میں 28 سالہ گھریلو خاتون ہوں، میرے 3 بچے ہیں جن کی عمریں 9 سال، 8 سال اور 5 سال ہیں۔ مجھے گھر کے سارے کام خود کرنے ہوتے ہیں، بچوں کو پڑھانا ہوتا ہے اور اپنی ساس کی دیکھ بھال بھی کرنی ہوتی ہے کیونکہ ان کا ایک ہاتھ فالج کی وجہ سے مفلوج ہے۔ کوئی مجھے میرے معمولات بدلنے پر مجبور نہیں کرتا اور میں اپنے وقت اور رفتار کے مطابق سب کچھ کرتی ہوں۔ ہم جس گھر میں رہتے ہیں وہ میری ساس کا ہے۔ میرا شوہر ان کے ساتھ ہی رہتا ہے کیونکہ وہ اکیلا بیٹا ہے۔ اس کی ایک بہن ہے جو شادی شدہ ہے۔
میرا شوہر موٹروے پولیس میں سرکاری ملازمت کرتا ہے۔ وہ روزانہ تقریباً 50 کلومیٹر سفر کر کے ڈیوٹی پر جاتا ہے۔ اس کی ڈیوٹی 8 گھنٹے کی گشت پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس کا شفٹ سسٹم کچھ اس طرح ہے: 4 رات کی شفٹیں (10 بجے رات سے 6 بجے صبح)، 4 دن شام کی شفٹیں (2 بجے دوپہر سے 10 بجے رات) اور 4 دن صبح کی شفٹیں (6 بجے صبح سے 2 بجے دوپہر)، اور یہ چکر بغیر کسی وقفے کے بار بار چلتا رہتا ہے۔ اسے عموماً ہر 24 دن یا اس سے زیادہ بعد 4 دن کی چھٹی ملتی ہے۔ اس کا کام حادثات کو سنبھالنا، ٹریفک کے لیے ڈائیورشن لگانا، قانون توڑنے والوں کو چالان کرنا اور خراب گاڑیوں کی مدد کرنا ہے۔
اس کی بہن جو ڈاکٹر ہے، شادی شدہ ہے اور اس کا ایک 3 سال کا بیٹا ہے، وہ اپنی تربیت کی وجہ سے ایک سال سے ہمارے ساتھ رہ رہی ہے۔ وہ روزانہ تقریباً 80 کلومیٹر کا سفر کر کے کام پر جاتی ہے۔ وہ گھر کا کوئی کام نہیں کرتی۔ اس کا شوہر آرمی ڈاکٹر ہے اور جب وہ چھٹی پر آتا ہے تو ہمارے ساتھ ہی رہتا ہے۔
مجھے اکثر حسد محسوس ہوتا ہے جب وہ اور اس کا شوہر سیر و تفریح، کھانے پینے یا گھومنے پھرنے جاتے ہیں، کیونکہ جب میں اپنے شوہر سے ایسا کہتی ہوں تو وہ جواب دیتا ہے کہ نہ اس کے پاس چھٹیاں ہیں، نہ پیسے، اور نہ ہی اسے باہر کھانا پسند ہے۔ البتہ وہ اکثر گھر پر کھانا منگوا لیتا ہے اور ہم مہینے میں تین بار سے زیادہ باہر کا کھانا گھر پر منگوا لیتے ہیں۔ وہ یہ دلیل دیتا ہے کہ ہم اچھا کھانا کھا رہے ہیں، اچھے کپڑے پہن رہے ہیں، اچھے گھر میں رہ رہے ہیں، اور بچے اچھی اسکول میں پڑھ رہے ہیں۔ وہ ہمیشہ کہتا ہے کہ اپنی زندگی اس کی بہن سے مت ملاؤ کیونکہ وہ اور اس کا شوہر دونوں کما رہے ہیں، ان کا بچہ ابھی اسکول نہیں جاتا، اور انہیں آسانی سے چھٹیاں مل جاتی ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ وہ حلال روزی کماتا ہے اور ہمیں اپنی زندگی اسی کے مطابق گزارنی چاہیے۔
وہ میرے کپڑوں اور ضروریات کے اخراجات اٹھاتا ہے اور مجھے ماہانہ جیب خرچ بھی دیتا ہے۔ جب میں کہتی ہوں کہ میں بھی کوئی نوکری کر لوں تو وہ منع کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ اتنا کما رہا ہے کہ ہمیں آرام دہ زندگی گزارنے کے لیے کافی ہے۔ وہ گھر کے کاموں میں ہاتھ نہیں بٹاتا اور کہتا ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹی سے بہت تھکا ہوا ہوتا ہے اور گھر کے کام صرف ان 4 دنوں میں کرے گا جب اسے ماہانہ چھٹی ملتی ہے۔
ہم میں تقریباً ہر ہفتے لڑائی ہو جاتی ہے کیونکہ میں اسے روزمرہ کی یکسانیت سے نکلنے پر زور دیتی ہوں۔ وہ گھر کے اندر کی سرگرمیوں کے لیے تو تیار ہوتا ہے لیکن باہر جانے کے لیے نہیں۔ اسے پسند نہیں کہ میں عوامی جگہ پر بیٹھ کر دوسرے مردوں کے سامنے کھانا کھاؤں۔ ہمارے گھر کے قریب کوئی خاص جگہ نہیں جہاں سیر کے لیے جایا جا سکے، اور چونکہ ہم جی ٹی روڈ کے قریب رہتے ہیں، اس لیے ٹریفک اور گرد و غبار بہت زیادہ ہے۔
اس کے باوجود وہ میرے ساتھ بیٹھتا ہے، محبت کرتا ہے، سمجھانے کی کوشش کرتا ہے، کھیل کھیلتا ہے۔
میں جاننا چاہتی ہوں کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مجھے کیا کرنا چاہیے — کیا وہ غلط ہے یا میں غلط ہوں؟
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق سائلہ کاشوہر چونکہ سائلہ کے تمام حقوق ادا کر رہا ہے ،جس کے بعد سائلہ کے لئے شوہر کی بہن کی لائف اسٹائل دیکھ کر اپنے شوہر سے مزید مطالبات کرنا،اور اسکی وجہ سے اپنے شوہر سے لڑ جھگڑ کراسے پریشان کرنا شرعاً نافرمانی اور گناہ کے زمرہ میں آتاہے۔لہذا سائلہ کو چاہیئے کہ انہی موجود حالت پر شکر ادا کرکےاللہ تعالیٰ کی فرمانبرداربندی بنے تاہم شوہر کو بھی چاہیئے کہ وہ حسب استطاعت گھریلو معاملات وغیرہ دیگر امور میں سائلہ کی دلجوئی کا خیال رکھے تاکہ وہ کسی طرح احساس محرومی اور احساس کمتری کا شکار نہ ہو۔
کما فی سنن ابن ماجۃ: عن سعيد بن المسيب عن عائشة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "لو أمرت أحدا أن يسجد لأحد، لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها، ولو أن رجلا أمر امرأته أن تنقل من جبل أحمر إلى جبل أسود، ومن جبل أسود إلى جبل أحمر، لكان نولها أن تفعل"( باب حق الزوج على المرأة، رقم الحدیث: 1852، مط: دار الرسالۃ العالمیۃ)
وفی الشامیۃ: قال في البحر: واتفقوا على وجوب نفقة الموسرين إذا كانا موسرين، وعلى نفقة المعسرين إذا كانا معسرين، وإنما الاختلاف فيما إذا كان أحدهما موسرا والآخر معسرا، فعلى ظاهر الرواية الاعتبار لحال الرجل، فإن كان موسرا وهي معسرة فعليه نفقة الموسرين، وفي عكسه نفقة المعسرين. وأما على المفتى به فتجب نفقة الوسط في المسألتين وهو فوق نفقة المعسرة ودون نفقة الموسرة.اہ (باب النفقۃ، ج: 3، ص: 575، مط: سعید )