السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! میرا سوال یہ ہے کہ :1۔ میں نےاپنی بیوی کو ایک گاڑی ہدیہ کی ،اس کے کچھ عرصے بعد میں نے دوسری شادی کرلی ،اب سوال یہ ہے کہ اگر میں دو سری بیوی کو گاڑی تحفہ دیتا ہوں ، تو کیا اس معاملہ میں مجھے برابری کرنی ہوگی یا جتنی رقم میں دوسری بیوی پر گاڑی کے سلسلے میں خرچ کر رہا ہوں ، کیا پہلی بیوی کو بھی دینی چاہیئے ؟
2: میری پہلی بیوی نے 2006ء میں میرے ساتھ حج کیا تھا، میری دوسری بیوی نے اپنے پہلے شوہر کے ساتھ 2019 ءمیں حج کیا تھا ، اب اگر میں اپنی دوسری بیوی کو اپنے ساتھ حج کرواتا ہوں ، تو کیا مجھے اپنی پہلی بیوی کو بھی حج کر وانا چاہیئے ؟ یعنی دونو ں بیویاں پہلے ایک ایک حج کر چکی ہیں ، اب چونکہ دوسری میرے ساتھ حج کرنا چاہتی ہے تو کیا مجھے اس سلسلہ میں برابری کرنی چاہیئے ؟
واضح ہوکہ قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ میں ایک سے زائد بیویوں کے درمیان عدل اور انصاف کی بڑی تاکید اور کسی ایک کا زیادہ خیال رکھنے اور دوسرے کے حقوقِ واجبہ میں کمی کوتاہی کرنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئیں ہیں،چنانچہ حدیثِ شریف میں آتا ہے کہ جس شخص کی دنیا میں دو بیویاں ہوں اور کسی ایک بیوی کا زیادہ خیال رکھے اور دوسری بیوی کے حقوق میں کوتاہی کرے تو قیامت کے روز جب وہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں حاضر ہوگا ،تو اس کے جسم کے ایک طرف کا حصہ شل اور فالج زدہ ہوگا،البتہ دونوں کے حقوقِ واجبہ ادا کرنے کے بعد کسی ایک کی طرف قلبی میلان زیادہ ہو اور دوسری کی طرف کم ہو تو اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں،
لہذا سائل پر دوسردی شادی کے بعد اپنی دونوں بیویوں کے درمیان حقوقِ واجبہ جیسے شب باشی (رات گذارنا) نان ونفقہ (کھانا، پینا، لباس وغیرہ) اور رہائش ( دونوں کا کمرہ یا گھر ایک جیسے ) دینے میں برابری کرنا ضروری ہے۔ البتہ دوسری شادی سے قبل پہلی بیوی کو دی جانے والی اشیاء اب دوسری بیوی کو دینا لازم اور ضروری نہیں، اسی طرح اگر دونوں بیویاں اپنا فرض حج ادا کرچکی ہوں تو اس کے بعد نفل حج کیلئے دونوں کا سائل کے ساتھ جانا ضروری نہیں، بلکہ سائل حسب سہولت کسی کو بھی لیجانے کا اختیار رکھتا ہے، جس میں کسی ایک تعیین کیلئے قرعہ اندازی بھی کی جاسکتی ہے، اور اگر دونوں کو ساتھ لیجانے کی استطاعت ہو تو دونوں کو ساتھ لیجانا بلاشبہ باعث فضیلت ہے، جبکہ سائل نے اگر پہلی بیوی کو اس کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے گاڑی گفٹ کی ہو لیکن دوسری بیوی کو فی الوقت مستقل گاڑی کی ضرورت نہ ہو تو انہیں گاڑی گفٹ کرنا ضروری نہ ہوگا، لیکن آتے جاتے ان کیلئے گاڑی کی سہولت بھی اسی طرح میسر ہونا ضروری ہےجو پہلی بیوی کو حاصل ہے، تاکہ دونوں میں عدل اور مساوات کا لحاظ رکھا جا سکے۔