی) وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (سورۃ النور آیۃ 30)۔
و فی بدائع الصنائع: وعليها أن تطيعه في نفسها، وتحفظ غيبته؛ ولأن الله عز وجل أمر بتأديبهن بالهجر والضرب عند عدم طاعتهن، ونهى عن طاعتهن بقوله عز وجل {فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} [النساء: 34] ، فدل أن التأديب كان لترك الطاعة، فيدل على لزوم طاعتهن الأزواج.الخ (ج2 ص334 فصل وجوب طاعة الزوج على الزوجة کتاب النکاح ط سعید)۔