اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مفتی صاحب
امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ مجھے ایک مسئلے کا مکمل شرعی جواب چاہیے۔
میری شادی کو ماشاءاللہ تقریباً پندرہ سال ہو چکے ہیں۔ ہمارے دو بیٹے ہیں۔ ایک بیٹے کی عمر سات سال ہے اور دوسرے کی پانچ سال۔ دونوں ہمارے ساتھ ایک ہی کمرے میں سوتے ہیں۔ اس صورتحال میں بچوں کی پرائیویسی برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
میں یہ بھی واضح کرنا چاہتی ہوں کہ شوہر کے والدین کے ساتھ رہنے میں مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے، بس ہمیں ایک بڑا گھر چاہیے جہاں بیٹوں کا الگ کمرہ ہو اور ہم سب مناسب طریقے سے رہ سکیں۔
میری خواہش ہے کہ ہم علیحدہ گھر لیں یا ایک بڑا گھر لے لیں تاکہ بچوں کی تربیت، ہماری ازدواجی زندگی اور گھر کا نظام بہتر طریقے سے چل سکے۔ لیکن میرے شوہر کا کہنا ہے کہ اگر آپ مجھے قرآن و حدیث سے کوئی مضبوط دلیل دے دیں کہ علیحدہ یا بڑا گھر لینا شرعاً جائز ہے، تو وہ یہ قدم اٹھانے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ والدین کے ساتھ رہنا ان کی ذمہ داری بھی ہے، جس سے میں متفق ہوں — بس جگہ کم ہونے کی وجہ سے پریشانی ہے۔
براہ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں کہ:
1. میاں بیوی کا مناسب گھر یا علیحدہ گھر کا مطالبہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
2. جب بچے سات اور پانچ سال کے ہوں، اور والدین کے ساتھ ایک ہی کمرے میں سوتے ہوں، تو شرعی اعتبار سے کیا حکم بنتا ہے؟
3. اگر والدین کے ساتھ رہتے ہوئے بڑا گھر لے لیا جائے تاکہ ان کے قریب بھی رہیں اور بچوں کی پرائیویسی بھی قائم رہے — کیا یہ درست ہے؟
محترم مفتی صاحب! آپ سے گزارش ہے کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل شرعی جواب عنایت فرمائیں، تاکہ میں اپنے شوہر کو دلائل کے ساتھ سمجھا سکوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور علم میں برکت دے۔ آمین۔
جواب کی منتظر
آپ کی بہن
واضح ہے کہ شوہر کہ ذمے اپنی بیوی کے نان ونفقہ اور رہائش کا اس طرح انتظام کرنا شرعالازم اور ضرروی ہے کہ وہ کسی کی محتاج نہ رہے ، اس لیے رہائش میں ایسامستقل کمرہ، باورچی خانہ اور بیت الخلاء کا ہونا ضروری ہے، جس میں کسی دوسرے کا اشتراک اور عمل دخل نہ ہو۔لہذ ا صورت مسئولہ میں اگرسائل نے ایسامستقل کمرہ بیوی کو دیا ہو، جس میں وہ اپنی ضرورت کا سامان اور اپنی مرضی سے رہن سہن کر سکتی ہو ،تو شرعی اعتبار سے شوہر پر واجب سکنی(رہائش ) کی ذمہ داری پوری ہوجاتی ہے، اور اس کے بعد بیوی کے لئے الگ مکان کا مطالبہ کرنا درست نہیں ۔ لیکن اگر ان کے بچوں کی عمریں بڑ رہی ہوں اور ان کی وجہ سے میاں بیوی کی پرائیوسی متاثر ہورہی ہو تو سائلہ کے شوہر کے ذمہ ان بچوں کیلئے متبادل انتظام کرنا ضروری ہوگا اگر چہ اسی مکان میں کیوں نہ ہو ۔ البتہ اگر سائلہ کا شوہر دوسرے گھر کا انتظام کر سکتا ہو اور وہاں رہائش رکھنے میں والدین کی خدمت اور دیکھ بال کرنے بھی کوئی مشکل پیش نہ آئی ہو تو بیوی بچوں کو مناسب رہائش دینا بہر حال بہتر ہے تاکہ میاں بیوی کی ازدواجی زندگی متأثر نہ ہو ۔
و فی الدر المختار: بيت منفرد من دار له غلق زاد في الاختيار والعيني ومرافق ومراده لزوم كنيف ومطبخ وينبغي الإفتاء به. (باب نفقات و السکنی، ج: 3، ص:600، ط: دار الفکر)
و فی رد المحتار: قوله ( وفي البحر عن الخانية ) عبارة الخانية فإن كانت دار فيها بيوت وأعطى لها بيتا يغلق ويفتح لم يكن لهاأن تطلب بيتا آخر إذا لم يكن ثمة أحد من أحماء الزوج يؤذيها ا ه ۔قال المصنف في شرحه فهم شيخنا أن قوله ثمة إشارة للدار لا البيت لكن في البزازية أبت أن تسكن مع أحماء الزوج وفي الدار بيوت إن فرغ لها بيتا له غلق على حدة وليس فيه أحد منهم لا تمكن من مطالبته ببيت آخر۔( باب النفقات والسکنی۔ج:۳،ص:٦٠٠،ط:دارالفکر)
و فی بدائع الصنائع: ولو أراد الزوج أن يسكنها مع ضرتها أو مع أحمائها كأم الزوج وأخته وبنته من غيرها وأقاربه فأبت ذلك؛ عليه أن يسكنها في منزل مفرد؛ لأنهن ربما يؤذينها ويضررن بها في المساكنة وإباؤها دليل الأذى والضرر ولأنه يحتاج إلى أن يجامعها ويعاشرها في أي وقت يتفق ولا يمكنه ذلك إذا كان معهما ثالث حتى لو كان في الدار بيوت ففرغ لها بيتا وجعل لبيتها غلقا على حدة قالوا: إنها ليس لها أن تطالبه ببيت آخر اھ۔۔(23/4، ط: دار الکتاب الاسلامی)