السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
ایک مسجد ہے ، جس سے متصل ایک پلاٹ ہے ، جو کسی غیر مسلم کا ہے ، اور آج کل اس شخص کا پتہ بھی نہیں کہ کہاں ہے ، زندہ بھی ہے کہ نہیں ، اس پلاٹ میں کُشتی ہوا کرتی تھی ، پلاٹ کے مالک غیر مسلم شخص نے وہ پلاٹ اکھاڑہ کے لئے وقف کردیا تھا ۔ پھر جب وہاں کشتی ہونی بند ہو گئی ، تو مسجد کے صدر جو کہ خود پہلوان ہیں اُنہوں نے یہ کہا کہ چونکہ اکھاڑہ پہلوانوں کے لئے وقف تھا ، اب ہم پہلوان لوگ اِس پلاٹ کو مسجد کے لئے وقف کر رہے ہیں ، اور یہ دلیل پیش کرکے اکھاڑہ مسجد میں شامل کرلیا ۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اِس طرح سے اکھاڑہ کو مسجد میں شامل کرنے سے وہ مسجد کا حصہ بن جائے گا ؟
اِس سلسلہ میں شرعی احکام ومسائل بیان فرما کر ممنون فرمائیں ۔
وقف کی شرعی حیثیت تب ہوتی ہے جب کسی جگہ یا مال کو اللہ کی رضا اور تقرب کے لیے خاص کیا جائے، جیسے مسجد، مدرسہ، فلاحی کام ۔جبکہ اکھاڑہ (کشتی کا میدان) چونکہ تقرب الی اللہ کا مصرف نہیں، اس لیے شرعی اصطلاح میں اسے وقف نہیں کہا جا سکتا، البتہ یہ صرف عرفی طور پر "مخصوص" (مختص) کیا گیا تھا،اوروہ ہنوزاس کام کے لیے مختص کرنے والے شخص (غیرمسلم )کی ملکیت شمارہوگا۔لہذاگراس میدان ( اکھاڑہ) کا مصرف (کشتی) ختم ہو چکا ہو، مالک کا بھی پتہ نہ ہوکہ اس سے باقاعدہ مسجدمیں شامل کرنے کی اجازت حاصل کی جاسکے، نہ ہی کوئی وارث یا دعوے دار ہو، تو اس کی عرفی تخصیص کو ختم کرکے، اس جگہ کو نئے نفع بخش مصرف کے لیے قابلِ استعمال بنایاجاسکتاہے۔
چونکہ اب وہ پلاٹ بے کار پڑا ہے، اور مسجد کے لیے جگہ کی حاجت موجود ہے، اور مقامی مسلمان اور مسجد کے منتظمین(جواس اکھاڑے کی دیکھ بھال کے ذمہ داربھی تھے) دینی نیت سے اسے مسجد میں شامل کر رہے ہیں، تو اسے مسجد میں شامل کرنے کی شرعی گنجائش موجود ہے۔ بشرطیکہ یہ اقدام عامۃ المسلمین کی مصلحت پر مبنی ہو،اس میں کسی قسم کاذاتی مفاد یا غصب کی نیت نہ ہو،محلہ کے معتمد افراد یا علماء کی مشاورت بھی اس میں شامل ہو۔لہذا جب یہ جگہ مسجد کے لیے شرعی اصول کے مطابق شامل کر دی جائے، تو اس میں نماز پڑھنا جائز ہے، اور ثواب کے اعتبار سےاسے مسجد کا حکم حاصل ہو جائے گا۔
كما في حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي: (وأن يكون) قربة في ذاته معلوما (منجزا) لا معلقا إلا بكائن، ولا مضافا، ولا موقتا»
(قوله: وأن يكون قربة في ذاته) أي بأن يكون من حيث النظر إلى ذاته وصورته قربة، والمراد أن يحكم الشرع بأنه لو صدر من مسلم يكون قربة حملا على أنه قصد القربة، لكنه يدخل فيه ما لو وقف الذمي على حج أو عمرة مع أنه لا يصح ولو أجرى الكلام على ظاهره لا يدخل فيه وقف الذمي على الفقراء لأنه لا قربة من الذمي، ولو حمل على أن المراد ما كان قربة في اعتقاد الواقف يدخل فيه وقف الذمي على بيعة مع أنه لا يصح فنعين أن هذا شرط في وقف المسلم فقط، بخلاف الذمي لما في البحر وغيره أن شرط وقف الذمي أن يكون قربة عندنا وعندهم كالوقف على الفقراء أو على مسجد القدس، بخلاف الوقف على بيعة فإنه قربة عندهم فقط أو على حج أو عمرة فإنه قربة عندنا فقط فأفاد أن هذا شرط لوقف الذمي فقط؛ لأن وقف المسلم لا يشترط كونه قربة عندهم بل عندنا كوقفنا على حج وعمرة بخلافه على بيعة فإنه غير قربة عندنا بل عندهم»(4/ 341)
و فيه أيضا: (والملك يزول) عن الموقوف بأربعة بإفراز مسجد كما سيجيء»
(قوله: والملك يزول) أي ملك الواقف فيصير الوقف لازما للإنفاق على التلازم بين اللزوم والخروج عن ملكه كما قدمناه عن الفتح (قوله: بأربعة) هذا على قول الإمام، لكن فيه أنه بالثاني والثالث لا يزول الملك فيه عند الإمام، حتى كان له الرجوع عنه ما دام حيا كما سينبه عليه الشارح (قوله بإفراز مسجد) عبر بالإفراز لأنه لو كان مشاعا لا يصح إجماعا، وأفاد أنه يلزم بلا قضاء»(4/ 343)
و فيه أيضا: (قوله: وأرض مغصوبة أو للغير)۔۔۔۔ فإن اضطر بين أرض مسلم وكافر يصلي في أرض المسلم إذا لم تكن مزروعة. فلو مزروعة أو لكافر يصلي في الطريق اهـ أي لأن له في الطريق حقا كما في مختارات النوازل، وفيها: تكره في أرض الغير لو مزروعة أو مكروبة إلا إذا كانت بينهما صداقة أو رأى صاحبها لا يكرهه فلا بأس. اهـ.وفي شرح المنية للحلبي: بنى مسجدا في أرض غصب لا بأس بالصلاة فيه. (1/ 381)
و في الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية : ولو ضاق المسجد على الناس وبجنبه أرض لرجل تؤخذ أرضه بالقيمة كرها، كذا في فتاوى قاضي خان
أرض وقف على مسجد والأرض بجنب ذلك المسجد وأرادوا أن يزيدوا في المسجد شيئا من الأرض جاز لكن يرفعوا الأمر إلى القاضي ليأذن لهم»(2/ 456)