جناب عالی ! گزارش یہ ہے کہ میرے والد صاحب فوت ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے گھر کی ہر قسم کی ذمہ داری ہم بھائیوں پر ہے، گزارش یہ ہے کہ میری بہن کی شادی کو 15 سال ہو گئے ہے، اس کا شوہر میری بہن کو ہر وقت تشدد کرتا ہے ، ہمیں پتا نہیں تھا کہ یہ اتنا ظالم اور بد کردار ہوگا ، شادی کے دو سال بعد میری بہن کے حق کے مہر کا تقریبا پانچ تولہ سونا بیچ دیا بغیر اجازت کے، جب ہم نے پوچھا تو بہن کو بولا کہ میں دوبارہ بنوا کر دوں گا ،لیکن اس نے اس رقم سے گھر میں کمرہ بنوا دیا اور بہن کو بولا کہ یہ کمرہ تمہارا ہے ، لیکن پھر چالاکی سے وہ گھر اس نے جس میں اس نے کمرہ بہن کے حق مہرکے پیسوں سے بنوایا تھا اپنے بڑے بھائی کو بیچ دیا ، اس بد کردار کی نظر ہمیشہ برائی عورتوں پر ہوتی ہے اور بہن جب منع کرتی ہے تو اس پر تشدد کرتا ہے، اب اس نے بغیر اجازت کے اس عورت سے شادی کی جس سے اس کے پہلے سے تعلقات تھے، اور بہن کے منع کرنے پر منع نہیں ہوتا تھا، بہن ہمارے گھر چار سال سے بیٹھی ہے ، وجہ یہ ہے کہ بہن جس وقت حمل سے تھی ظالم نے تشدد کر کے اس کے پیٹ میں لات مار دی اور اپنی ہونے والی بیٹی کو ماں کے پیٹ میں مار دیا اور بہن کو جان سے مارنے کی دھمکی دیتا اور پستول نکال کر ڈرایا تھا ، ہم نے بہت کوشش کی کہ بہن کا گھر نہ اجڑے، لیکن جب بھی ہم جرگے کے ذریعے بہن کو اس کے گھر بھیج دیتے ہیں، تو پھر وہ دوبارہ مہینےیا دو مہینے کے بعد بھیج دیتا ہے، میری بہن کا شوہر ملک سے باہر دبئی میں ڈیوٹی کرتا ہے اور جب وہ آتا تھا تو بہن کو جرگے کے ذریعے گھر لے جاتا اور جب واپس ڈیوٹی پر ملک سے باہر جاتا تو پھر لڑائی جھگڑا کر کے ہمارے گھر بھیج دیتا تھا اور اب چار سال سے بہن کو کوئی خرچہ بھی نہیں دیتا اور اب اس نے دوسری شادی بھی کر لی بغیر اجازت کے، اب وہ کہتا ہے کہ میں حق مہر کا پانچ تولہ سونا نہیں دوں گا اور طلاق لینے پر مجبور کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر طلاق نہیں لوگی تو پھر ہمیشہ کے لیے ماں کے گھر بیٹھی رہوں گی اور اگر میرے گھر آؤ گے تو ذلیل کرتا رہوں گا۔اب علماء کرام سے میری یہ درخواست ہے کہ اگر میری بہن اس صورت حال میں خلع کی طرف جائے جو ما حول اس کے ظالم شوہر نےپیدا کیا ہے تو پھر میری بہن کا حق مہر کا سامان ملے گا یا نہیں؟ اور بہن جو چار سال سے ہمارے گھر جو بیٹھی ہے وہ خرچ ملے گا یا نہیں؟ برائے مہربانی فرما کر شریعت کی روسے میری بہن کا یہ مسئلہ فتوی کے ذریعے حل فرما دے۔
سوال میں ذکر دہ وضاحت اگر واقعۃً درست اورحقیقت پر مبنی ہو اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو تو سائل کے بہنوئی کا مذکور طرز عمل شرعاً جائز نہیں، جس کی وجہ سے وہ سخت گنہگار ہورہا ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے مذکور طرز عمل پر بصدق دل توبہ و استغفار کرکے آئندہ کے لئے دونوں بیویوں کے درمیان نان ونفقہ وغیرہ ضروری امور میں عدل و انصاف سے کام لے ، چنانچہ اگر سائل کا بہنوئی اپنے سابقہ طرز عمل سے باز آجائے تو ایسی صورت میں سائل کی بہن کو چاہئیے کہ اپنے شوہر سے علیحدگی اختیار کرنے کے بجائے اس رشتے کو نبھانے کی کوشش کرے۔تاہم اگر ہر ممکن کوشش کے باوجود وہ اپنے غلط طرز عمل سے باز نہ آئے اور آپس کے لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے حدود اللہ پر قائم رہتے ہوئے اس رشتہ کو بر قرار رکھنا مشکل ہو تو ایسی صورت میں سائل کی بہن کے لئے اپنے شوہر سے حق مہر کی معافی کے عوض خلع یا طلاق کے ذریعے علیحدگی اختیار کرنا جائز اور درست ہوگا، البتہ اگر سائل کی بہن حق مہر کے عوض خلع لیتی ہے تو پھر شرعاً وہ حق مہر کی حقدار نہ ہوگی، جبکہ سائل کی بہن کے لئے اگر باقاعدہ ماہوار نان ونفقہ کی مقدار طے نہ کی گئی ہو تو ایسی صورت میں وہ گزشتہ عرصہ کے نان ونفقہ کی حقدار نہ ہوگی۔
قال الله تعالى : وآتوا النساء صدقاتھن نحلة ( سورة النساء، الآیۃ: 4)۔
وفي الهندية : والمهر یتأكد بأحد معان ثلاثة الدخول والخلوة الصحيحة وموت أحد الزوجين سواء كان مسمىً أو مهرالمثل حتى لا يستط منه شيء بعد ذلك إلا بالابراء من صاحب الحق كذا في البدائع الخ (ج 1، ص 33، ط: ماجدية)۔
وفیہ ایضاً: وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه الخ (ج 1، ص 545، ط: ماجدية)۔
وفی الدر المختار: (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح (الی قولہ) (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس،(ج3، ص 572، ط: سعید)۔
وفی العقود الدرایۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ: (سئل) في رجل فرض على نفسه برضاه لزوجته وابنه الصغير منها في كل يوم كذا لنفقتهما ومضى لذلك عدة أشهر دفع منها بعضها وامتنع من دفع الباقي بلا وجه شرعي فهل يلزمه الباقي؟
(الجواب) : نعم لأن النفقة لا تصير دينا إلا بالقضاء أو الرضا كما في التنوير (أقول) هذا مسلم بالنظر إلى نفقة الزوجة فإنها لا تسقط بمضي المدة بعد فرضها وأما بالنظر إلى نفقة الصغير فهو مبني على ما مر قبل صفحة عن الزيلعي من أنه كالزوجة وقد علمت ما فيه.(کتاب الطلاق، باب النفقہ، ج1، ص 74، ط: دار المعرفہ)۔