السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اور مفتیان کرام ایسی بیوی کے بارے میں جو اپنے ہی شوہر کے خلاف عدالت میں جہیز کا جھوٹا مقدمہ دائر کرے اور ان نامحرم مردوں کو اپنا جھوٹا گواہ بنا کر عدالت میں شوہر کے خلاف جھوٹی گواہی دلواۓ ، دینِ اسلام میں ایسی عورت اور جھوٹے گواہوں کے بارے میں کیا حکم ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان فرمائیں۔
واضح ہو کہ جھوٹ یعنی خلاف واقعہ بات کہنا خواہ وہ جھوٹا مقدمہ ہو یا جھوٹی گواہی ہو بہر صورت بڑا قبیح گناہ ہے اور قرآن و سنت میں اس پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں جس بنا پر اس سے اجتناب لازم ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں عورت اور جھوٹے گواہان نے مذکور فعل کا ارتکاب کر کے بہت بڑا گناہ اپنے ذمہ مول لیا ہے جس پر ان کو صدق دل سے توبه وہ استغفار کرنا ضروری ہے ورنہ سخت گنہگار ہوں گے اور اگر اس جھوٹے مقدمے اورگواہیوں کی بنا پر بیوی کے حق میں فیصلہ ہو بھی جائے تب بھی اس فیصلہ کے نتیجے میں حاصل کی جانے والی اشیاء یا رقم دیانۃ اس کے لئے حلال نہ ہوگی اور اگر بیوی اپنے مذکور غلط رویّے سے باز نہ آئے تو شوہر کو اسے بہتر طریقہ سے اپنے سے الگ کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے۔
کما فی مشكاة المصابيح: "إيّاكم والكذب وإن الكذب يهدى إلى الفجور وإن الفجور يهدى إلى النار و مايزال الرجل يكذب و يتحرى الكذب حتى يكتب عند الله كذابا،متفق عليه (ج:2،ص:412،طبع: قديمي كتب خانه)
وفي الدرالمختار: بل يستحب لو مؤذية أو تاركة صلاة غاية،الخ(ج:3،ص:229،مط: سعيد)