محترم مفتی صاحب ! میں Fiverr پر فری لانسنگ کا کام کرتا ہوں اور حال ہی میں Fiverr Cash Advance Program میں شامل ہونے کا موقع ملا ہے۔ اس پروگرام کے تحت مجھے ایک بارگی رقم 2500 روپےکی پیشگی ادائیگی کی جاتی ہے، اور بدلے میں مجھے اپنی مستقبل کی کمائی میں سے 3000 روپےادا کرنے ہوں گے۔ اس میں کوئی سود (رِبا) شامل نہیں ہے اور یہ لین دین قرض کا معاملہ نہیں، بلکہ مستقبل کی آمدنی کی فروخت ہے، مجھے ا بھی بتائیں کہ
1. اس پروگرام میں شامل ہونے کے بعد، میری کمائی کا %40 حصہ Fiverr کو منتقل کیا جائے گا ، جب تک کہ وہ اپنی دی ہوئی رقم واپس نہ لے لیں۔
2. اگر میری کاروباری کارکردگی کمزور ہو جائے تو مجھے اس معاملے میں کسی قسم کی پابندی یا ذمہ داری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
3. Fiverr کی طرف سے اس مالیاتی معاملے کو قرض نہیں سمجھا جا رہا ، بلکہ یہ آئندہ کی آمدنی کی فروخت ہے۔
براہ کرم مجھے رہنمائی فرمائیں کہ آیا اس پروگرام میں شرکت کرنا شرعاً جائز ہے؟ کیا یہ معاملہ اسلامی مالیاتی اصولوں کے مطابق حلال ہے یا حرام؟جزاک اللہ خیراً
واضح ہو کے سائل کا ذکر کردہ معاملہ دراصل قرض پر مشروط اضافے کی ہی ایک صورت ہے ،کیونکہ مذکور پلیٹ فارم مخصوص رقم ادھار( قرض )دینے کے بعد اسے طے شدہ زیادتی کے ساتھ صارف کی کمائی سے وصول کرتا ہے، اور قرض میں ہر طرح کا نفع شرعا ًصریح سود ہے ،لہذا ایسی پیشگی رقم لینا اور اس پر اضافی رقم ادا کرنا قطعی حرام اور ناجائز ہے جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
کما فی فقہ البیوع: سبق منا أن البيع إنما ينعقد بصيغة تدلّ على إنشاء العقد في الحال ولذلك لا ينعقد البيع بصيغة تتمحض للاستقبال، مثل قولنا "سوف أبيعك كذا" أو "سوف أشترى منك كذا " وإنما تُنبئ هذه الصيغة عن الوعد بإنجاز البيع في المستقبل، وليس بيعاً، الخ (الباب الثانی فی احکام الإیجاب والقبول، حکم الوعد أو المواعدۃ فی البیع، ج 1، ص 77، ط: مکتبۃ معارف القرآن)-
وفیہ ایضاً: وأما البيوع المستقبلة، فالمراد منها البيوع المضافة إلى المستقبل، بمعنى أن البائع فيها يعقد في يوم العقد بيع أسهم شركة معيّنة في تاريخ لاحق، وفيه عدّة محظورات من الناحية الشرعية:
الأول: أنه بيع مضاف إلى المستقبل، وسيأتى (فى شروط البيع التي ترجع إلى طلب العقد) أنه محظور شرعاً فى غير السّلم، وشروط السلم منتفية في مثل هذا البیع،
الثاني: أنه يستلزم تأجيل البدلين وبيع الكالى بالكالي، لأن ثمن البيع لا يدفع عادةً عند العقد، بل عند حلول التاريخ المعقود عليه،
الثالث: أن المبيع فى معظم هذه العقود لا يكون مملوكاً للبائع عند العقد، وفي معظم الحالات، لا يُقصد بهذا البيع تسليم المبيع وتسلّمه، وإنما ينتھى العقد بتسوية فروق الأسعار، وهو نوع من المضاربات والمقامرة، الخ (المبحث الثالث فی احکام المبیع الثمن، الباب الاول، الشرط السادس ان یکون المبیع معلوما، ج 1، ص 383، ط: مکتبۃ معارف القرآن)-