السلام علیکم
میرا سوال یہ ہے کہ میرا میری کزن کے ساتھ رشتہ ہوا تھا، جب رشتہ ہوا تھا تو سب کی رضامندی شامل تھی ،میری کزن کی بھی رضامندی اس چیز میں شامل تھی، لیکن جب شادی کا ٹائم آیا تو عین موقع پر اس نے اپنے والدین کو شادی سے منع کر دیا، اس بات کا مجھے علم نہیں تھا، چنانچہ ہماری شادی ہو گئی، اب شادی کے بعد کہتی ہے کہ شادی میں میری رضامندی نہیں تھی، میرے گھر والوں نے میرے ساتھ زبردستی کی ہے، اب شادی کے بعد میں اپنی تمام تر ذمہ داریاں اچھے طریقے سے سر انجام دے رہا ہوں، اپنے تمام فرائض بھی انجام دے رہا ہوں ،لیکن میری بیوی کسی بھی طرح میرے ساتھ کو اپریٹ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، وہ اپنا کوئی بھی حق ادا نہیں کر رہی ہے، نہ ہی میرے ساتھ ازواجی تعلقات قائم کرتی ہے، نہ اسے میری کوئی فکر ہے ،میرا ہونا یا نہ ہونا اس کے لیے ایک برابر ہے، اس کا رویہ بہت برا ہے، ہر چیز پہ بدتمیزی کرتی ہے، مجھے نظر انداز کرتی ہے، جب کال یا میسج کروں تو اس کا بھی جواب نہیں دیتی، میں نے بہت بار اس کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ایسا نہیں ہوتا، دونوں کو مل کے چلنا ہوتا ہے ،لیکن اس نے ہر دفعہ بدتمیزی کی اور چنانچہ اس رویے سے تنگ ا کر میں نے ایک دن غصے میں اس کے اوپر ہاتھ اٹھا لیا ،میں نے اس کو مارا نہیں، صرف ہاتھ ہی اٹھایا تھا، لیکن اس نے اس ہاتھ اٹھانے کو ایک بہانہ بنا کر رشتے کو اتنا تناؤ دیا ہوا ہے، اب وہ کسی بھی بات پر نہیں آ رہی، نہ وہ یہ بتا رہی ہے کہ میں نبھانا چاہ رہی ہوں ،نہ وہ کچھ کہہ رہی ہے ،بس سر درد اور عذاب بنی ہوئی ہے ،چنانچہ میری رہنمائی فرمائیں کہ اس کے ماں باپ نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہوئی ہے یا میری طرف سے زیادتی ہوئی ہے یا وہ خود اپنے ساتھ زیادتی کر رہی ہے؟ اس طرح کے رشتے میں کیا کرنا چاہئیے؟
واضح ہوکہ عاقلہ بالغہ لڑکی کی رضامندی کے بغیر گھر والوں کا جبراً ان کا نکاح کسی سے کروانا درست نہیں، تاہم اگر نکاح ہوجائے،اورنکاح کے وقت لڑکی رضامندی کااظہار بھی کردے،اگرچہ با دلِ نخواستہ ہی کیوں نہ ہو ، تو ایسی صورت میں یہ نکاح شرعاً بھی درست شمار ہوگا،جس کے بعد بیوی کاشوہر سے بدتمیزی کرنااوراس کےحقوق کی ادائیگی نہ کرناشرعاً ناجائز ہے،ایسا کرنے کی وجہ سے بیوی گنہگار ہورہی ہے،اوراسے اپنے طرزِ عمل سے احتراز لازم ہے،لیکن اگر بیوی اپنے اس رویّہ سے باز نہ آئے،اورشوہر کیلئے حدوداللہ کی رعایت رکھتے ہوئے اس کے ساتھ گزارہ ممکن نہ ہو،توایسی صورت میں مناسب طریقے سے علیحدگی بھی اختیار کی جاسکتی ہے،اور ایساکرنے سے سائل گنہگار بھی نہ ہوگا،چنانچہ سائل اس کو ایسی پاکی میں جس میں ہمبستری نہ کی ہو،ایک طلاق دیدے ،اور عدت کے اختتام تک انتظار کرے،اگر اس دوران وہ اپنی غلطی اور اس رویّہ سے توبہ تائب ہوکر آئندہ کیلئے دوبارہ اس قسم کے ناجائز کاموں سے بچنے کا پختہ عزم کرتے ہوئے سائل کو یقین دہانی کرادے،اور سائل کو بھی اس کی توبہ پر اعتماد ہو تو دورانِ عدت رجوع کرلے، ورنہ بصوررتِ دیگر عدت گزرنے پر دونوں کا نکاح بالکل ختم ہوجائے گا،اورعورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
کما فی سنن ابی داوٗد:عن ابن عمر عن النبی ﷺقال "ابغض الحلال الی اللہ عزّوجلّ الطلاق"(کتاب الطلاق،باب فی کراھیۃ الطلاق،ج:1،ص:911، م : البشرٰی۔)
وفی الدرالمختار:وقولھم الاصل انّ الشارع ترک ھذا الاصل فاباحہ،بل یستحب لو مؤذیۃ اوتارکۃ صلاۃ غایۃ۔وفی الشامی تحت (قولہ لومؤذیۃ)اطلقہ فشمل المؤذیۃ لہ او لغیرہ بقولھا او بفعلھا ط۔(کتاب الطلاق ،ج:3،ص: 228،229، م: کراچی)
وفیہ ایضاً:(ویکرہ ان یدعوالرجل اباہ وان تدعوالمراۃ زوجھا باسمہ،)(کتاب الحظرو الاباحۃ،فصل فی البیع،ج:6،ص::418،م:کراچی۔)
وفیہ ایضاً: (ولا تجبر البالغة البكر على النكاح) لانقطاع الولاية بالبلوغ (فإن استأذنها هو) أي الولي وهو السنة الخ وفي الشامي:تحت (قوله وهو السنة) بأن يقول لها قبل النكاح فلان يخطبك أو يذكرك فسكتت، وإن زوجها بغير استئمار فقد أخطأ السنة وتوقف على رضاها بحر عن المحيط۔(باب الولی،ج:3،ص:58، م: کراچی۔)
وفی بدائع الصنائع: فقال محمد: ينعقد النكاح بعبارتها وينفذ بإذن الولي وإجازته، وينعقد بعبارة الولي وينفذ بإذنها وإجازتها۔(فصل فی ولایۃ الندب الاستحباب ،ج:2، ص:247،م:سعید ۔)
وفی الھندیۃ:لایجوزنکاح احدعلی بالغۃ صحیحۃ العقل من اب اوسلطان بغیر اذنھا بکراًکانت اوثیباًفان فعل ذلک فالنکاح موقوف علی اجازتھا فان اجازتہ جاز وان ردتہ بطل کذافی السراج الوھاج۔(الباب الرابع فی الاولیاء،ج:1،ص: 287،م:ماجدیۃ۔)