السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ! میں ایک آن لائن سرگرمی میں شریک ہوں، جس کے آغاز میں مجھ سے 2520 ٹَکا کی سرمایہ کاری کروائی گئی، اس کے بعد مجھے روزانہ 5 اشتہارات (ایڈز) دیکھنے کی اجازت دی جاتی ہے، اور ہر اشتہار کے بدلے میں 18 ٹَکا دیے جاتے ہیں، یعنی یومیہ 90 ٹَکا، کہا گیا ہے کہ یہ سلسلہ پورے ایک سال تک جاری رہے گا، جب میں منافع نکالتا ہوں تو مجھ سے کچھ رقم بطور فیس یا چارجز کاٹی جاتی ہے، مجھے شبہ ہے کہ آیا یہ آمدنی شریعتِ اسلامی کے مطابق حلال ہے یا حرام ؟ لہٰذا مہربانی فرما کر درج ذیل سوالات کے مفصل جواب دیجئے۔ 1: کیا یہ آمدنی حلال ہے یا حرام؟ 2: کیا اس میں جو منافع سرمایہ کاری پر مل رہا ہے، وہ سود (ربا) کے زمرے میں آتا ہے؟ 3: ایسی کون سی شرائط ہیں جن کی بنیاد پر یہ عمل جائز (حلال) ہو سکتا ہے؟
سائل نے جس کا روبار کے بارے میں پوچھا ہے، آج کل اس نوعیت کا کاروبار بہت عام ہے ، جس میں کمپنی کا اصل کاروبار جس کے لئے وہ لوگوں کو ممبر بننے کی دعوت دیتی ہے ، وہ ایڈز دیکھ کر کمائی کرنا ہے (چاہے ممبر شپ انویسٹمنٹ میں ہو یا نیٹ ورک مارکیٹنگ میں ہو)، جس میں شرعی اعتبار سے کئی خرابیاں پائی جاتی ہیں:
1 : ایڈز دیکھنا کوئی ایسا عمل نہیں جسے اجارہ کا معقود علیہ قرار دیا جا سکے، اور ایڈز دیکھنے والے ممبر کو اس پر اجرت کا مستحق ٹھہرایا جا سکے۔
2 : بہت سے اشتہارات غیر شرعی امور پر بھی مشتمل ہوتے ہیں۔
3 : مصنوعی طریقہ سے ویورز کی تعداد کو بڑھا کر دکھایا جاتا ہے جو کہ دھو کہ دہی کے زمرہ میں آتا ہے۔
4 : مذکور کمپنی کے ساتھ کاروبار کی خرابی اور بھی بڑھ جاتی ہے، جبکہ اس میں نیٹ ورک مارکیٹنگ بھی پائی جاتی ہو۔
لہذا خود اس کمپنی کا ممبر بننا اور کسی دوسرے کو اس کا ممبر بننے کی دعوت دینا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی سنن الترمذی : عن أبی هريرة أن رسول الله ﷺ مر على صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: يا صاحب الطعام، ما هذا ؟ قال: أصابته السماء يا رسول الله قال: أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس ثم قال: من غش فليس منا الخ (کتاب الایمان ، ج: 1 ، ص: 70 ، ط: سعید)ـ
و فی بدائع الصنائع : (و منها) : أن يكون الربح جزأ شائعا فی الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائةً، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد يقتضی تحقق الشركة فی الربح و التعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشرکۃ فی الربح الخ (كتاب الشركة، ج: 6 ،ص: 59 ، ط: ایچ-ایم-سعید)ـ۔
و فی الدر المختار : (و كون الربح بينهما شائعا) فلو عين قدرا فسدت الخ (کتاب المضاربة ، ج: 5 ، ص: 648 ، ط: ایچ-ایم-سعید)۔
وفي الدر المختار: (هي) لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية وسيجيء اھ
و في رد المحتار : تحت : (قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية، وشمل ما يقصد ولو لغيره لما سيأتي عن البحر من جواز استئجار الأرض مقيلا ومراحا، فإن مقصوده الاستئجار للزراعة مثلا، ويذكر ذلك حيلة للزومها إذا لم يمكن زرعها تأمل اھ (کتاب الاجارۃ ، ج: 6 ، ص: 4 ، ط: سعید)ـ