مرد پر والدین، بھائی بہن، بیوی بچوں کے حقوق واجبہ جنکے ادا نہ کرنے سے انسان گناہ گار ہوتا ہو، کب کب اور کیا کیا ہیں اسکی تفصیل؟
شوہر کا حکم بیوی کو(خاص طور پر اسکے ماں باپ کی خدمت کا اگر شوہر حکم دے تو)کس حد تک ماننا ضروری ہے(اس وجہ سے کہ بیوی پر شوہر کی اطاعت ضروری ہے)؟
کن کن صورتوں میں ماں کو بیوی پر ترجیح دی جائیگی؟
واضح ہو کہ ازروئے شرع مرد پر والدین ،بیوی،اولاد اور بقدر استطاعت دیگر اقارب کے بہت سے حقوق لازم ہوتے ہیں،چنانچہ والدین کی خدمت وکفالت ،بیوی کا نان ونفقہ وحسن سلوک ،اور اولاد کی پرورش وضروریات کی تکمیل سب شرعاً واجب ذمہ داریاں ہیں،جن میں لاپرواہی وغفلت برتنا گناۃ ہے۔ان حقوق وذمہ داریوں کی قدرے تفصیل ذیل میں درج کی جاتی ہے:(1)والدین کے حقوق میں ان کی خدمت ،ادب واحترام ،دل آزاری سے اجتناب ،اور ضرورت کے وقت مالی وعملی مدد شامل ہے،خصوصاً بڑھاپے میں اگر ان کے پاس اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے مال موجود نہ ہو تو بقدر استطاعت ان کی کفالت اولاد پر لازم ہوجاتی ہے۔(2)بیوی کے حقوق میں نان ونفقہ ،رہائش ،لباس ،حسن معاشرت اور ازدواجی حقوق کی ادائیگی شوہر پر لازم ہے ،اس میں کوتاہی جائز نہیں۔(3)اولاد کے حق میں ان کی پرورش ،تعلیم ،اخلاقی تربیت اور ان کے بلوغت کی عمر کو پہنچنے تک ضروری اخراجات کی فراہمی والد پر لازم ہوتی ہے۔(4)بہن بھائی محتاج اور ضرورت مند ہوں تو اپنی استطاعت کے مطابق صلہ رحمی کے طور پر ان کی مدد کرنا بھی حقوق وذمہ داریوں میں شامل ہے،قطع رحمی جائز نہیں۔جبکہ بیوی پر شوہر کی اطاعت شرعاً صرف ان امور میں لازم ہے جو جائز اور مباح ہوں۔چنانچہ بیوی پر اگر چہ شرعاً شوہر کے والدین (یعنی ساس،سسر)کی خدمت فرض نہیں ،لیکن اگر شوہر بیوی کو اپنے والدین (یعنی ساس سسر)کی خدمت کا حکم دے اور وہ خدمت عرفاً معمول کی ہو ،بیوی کی طاقت ورضا کے مطابق ہو اور اس پر کوئی غیر معمولی مشقت یا ضرر لازم نہ آتا ہو تو حسن اخلاق کا تقاضا یہی ہے کہ بیوی شوہر کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اس کے والدین کی خدمت کو اپنے لیے سعادت اور باعث اجر وثواب سمجھے۔لیکن اگر اس میں بیوی پر زائد بوجھ ،مشقت یا اس کے اپنے واجب حقوق (جیسے بچوں کی دیکھ بھال یا گھریلو فرائض)کی ادائیگی میں خلل واقع ہو تو اسے لازم قرار دینا بھی درست نہیں،لہذا میاں بیوی دونوں کو ایک دوسرے کی رعایت رکھتے ہوئے گھریلو امور باہمی تعاون وتناصر کے ساتھ انجام دینے چاہیے۔اسی طرح والدین اور بیوی کے حقوق میں تعارض کی صورت میں اصل اصول یہ ہے کہ کسی ایک فریق کے حق کو مکمل طور پر ساقط نہیں کیا جاسکتا ۔والدین کی خدمت اور کفالت اپنی جگہ لازم ہے،لیکن اس کے بہانے بیوی کے نان ونفقہ اور ضروری حقوق کو نظر انداز کرنا جائز نہیں،اور نہ ہی بیوی کے حقوق کی ادائیگی کے نام پر والدین کی حق تلفی درست ہے۔شریعت دونوں کے حقوق میں عدل اور توازن کا حکم دیتی ہے۔خلاصہ یہ ہےکہ مرد پر سب کے حقوق اپنی اپنی جگہ لازم ہیں،اور اسے چاہیے کہ حکمت ،عدل اور وسعت ظرفی کے ساتھ سب کے حقوق ادا کرے،کسی ایک طرف ایسا مکمل جھکاؤ اختیار کرنا کہ جس سے دوسرے کے حقوق ضائع ہوں،جائز نہیں۔جس سے بہر حال احتراز لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالی: وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنًاۚ (آیۃ 23،سورۃ اسراء)
و فی سنن ابن ماجہ: حدثنا سعيد بن عمارة، حدثني الحارث بن النعمان، سمعت أنس بن مالك يحدث، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "أكرموا أولادكم، وأحسنوا أدبهم"(باب حق الجوار،رقم الحدیث: 3671، ص:775،مط: دار الصدیق للنشر)
و فی الھندیہ: وتجب نفقة الإناث الكبار من ذوي الأرحام، وإن كن صحيحات البدن إذا كان بهن حاجة إلى النفقة كذا في الذخيرة اھ(الباب السابع عشر في النفقات،الفصل الخامس في نفقة ذوي الأرحام،ج: 1،ص: 566،مط: بیروت)
و فی الدر: وحقه عليها أن تطيعه في كل مباح يأمرها به، وله منعها من الغزل ومن أكل ما يتأذى من رائحته، بل ومن الحناء والنقش وإن تأذى برائحته نهر وتمامه فيما علقته على الملتقى اھ(كتاب النكاح،باب القسم بفتح القاف،ج: 3،ص: 201،مط: دار الفکر بیروت)
و فی الموسوعۃ الفقھیہ: تجب للزوجة النفقة على زوجها، لقول الله تعالى: {وعلى المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف،(باب النفقہ،ج: 41،ص: 317،مط: دار السلاسل)