السلام علیکم
میں جہاں ملازمت کرتا ہوں، وہاں ایک آن لائن پلیٹ فارم پہ بولی لگانے کا کام کرتا ہوں، وہاں لوگوں نے جو بھی کام کروانا ہوتا ہے، ادھر ڈال دیتے ہیں، اور پھر میں اس پہ بولی لگاتا ہوں کہ آپ کے لئے یہ کام میں کر سکتا ہوں، میں اس کے لئے ایک لڑکی کی Id استعمال کرتا ہوں، اور جو کام لوگوں کو دکھاتا ہوں، دراصل میں نے وہ خود نہیں کیا ہوتا، بلکہ دوسروں کا بنایا ہوا کام دکھاتا ہوں لوگوں کو، اور جو اس بولی میں لکھتاہوں، وہ بھی سچ نہیں ہوتا، لیکن کام بالکل صحیح کر کے دیتاہوں ان کو، اب میں پریشان ہوں کہ یہ کام صحیح ہے کہ نہیں؟ میرے خیال میں تو جائز نہیں ہے ایسا کام۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائل دوسروں کا کام اپنا کام بنا کر پیش کر رہا ہے تو ان کا یہ طرز ِعمل دھوکہ دہی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، البتہ اس طرح دھوکہ دہی کے ذریعہ حاصل کردہ پروجیکٹ اگر واقعۃً مطلوبہ معیار کے مطابق بنا کر دیا جاتا ہو، اور وہ کام شرعاً بھی جائز اور مباح امور پر مشتمل ہو، تو اس طرح جائز اور مباح امور پر مشتمل پروجیکٹ بنا کر اس کے بدلے حاصل کردہ رقم اگرچہ شرعاً حرام نہ ہوگی، لیکن ایک جائز کام کے حصول کے لئے ناجائز طریقہ کار اختیار کرنا شرعاً ناجائز اور قابلِ مؤاخذہ جرم ہے، اس لئے اس طرز ِعمل سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی صحیح مسلم: عن عبد اللہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إن الصدق یھدی إلی البر، وإن البر یھدی إلی الجنۃ، وإن الرجل یصدق حتی یکتب صدیقا، وإن الکذب یھدی إلی الفجور وإن الفجور یھدی إلی النار وإن الرجل لیکذب حتی یکتب کذابا الخ(باب قبح الکذب الخ، ص 1081، ط: مؤسسۃ الرسالۃ)۔
فی الترغیب و الترھیب: عن إبن مسعود رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم من غشنا فلیس منا و المکر و الخداع فی النار ( إلی قولہ) و رواہ أبو داؤد فی مراسیلہ عن الحسن مرسلا مختصرا قال المکر و الخدیعۃ و الخیانہ فی النار الخ ( الترھیب من الغش و الترغیب الخ ج: 2، ص: 572، 573، ط: دار احیاء التراث العربی )۔