السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب !کاروبار کے متعلق کچھ سوالات کرنے تھے، اگر ہماری تجارت کافروں سے ہو، اور ہمارے سامان کے بدلے وہ سود وغیرہ کا پیسہ دیں ،تو کیا ہمارے لیےان لوگوں سے سود کا پیسہ لینا درست ہوگا ؟اور اسی طرح کچھ لوگوں کی شراب وغیرہ کی دکانیں ہوتی ہیں، اور ہمیں لگتا ہے وہاں سے وہ جو کماتے ہیں، ہمیں وہی پیسہ دیتے ہیں ،ہمارے سروسز کے بدلے ،تو کیا یہ بھی ٹھیک ہوگا ؟یعنی کہ کافر ہمیں اپنی سروسز کے بدلے پیسے دیتے ہیں کچھ میں تو غالب گمان ہوتا ہے ،اور کچھ میں نہیں کہ وہ ہمیں حرام(سود وغیرہ) آمدنی کے پیسے دے رہے ہیں اسکا حکم کیا ہے ؟
سائل کفار کو جو سروسز فراہم کرتا ہے ، اگر وہ ہمارے دین اور شریعت کے اعتبار سے جائز اور قابلِ عوض ہوں ،تو اس کے بدلے ان کافروں سے پیسے لینا جائز ہے ، اگر چہ وہ کافر ان پیسوں کا مالک غیر شرعی کسی کام کے نتیجہ میں بنا ہو ۔
کما فی اعلاء السنن: عن سوید بن غفلۃ: أن بلالا قال لعمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ إن عما لک یأخذون الخمر، والخنازیر في الخراج، فقال: لا تأخذوھا منھم ولکن ولو ھم ببیعھا وخذوا أنتم من الثمن، وقال أبو عبید: یرید أن المسلمین کانو یأخذون من أھل الذمۃ الخمر و الخنزیر من جزیۃ رووسھم و خراج أرضیھم بقیمتھا ثم یتولی المسلمون بیعھا ، فھذا الذي أنکرہ بلال، ونھی عنہ عمر، ثم رخص لھم أن یأخذوا ذلک من أثمانھا، إذا کان أھل الذمۃ المتولین لبیعھا؛ لأن الخمر، والخنزیر مال من أموال أھل الذمۃ ولاتکون مالا للمسلمین، فھذا عمر قد أجاز لأھل الذمۃ بیع الخمر، والخنازیر، وأجاز للمسلمین أخذ أثمانھا في الجزیۃ، والخراج، وذلک بمحضر من الصحابۃ، ولم ینکر علیہ منکر الخ (کتاب البیوع،باب بیع الفاسد ج: 14،ص111، ط: ادارۃ القرآن و العلوم الإسلامیۃ)۔
و فی الدر المختار: (و جاز أخذ دین علی کافر من ثمن خمر) لصحۃ بیعہ) الخ۔ٔ
و فی الشامیۃ تحت: ( قولہ من ثمن خمر ) بأن باع الکافر خمرا و أخذ ثمنھا و قضی بہ الدین ( قولہ لصحۃ بیعہ )أي بیع الکافر الخمر لأنھا مال متقوم في حقہ فملک الثمن فیحل الأخذ منہ بخلاف المسلم لعدم تقومھا فی حقہ فتبقی الثمن علی ملک المشتری الخ( کتاب الحظر والإباحۃ، باب الاستبراء وغیرہ، فصل في البیع،ط: سعید)۔