ایک آدمی کمپنی میں کام کرتا ہے اور کمپنی کہتی ہے کہ اگر کسی آدمی کو کمپنی جوائن کرواتے ہیں تو آپ کو ٪15ریفل بونس دے گی اور اگر آپ مزید لوگوں کو جوائن کرواتے رہیں گے تو آپ کا بونس بھی بڑھتا رہے گا کیا یہ جائز ہے ؟
ہماری معلومات کے مطابق نیٹ ورک مارکیٹنگ کے طریقہ پر کام کرنے والی کمپنیوں کا اصل مقصد کاروبار یا مصنوعات کی خرید وفروخت نہیں ہوتا ، بلکہ ممبرسازی کے ذریعے کمیشن درکمیشن کاروبار چلانا اصل مقصد ہوتا ہے ، جوکہ جوئے کی ایک نئی شکل ہے ،نیز مذکور طرزکے کاروبار میں دیگر بہت سارے مفاسد بھی موجود ہیں،لہذا مذکور طریقہ کارکے مطابق کاروبار کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنے سے اجتناب لازم ہے ۔
کما فی القرآن المجید: (یٰأیؔھا الذین آمنوا إنما الخمر و المیسر و الأنصاب و الأزلام رجس من عمل الشیطٰن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون) الآیۃ۔ (سورۃ المائدۃ، آیت نمبر: 90)۔
و فی أحکام القرآن للجصاص: قال اللہ تعالیٰ (إنما الخمر و المیسر و الأنصاب و الأزلام رجس من عمل الشیطٰن فاجتنبوہ) (إلی قولہ) و أما المیسر فقد روی عن علی أنہ قال الشطرنج من المیسر و قال عثمان و جماعۃ من الصحابۃ و التابعین النرد و قال قوم من أھل العلم القمار کلہ من المیسر و أصلہ من تیسیر أمر الجزور بالاجتماع علی القمار فیہ و ھو السھام التی یجیلونھا فمن خرج سھمہ استحق منہ ما توجبہ علامۃ السھم فربما أخفق بعضھم حتی لا یحظی بشئ و ینجح البعض فیحظی بسھم الوافر و حقیقتہ تملیک المال علی المخاطرۃ۔ و ھو أصل فی بطلان عقود التملیکات الواقعۃ علی الاخطار کالھبات و الصدقات و عقود البیاعات و نحوھا إذا علقت علی الاخطار بأن یقول قد بعتک إذا قدم زید و وھبتہ لک إذا خرج عمرو لأن معن إیسار الجزور أن یقول من خرج سھمہ استحق من الجزور کذا فکان استحقاقہ لذالک السھم منہ معلقا علی الخطر (إلی قولہ) (رجس من عمل الشیطان) فإن الرجس ھو الذی یلزم اجتنابہ إما لنجاستہ و إما لقبح ما یفعل بہ من عبادۃ أو تعظیم (إلی قولہ) و إنما قال تعالیٰ (من عمل الشیطان) لأنہ یدعو إلیہ و یأمر بہ فأکد بذالک أیضا حکم تحریمھا إذ کان الشیطان لا یأمر إلا بالمعاصی و القبائح و المحرمات (إلی قولہ) قولہ تعالیٰ (إنما یرید الشیطان أن یوقع بینکم العداوۃ و البغضاء فی الخمر و المیسر) الآیۃ فإنما یرید بہ ما یدعو الشیطان إلیہ و یزینہ من شرب الخمر (إلی قولہ) فیؤدی ذالک إلی العداوۃ و البغضاء و کذالک القمار یؤدی إلی ذالک قال قتادۃ کان الرجل یقامر فی مالہ و أھلہ فیقمر و یبقی حزینا سلیبا فیکسبہ ذالک العداوۃ و البغضاء إلخ۔ (باب تحریم الخمر، ج 2، ص 461۔466، ط: سہیل أکیڈمی)۔
وفی الموسوعة الفقھية: وقال ابن حجر المكّي : الميسر : القمار بأيّ نوع كان، وقال المحلّي: صورة القمار المحرّم التّردد بين أن يغنم وأن يغرم إلخ۔ ( ج 41، ص 375)۔
وفى الشاميۃ: قال في التتارخانية وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعواعليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليھم وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة إلخ۔ (کتاب الاجارۃ،ج 6، ص 63، ط: سعید)۔