کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں شادی شدہ ہوں اور میرے تین بچے ہیں، میں شادی سے پہلے ہی نوکری کر رہی ہوں، شادی سے پہلے میرے والدین نے لڑکے والوں سے بات کی تھی کہ میری بچی نوکری کرے گی وہ راضی ہو گئے ، اب شادی کے بعد وہ مجھ سے پیسوں کا مطالبہ کرنے لگے، میری پوری تنخواہ مانگنے لگے اور نوکری چھوڑنے کا کہنے لگے، پیسے دو!ور نہ نوکری چھوڑ دو، میرا شوہر کہتا ہے کہ تمہارے پیسوں کا حقدار میں ہوں میرے سسرال والوں کا ارادہ بھی یہی ہے، شوہر کا کہنا ہے کہ اگر میں نے نوکری کی اجازت دی ہے تو پیسوں کا حقدار بھی میں ہوں، شوہر کہتا ہے کہ وہ کسی سے پوچھ کر بھی آیا ہے کہ میرے پیسوں کا حقدار وہ ہے۔
واضح ہو کہ شریعت نے شادی کے بعد عورت کے اخراجات کی ذمہ داری اس کے شوہر پر ڈالی ہے ، لہذا اگر یہ ذمہ داری سائلہ کا شوہر پوری کر رہا ہو اور وہ سائلہ کو ملازمت سے منع کرے تو سائلہ کے لئے ملازمت کی غرض سے گھر سے باہر نکلنا شرعاً جائز نہیں، البتہ اگر شوہر کی کمائی سے سائلہ کے ضروری اخراجات پورے نہ ہو رہے ہوں اور سائلہ پردہ اور شرعی حدود کی رعایت رکھتے ہوئے کوئی جائز ملازمت اختیار کرے اور شوہر بھی اس کی اجازت دے تو ایسی صورت میں اس کے لئے یہ ملازمت اختیار کرنے کی گنجائش ہو گی ، اور اس صورت میں سائلہ جو کچھ کمائے گی وہ اس کی ذاتی ملکیت ہے، جسے وہ جہاں چاہے خرچ کرنے کا اختیار رکھتی ہے شوہر یا سسرال والوں کو اس کے مطالبہ کا کوئی حق نہیں، تاہم اگر سائلہ اپنی مرضی و خوشی سے جو کچھ ان کو دینا چاہے تو اسے اس کا اختیار ہے۔
کمافی الدر المختار: ثم ذكر خلافا في المرأة مع زوجها إذا اجتمع بعملهما أموال كثيرة، فقيل هي للزوج وتكون المرأة معينة له، إلا إذا كان لها كسب على حدة فهو لها اھ(4/325)۔
وفیہ ایضاً: وفی البحر: لہ منعھا من الغزل وکل عمل ولو تبرعاً لاجنبی الخ
وفی الشامیۃ:(تحت قولہ: وکل عمل ولو تبرعاً لاجنبی) کذا ذکرہ فی البحر بحثا حیث قال: وینبغی عدم تخصیص الغزل،بل لہ ان یمنعھا من الاعمال تبرعاً المقتضیۃ للکسب،لانھا مستغنیۃ عنہ لوجوب کفایتھا علیہ وکذا من العمل تبرعاً لاجنبی بالاولیٰ اھ(5/330)۔