میری بیوی پچھلے تین ماہ سے اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ رہ رہی ہے اور میری غیر موجودگی میں بلا اجازت میکے چلی گئی ہے ، میں نے اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ، مگر اس نے مجھ سے رابطہ نہیں کیا اور نہ کرنا چاہتی ہے ، وہ چاہتی ہے کہ میں اس کے والد اور بھائی سے بات کروں ، میں ان سے بات نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ چوتھی بار ہے کہ وہ ایسا کر رہی ہے ، اور جب میں ان کے سامنے جاتا ہوں تو مجھے بے عزتی اور توہین محسوس ہوتی ہے، اس کے بھائی اور والد نے بھی چار پانچ ماہ قبل میری بے عزتی کی تھی ، اس نے میرے بچوں کو بھی اپنے ساتھ لے لیا اور عید الفطر اور عید الاضحی اپنے والدین کے ساتھ گزاری، اور مجھے بچوں سے ملنے نہیں دیا ، میرا ایک بیٹا ہے جس کی عمر پانچ سے آٹھ سال ہے اور بیٹی جس کی عمر پانچ ، چھ سال ہے ، اس نے کوئی معقول وجہ نہیں بتائی اور نہ ہی کھل کر مجھ سے بات کرتی ہے ، میں نے اپنی استطاعت کے مطابق اسے تمام سہولیات فراہم کیں ، میرے والدین بھی اب اس دنیا نہیں رہے ، میں اپنی بیوہ بہن اور اس کے بچے کے ساتھ رہتاہوں ، اور میری بیوی اور بچے میرے ساتھ نہیں ہے، ان تمام وجوہات کی بناء پر میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں کسی اور سے بات نہیں کرونگا سوائے اپنے بیوی کے ، میں اپنے بچوں کی غیر موجودگی میں بہت جذباتی ہوں، اور اس صورت حال میں اضطراب اور ڈپریشن محسوس کرتا ہوں، میرا سوال یہ ہے کہ اگرمیری بیوی واپس گھر آنے سے انکار کرتی ہے ، میری بات نہیں مانتی اور ازدواجی حقوق ادا نہیں کرتی تو کیا مجھے اسے چھوڑنا چاہیے یا نہیں؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور پر کہ سائل کی بیوی ا س کی اجازت اور رضامندی کے بغیر میکے جاکر بیٹھ گئی ہو اور سائل کو ان کے بچوں سے ملنے نہ دے رہی ہو تو ان کایہ طرز عمل قطعاً غلط اور غیر شرعی ہے ، اسی طرح سائل کا اس بات پر اصرار کرنا کہ میں اس مسئلہ کے حل کے لیے اپنے سسر اور برادر نسبتی سے با ت نہیں کروں گا، بھی مناسب نہیں بلکہ اس طرح کے رویہ سے میاں بیوی کا رشتہ متاثر ہوسکتا ہے ، اس لئے دونوں کو چاہیے کہ اپنے اپنے رویہ میں نرمی پیدا کر کے اپنا گھر بچانے کی کوشش کریں تاکہ ان کی انا اور ضد کی وجہ سے ان کے بچوں کا مستقبل خرا ب نہ ہو ۔
كمافي القران المجيد: وَٱلَّٰتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهۡجُرُوهُنَّ فِي ٱلۡمَضَاجِعِ وَٱضۡرِبُوهُنَّۖ فَإِنۡ أَطَعۡنَكُمۡ فَلَا تَبۡغُواْ عَلَيۡهِنَّ سَبِيلًاۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيّٗا كَبِيرٗا(سورة النساء، رقم الاية: ٣٤)
وفي الدر المختار مع التنوير الأبصار: وشرعا (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق، فخرج الفسوخ كخيار، عتق وبلوغ وردة فإنه فسخ لا طلاق، وبهذا علم أن عبارة الكنز والملتقى منقوضة طردا وعكسا بحر (وإيقاعه مباح) عند العامة لإطلاق الآيات أكمل (وقيل) قائله الكمال (الأصح حظره) (أي منعه) (إلا لحاجة) كريبة وكبر والمذهب الأول كما في البحر، اھ(کتاب الطلاق، ج: ٣، ص: ٢٢٦، مط: سعيد)
وفي رد المحتار: وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها،(كتاب الطلاق ، ج: ٣،ص: ٢٢٨، مط: سعيد)
وفي التاترخانية: وفسر الخصاف رحمه الله الناشزة فقال: ان الناشزة هي الخارجة من منزل زوجها المانعة نفسها منه ( كتاب النفقات، ج: ٥، ص: ٣٦٥، مط: رشيدية)