میں پرائیویٹ ہسپتال میں کام کرنے والا ڈاکٹرہو ں، میں اپنے تشخیصی مقصد کے لیے مریض سے سی بی سی مانگتا ہوں ، اور یہ میں صرف اپنے تشخیصی ارادے کے لیے کرتا ہوں لیکن ہسپتال مہینے کے آخر میں مجھے کچھ پیسے دے دیتا ہے ، کیا مجھے یہ کمیشن قبول کر لینا چاہیے ؟ یہ پرائیویٹ ہسپتال ہے جس میں میں شیئر کی بنیاد پر ڈاکٹر کے طور پر کام کرتا ہوں، اور ماہانہ پیسے مقرر نہیں کرتا ہوں، اور میں کسی دوسری مخصوص لیب یا ادویات کے سودوں سے کوئی رقم نہیں لیتا، اور چونکہ ہسپتال لیب پیش کرتا ہے، یہ مریض کے لیے بھی آسان ہے، برائے مہربانی اسلامی اصول و ضوابط بتائیں۔
واضح ہو کہ مریض کیلئے مفید دوا تجویز کرنا،حسبِ ضرورت ٹیسٹ کرانا،کسی اور بہتر ہسپتال یا ڈاکٹر کو ریفر کرنا ڈاکٹر /معالج کے ذمہ داریوں میں شامل ہے،جبکہ بلا ضرورت ٹیسٹ لکھنا،غیر معتبر لیب کی طرف رہنمائی کرنا دھوکہ دہی اور خیانت ہےاور اس کی وجہ سے حاصل شدہ تحائف یا کمیشن وغیرہ شرعاً حلال نہ ہوگا،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل اگر واقعۃً فقط تشخیصی ضرورت کی بنیاد پر مریضوں سے سی بی سی طلب کرتا ہو اور وہ مریضوں کو اسی لیب سے ٹیسٹ کروانے پر مجبور نہ کرتا ہو اور نہ ہی اس کمیشن یا ہدیہ کی وجہ سے لیب والے مریضوں سے ٹیسٹ کی زیادہ قیمت وصول کرتے ہوں،تو ایسی صورت میں ہسپتال کے انتظامیہ کی جانب سے مہینہ کے آخر میں اپنی رضامندی و خوشی سے رقم دینا ہدیہ/گفٹ شمار ہوگا(اگرچہ بنام کمیشن دیتے ہوں)بشرطیکہ ہدیہ کا یہ لین دین فریقین ہر ماہ لازم نہ سمجھتے ہوں، بلکہ اپنی خوشی سے کبھی دیا اور کبھی نہ بھی دیا تو ڈاکٹر حضرات کو کوئی اعتراض نہ ہو،لہذا اس طرح یہ رقم دینا اور سائل کا اسے لینا ہر دو امور جائز و درست ہے،شرعاً اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
کما قال اللہ تعالی: ولاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل إلخ(البقرۃ: 188)
وفی أحکام القرآن للجصاص تحت قولہ تعالی: ( ولاتأکلوا اموالکم بینکم بالباطل وتدلوا بھا الی الحکام لتأکلوا فریقاً من اموال الناس بالاثم ) والمراد واللہ اعلم لایاکل بعضکم مال بعض بالباطل(إلی قولہ) واکل المال بالباطل علی وجھین: احدھما علی وجہ الظلم والسرقۃ والخیانۃ والغصب وما جری مجراہ إلخ( باب ما یحلہ حکم الحاکم ومالایحلہ، ج: 1، ص: 250۔251، ط: سھیل اکیدمی لاھور )۔
و فی جامع الترمذی: عن أبی بکر الصدیق رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہﷺ: (( ملعون من ضار مؤمنا أو مکر بہ )) إلخ( أبواب البر والصلۃ، باب ماجاء فی الخیانۃ والغش، ج: 2، ص: 696، ط: البشری )۔
وفی الھندیۃ: أما تفسیرھا فھی تملیک عین بلا عوض کذا فی الکنز و أما رکنھا فقول الواھب و ھبت لأنہ تملیک و إنما یتم بالمالک وحدہ و القبول شرط ثبوت الملک للموھوب لہ۔إلخ( کتاب الھبۃ، الباب الأول فی تفسیر الھبۃ إلخ، ج: 4، ص: 374، ط: مکتبہ ماجدیۃ)۔