ہم سات بہنیں اور ایک بھائی ہیں۔والد صاحب کی آمدن نہ ہونے کے برابر تھی۔ہم لوگ مجموعی فیملی سسٹم ،جس میں دو چاچو جن کی شادی نہیں ہو سکی تھی۔ایک پھوپی اور پھوپھا اور ایک چاچو پر مشتمل تھی،ہماری پھوپی کی اولاد نہیں تھی۔اسنے ہمیں پالنے میں ہماری ماؤں کی مدد کی،اور گھر کا تمام انتظام اپنے ہاتھ میں رکھا، بہنوں کی شادیاں وغیرہ کیں۔میری شادی چچا زاد سے ہوئی اور میں اسی گھر میں رہ رہی ہوں،اب والدہ چچی اور پھوپھی بوڑھی ہو چکی ہیں،اور ایک دوسرے کی شدید دشمن،ماں کو بلا لو تو پھوپھی ناراض،اور پھر شدید ہنگامہ،یوں ہماری زندگی بہت مشکل ہو گئی ہے،پھوپی کہتی ہے میں نے پڑھایا ،شادی کی،غرض ان طعنوں کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگیوں سے نفرت ہو گئی ہے،اب کس کا کہنا مانیں،اور کیا کریں،مرد تمام ہمیشہ خاموش رہتے ہیں، دو بہنیں ابھی غیر شادی شدہ ہیں۔ہمارا برا حال ہے،ہر وقت کے جھگڑے سے میرے بچے اور شوہر بھی پریشان ہیں،ہم کیا کریں؟
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کی پھوپھی کا سائلہ اور اس کی بہنوں کی پرورش کی وجہ سے سائلہ پر اپنا حق جتانا اور سائلہ کی والدہ کو گھر آنے سے روکنا یا سائلہ کو اپنی والدہ سے قطعِ تعلق پر مجبور کرنا اورایسا نہ کرنے کی صورت میں بے جا طعن و تشنیع کا نشانہ بنانا شرعاًناجائز طرزِ عمل ہے،جس کی وجہ سے سائلہ کی پھوپھی سخت گنہگار ہورہی ہے،اس پر لازم ہے کہ ا پنی ان حرکات سے باز آئے ،تاکہ حقوق العباد کی پامالی اور مؤاخذہ اخروی سے بچاؤ ممکن ہوسکے۔
كما في القرآن الكريم : وقضى ربّك الّا تعبدوا الّا ايّاه و بالوالدين احسانا امّا يبلغن عندك الكبر أحدهما أو كلاهما فلا تقل لهما افّ ولا تنهرهما وقل لهما قولاكریما و اخفض لهما جناح الذّل من الرّحمة وقل رّب ارحمهما كما ربّیاني صغيراً (الاسراء: ۲٣ ، ٢٤،)
وفي آية اخرٰى : ووصّينا الانسان بوالديه احسانا (الاحقاف ١٠)
وفی صحیح البخاری :عن أبي هريرة رضي اللہ عنه قال:جاء رجل إلى رسول اللہﷺفقال: يا رسول اللہ، من أحق الناس بحسن صحابتي؟ قال: (أمّك). قال: ثمّ من؟ قال: (ثمّ أمّك). قال: ثمّ من؟ قال: (ثم أمّك). قال: ثمّ من؟ قال: (ثمّ أبوك)، (كتاب الاداب،باب من احق بحسن الصحبة،ج: ٤،ص:٢٦٦٦،م:البشرٰی)
وفی سنن الترمذی: عن زربي، قال: سمعت أنس بن مالك يقول: «جاء شيخ» يريد النبيﷺفأبطأ القوم عنه أن يوسعوا له فقال النبيﷺ: ليس منّا من لم يرحم صغيرنا ولم يوقّر كبيرنا۔(باب ماجاءفي رحمة الصّبيان،ج:٢،ص:
٦٩١،م:البشرى)
وفي المشكوٰۃ:وعن أنس قال: قال رسول اللهﷺ: «المرأة إذا صلت خمسها وصامت شهرها وأحصنت فرجها وأطاعت بعلها فلتدخل من أيّ أبواب الجنّة شاءت» . رواه أبو نعيم في الحلية۔(باب عشرۃالنساءومالکلّ واحد منالحقوق،ص:٢٨١،م:قدیم