موضوع:آن لائن ٹاسک بیسڈ کمائی اور ریفرل کمیشن کی شرعی حیثیت
محترم مفتی صاحب!السلام علیکم!
ایک آن لائن کمپنی "Kastner London" یا "KAS App" پاکستان میں کام کر رہی ہے۔ یہ کمپنی لوگوں سے ابتدائی رقم (3400 روپے) لے کر انہیں روزانہ ٹاسک دیتی ہے (مثلاً ایپ انسٹال کرنا، اشتہارات دیکھنا وغیرہ)۔ ان ٹاسک کے مکمل کرنے پر روزانہ 110 روپے دیے جاتے ہیں، بصورت دیگر کچھ نہیں دیا جاتا۔اسی کمپنی میں ریفر کرنے (مزید لوگوں کو شامل کرنے) پر بھی کمیشن دیا جاتا ہے۔ سرمایہ جتنا زیادہ ہو، آمدنی اتنی ہی زیادہ ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔میرا سوال یہ ہے:
1. کیا اس قسم کے کاروبار میں کام کرنا شرعاً جائز ہے؟
2. کیا یہ آمدنی حلال ہے جب کہ کمائی کا دار و مدار ریفرلز اور ممبرشپ پر ہو؟
3. اگر کمپنی اصل میں کسی کاروبار میں رقم لگاتی ہو، تو کیا پھر بھی یہ ماڈل جائز ہوگا؟
برائے کرم شرعی رہنمائی فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔شکریہ !
صورت مسئولہ میں کمپنی کا اصل کاروبار جس کے لیے وہ لوگوں کو ممبر بننے کی دعوت دیتی ہے، وہ ایڈز دیکھ کر کمائی کرنا ہے (چاہے ممبر شپ انویسٹمنٹ میں ہو یا نیٹ ورک مارکیٹنگ میں ہو)، جس میں شرعی اعتبار سے کئی خرابیاں پائی جاتی ہیں۔
(1) ایڈز دیکھنا کوئی ایسا عمل نہیں جسے اجارہ کو معقود علیہ قرار دیا جاسکے، اور ایڈز دیکھنے والے ممبر کو اس پر اجرت کا مستحق ٹھہرایا جاسکے۔
(2) بہت سے اشتہارات غیر شرعی امور پر بھی مشتمل ہوتے ہیں۔
(3) مصنوعی طریقہ سے ویوز کی تعداد کو بڑھا کر دیکھایا جاتا ہے، جو کہ دھوکہ دہی کے زمرہ میں آتا ہے۔
(4) مذکور کمپنی کے ساتھ کاروبار کی خرابی اور بھی بڑھ جاتی ہے، جبکہ اس میں نیٹ ورک مارکیٹنگ بھی پائی جاتی ہو۔
نیز ملنے والی رقم درحقیقت اشتہاردیکھنے کی اجرت ہوتی ہے، جس کی واضح دلیل یہ ہے کہ اشتہارات نہ دیکھنے کی صورت میں منافع میں کمی ہوجاتی ہے،لہذا خوداس کمپنی کا ممبر بننا اور کسی دوسرے کو ممبر بننے کی دعوت دینا جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔( ماخوذ از تبویب)
کما فی الدرالمختار: هي) لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية وسيجيء الخ و فی ردالمحتار: تحت (قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية، وشمل ما يقصد ولو لغيره لما سيأتي عن البحر من جواز استئجار الأرض مقيلا ومراحا، فإن مقصوده الاستئجار للزراعة مثلا، ويذكر ذلك حيلة للزومها إذا لم يمكن زرعها تأمل الخ ( باب الاجارۃ ج:6 ص:4 ناشر: حلبی)۔
وفی فقہ البیوع: ان کان بیع المنتج مشروطا بان یدخل الشتری فی شبکة التسویق ، فہذا البیع فاسد، الاشتراط مالا یقتضیہ العقد الخ (البیع عن طریق شبکۃ التسویق ج:2 ص:815 ناشر:مکتبہ معارف القرآن)