شوهر و بیوی کے حقوق

بیوی کا شوہر کے حقوق ادا نہ کرنا

فتوی نمبر :
89646
| تاریخ :
2025-12-06
معاشرت زندگی / ازدواجی مسائل / شوهر و بیوی کے حقوق

بیوی کا شوہر کے حقوق ادا نہ کرنا

السلام علیکم
میری شادی کو تقریباًآٹھ سال ہو گئے ہیں، دو بیٹے ہیں۔ ہم میاں بیوی دونوں سرکاری ملازم ہیں۔ ابتداء ہی سے شادی میں کچھ مسائل رہے ہیں، لیکن ہر بار میں نے معاملے کو افہام و تفہیم اور معافی سے آگے بڑھایا ہے۔ حتی کہ شادی بچانے کے لیے اسلام آباد سے ملتان ٹرانسفر ہو کر وہاں چار سال گزار کر آیا ہوں، کیونکہ بیوی کے والدین ملتان رہائش پذیر ہیں۔ اب دو سال سے اسلام آباد ہوں، جب بیوی کی دوسری جاب ہوئی اور اسلام آباد آنا اس کی بھی مجبوری بن گئی۔ ہماری شادی میں مسائل جوں کے توں ہیں، کوئی بات بھی ہم بیٹھ کر نہیں کر سکتے۔ کوئی انڈرسٹینڈنگ نہیں ہے۔ چھوٹی سی چھوٹی بات کو بتنگڑ بنا لیا جاتا ہے۔ میری وائف کی باقی بہنوں سے (جو پانچ) ہیں اور اپنی والدہ سے روزانہ آج بھی گھنٹوں فون پر بات ہوتی ہے، ہماری پردہ کی بات بھی ان تک ہوتی ہے اور پھر ان باتوں پر مجھے کوسا جاتا ہے۔ خیر اب مسائل کچھ زیادہ ہی بڑھ گئے ہیں۔ قریب چار ماہ قبل میں اپنی والدہ سے ملنے گیا تو ابھی گھر پہنچا ہی تھا کہ فون پر مجھے کوسنا شروع کیا گیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ دو ماہ میری اور بیوی کی آپس میں ایک ہی گھر میں رہنے کے باوجود کوئی بات چیت نہ ہوئی، میں کھانا باہر سے کھاتا رہا، کپڑے اپنے خود دھوتا رہا اور باقی بھی سارے معاملات۔ پھر ایک مہینے راضی ہوئے، تو بات اس پر خراب ہوئی کہ بچوں کو میلے پر لے کر جانا ہے، وائف نے کہا کہ اس کی بڑی بہن بھی آئے گی اور ہم نے بازار بھی جانا ہے۔ میں نے اعتراض کیا کہ ہفتہ میں ایک دن ملتا ہے، جو ہمیں اپنی فیملی کو بچوں کو دینا چاہیئے۔ خیر بازار پہنچ کر بھی اسکی بہن کی کال آتی رہی اور میں اپنے دونوں بچوں کو لے کر اکیلے میلہ پر گھومتا رہا، جب واپس آنے لگے تو بیوی نے کہا کہ اسکی بہن ادھر آرہی ہے اور وہ اس کے ساتھ ہی یہاں رکے گی۔ رات جب وہ گھر آئی تو اس بات پر ہماری تلخ کلامی ہوئی۔ کچھ باتیں اس نے کی ، کچھ میں نے کی، جن میں میری طرف سے سب سے زیادہ تلخ بات اس کو ”شاعر اور تھیلا“ کہنا تھی، جس کے اس نے ہزار مطلب نکالے۔ اس نے میری بہن جو ابھی غیر شادی شدہ ہے، اس کو بھی فون کر کے بلایا اور اس کے سامنے بھی واہیات باتیں کی کہ تھیلے کا مطلب جس کے بہت سارے لوگوں سے تعلق ہوں وغیرہ۔ اور اپنی بہنوں کو بھی سب بتایا۔ اور گھر چھوڑ کر اپنی بہن کے گھر چلی گئی۔ دو دن بعد واپس آئی اور اب کسی باہر ملک جانے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے بارے مجھے کچھ معلوم نہیں۔ اس سے پہلے بھی جب بھی جہاں جانا ہو اتو اجازت تو دور کی بات، بتانا بھی گوارا نہیں ہوتا۔ اب تقریبا دوبارہ 25/26 دنوں سے نہ گھر میں میرے لیے کھانا بنتا ہے، نہ میرے کپڑے دھوئےجاتے ہیں اور نہ ہی میرا اور کوئی کام ہوتا ہے اور نہ ہی ہمارا کوئی ازدواجی تعلق ہے۔ دو دن قبل میں نے پھر سے ہمیشہ کہ طرح معاملات کو نارمل کرنے کے لیے ازدواجی تعلق قائم کرنے کی کوشش کہ تو بری طرح سے انہی باتوں کا ذکر کر کے کمرے سے علیحدہ ہو گئی۔ مجھے اسلامی نقطہ نظر سے ان تمام حالات پر ایک کامل مشورہ دیا جائے کہ اس میں میں کتنا گناہگار ہوں اور مجھے اب آگے کیا کرنا چاہئیے؟ میرے بچے بھی ابھی بہت معصوم ہیں ایک سات سال اور ایک تین سال کا ہے۔ انہیں اگر مجھ سے علیحدہ کر کے بیرون ملک لے جاتی ہے یا کچھ بھی اور تو میں تو ویسے ہی مرا ہوں، مزید میں خودکشی کر لوں گا۔ اللہ کے کرم سے میں مکمل نمازی ہوں اور خوف خدا بھی رکھتا ہوں۔ کبھی آج تک گندی گالیاں یا مار پیٹ نہیں کی۔ اس سب پر آپ میری رہنمائی فرما دیں اور کوئی وظیفہ بھی بتا دیں۔جزاکم اللہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ نکاح ہوجانے کے بعد شرعی اعتبار سے میاں بیوی کے ذمہ ایک دوسرے کے بہت سے حقوق لازم ہوجاتے ہیں ، جس کی پاسداری کرنا فریقین کے ذمہ لازم اور اس میں کوتاہی کرنا باعثِ گناہ ہوتاہے، نکاح کے بعد میاں بیوی پر لازم ہوتا ہے کہ وہ نباہ کی ہر ممکن کوشش کریں اور حسنِ معاشرت کے ساتھ اس بندھن کو قائم و دائم رکھیں اور اگر میاں بیوی میں کسی ایک میں بھی کوئی خامی یا کمی کوتاہی ہو تو افہام و تفہیم کے ساتھ اس کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ لہٰذاصور تِ مسئولہ میں سائل کابیان اگرمبنی برحقیقت ہوتو بیوی کا شوہر کے حقوق ادا نہ کرنا، بلا عذر طویل عرصہ ازدواجی تعلق سے انکار کرنا، گھریلو اور پردہ کےمعاملات کو والدہ اور بہنوں کے ساتھ شئیر کرنا، شوہر کی اجازت یا اطلاع کے بغیر گھر چھوڑ دینا، اور شوہر کو نفسیاتی اذیت میں مبتلا کرنا شرعاً ناجائز، گناہ اورانتہائی قبیح طرزِ عمل ہے۔جس پراحادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ایک حدیثِ مبارکہ میں حضورﷺکاارشادمبارک ہے”جو عورت بلا کسی شرعی عذر کے اپنے شوہر کے حقِ زوجیت ادا کرنے سے انکار کرے، فرشتے صبح تک اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں“(صحیح بخاری)۔لہٰذا سائل کی بیوی پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس طرزِ عمل پر صدقِ دل سے توبہ و استغفار کرے،اورآئندہ ان حرکات سے مکمل اجتناب کرے۔ اسی طرح سائل پر بھی لازم ہے کہ وہ زبان، رویّے اور طرزِ گفتگو میں نرمی اختیار کرے، کسی قسم کے تلخ جملوں کےتبادلے یا سخت کلامی سے حتی الامکان گریزکرے اورسابقہ کوتاہی پربیوی سے معذرت کرتے ہوئے اللہ سے معافی مانگے اور بیوی کی اصلاح کے لیےحکیمانہ طریقہ پر بھرپور کوشش جاری رکھے، اس حوالے سے بہتریہ ہے کہ خاندان کے دیندار و سمجھدار افراد کو ثالث بنا کرافہام وتفہیم سے معاملہ حل کرانے کی کوشش کرے۔تاہم اگر ثالثی، نصیحت اور اصلاح کی تمام کوششوں کے باوجود ازدواجی زندگی کا قائم رہنا واقعی ناممکن ہو جائے تو شریعت نے آخری درجے میں علیحدگی کی اجازت بھی دے رکھی ہے،البتہ خودکشی کا ارادہ یا دھمکی دینا قطعاً حرام اور کبیرہ گناہ ہے، جس سے احترازلازم ہے ۔ جبکہ آپس میں محبت پیدا کرنے کےلئے آیت کریمہ (ومن آیٰاتہ أن خلق لکم من أنفسکم أزواجاً لتسکنوا إلیھا وجعل بینکم مودۃ ورحمۃ، إن فی ذالک لاٰیٰت لقوم یتفکرون)(روم/21) کو ننانوے دفعہ کسی مٹھائی پر تین دن پڑھ کردم کرکے میاں بیوی کاکھالینانہایت مجرب اورمفیدعمل ہے ،اس کااہتمام کیاجاسکتاہے۔(مجموعہ وظائف ص:525)

مأخَذُ الفَتوی

کمافی صحیح البخاری: عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان عليھا لعنتھا الملائكة حتى تصبح)۔ الحدیث۔ (باب إذا قال أحدکم آمین والملائکۃ فی السماء، رقم:3237، ج 4، ص 116، ط:البشریٰ)۔
وفی بدائع الصنائع:ومنھا المعاشرة بالمعروف، وأنه مندوب إليه، ومستحب قال الله تعالى:(وعاشروهن بالمعروف)(النساء: 19) قيل هي المعاشرة بالفضل والإحسان قولا وفعلا وخلقا قال النبي: صلى الله عليه وسلم (‌خيركم ‌خيركم ‌لأهله، وأنا خيركم لأهلي)، وقيل المعاشرة بالمعروف هي أن يعاملھا بما لو فعل بك مثل ذلك لم تنكره بل تعرفه، وتقبله وترضى به، وكذلك من جانبھا هي مندوبة إلى المعاشرة الجميلة مع زوجھا بالإحسان باللسان، واللطف في الكلام، والقول المعروف الذي يطيب به نفس الزوج، وقيل في قوله تعالى (ولھن مثل الذي عليھن بالمعروف) (البقرة: 228) أن الذي عليھن من حيث الفضل والإحسان هو أن يحسن إلى أزواجھن بالبر باللسان،والقول بالمعروف إلخ۔(فصل المعاشرة بالمعروف، ج 2، ص 334، ط:دار الکتب العلمیۃ)۔
وفی البحر الرائق: تحت (قولہ و ھو رفع القید الثابت شرعابالنکاح) و أما سببہ فالحاجۃ إلی الخلاص عند تباین الأخلاق و عروض البغضاء الموجبۃ عند عدم إقامۃ حدود اللہ تعالی و شرع رحمۃ منہ سبحانہ و أما صفتہ فھو أبغض المباحات إلی اللہ تعالی و فی المعراج إیقاع الطلاق مباح و إن کان مبغضا فی الأصل عند عامۃ العلماء و من الناس من یقول لا یباح إیقاعہ إلا لضرورۃ کبر سن أو ریبۃ لقولہ علیہ السلام لعن اللہ کل مذواق مطلاق و لنا إطلاق الآیات فإنہ یقتضی الاباحۃ مطلقا و طلق النبی صلی اللہ علیہ وسلم حفصۃ رضی اللہ عنھا فأمرہ اللہ تعالی أن یراجعھا (إلی قولہ) و قد روی أبو داود عن ابن عمر مرفوعا أبغض الحلال إلی اللہ تعالی عز و جل الطلاق (إلی قولہ) أن الاصل فی الطلاق ھو الحظر لما فیہ من قطع النکاح الذی تعلقت بہ المصالح الدینیۃ و الدنیاویۃ و الاباحۃ للحاجۃ إلی الخلاص (إلی قولہ) و فی غایۃ البیان یستحب طلاقھا إذا کانت سلیطۃ مؤذیۃ أو تارکۃ للصلاۃ لا تقیم حدود اللہ تعالی إلخ۔ (کتاب الطلاق، ج 3،ص 235۔238،ط: ماجدیۃ)۔
و فی الفقہ الإسلامی و أدلتہ: فلیس للزوجۃ الخروج من المنزل و لو إلی الحج إلا بإذن زوجھا، فلہ منعھا من الخروج إلی المساجد و غیرھا، لما روی ابن عمر رضی اللہ عنہ قال رأیت امرأۃ أتت إلی النبی صلی اللہ علیہ و سلم، و قالت: ( یا رسول اللہ ما حق الزوج علی زوجتہ؟ قال: حقھا علیھا ألا تخرج من بیتھا إلا بإذنہ، فإن فعلت، لعنھا اللہ و ملائکۃ الرحمۃ، و ملائکۃ الغضب حتی تتوب أو ترجع، قالت یا رسول اللہ و إن کان لھا ظالما؟ قال و إن کان لھا ظالما ) و لأن حق الزوج واجب، و لا یجوز ترکہ بما لیس بواجب إلخ۔ (الباب الزواج و آثارہ، الفصل فی حقوق الزواج، ج 7، ص 324، ط: رشیدیۃ )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89646کی تصدیق کریں
0     162
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • شادی کے بعد بیوی کے نام کے ساتھ شوہر کا نام لگانا

    یونیکوڈ   اسکین   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیابیوی اپنے شوہر سے جیب خرچی مانگ سکتی ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • شوہر بیوی کی دلجوئی کے لئے میک اپ کرواسکتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیابیوی شوہرکے مطالبے پر بالوں پر ہرارنگ کرسکتی ہے

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیا شوہر اجازت دے تو بیوی روزانہ اپنے والدین کو ملنے جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • بیوی پر ہاتھ اٹھانا اور مارپیٹ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 5
  • دیور کا بھابھی پر ہاتھ اٹھانا اور مارپیٹ کرنا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • لڑکی کے جہیز کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • سسرال والوں کا بہو سے گھر کا سارا کام لینا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 1
  • بیوی کا شوہر سے الگ گھر کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • نکاح نامے میں بطور حق مہر سونے کی مقدار لکھی جائے یا مالیت؟

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 1
  • میاں بیوی کے تنازع کا حل

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • شوہر کے والدین کی خدمت کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • شادی کے موقع پر لڑکی کو دیے گئے زیورات کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • نافرمان بیوی کے شوہر کیلئے حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیا پہلی بیوی شوہر کو دوسری بیوی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے سے منع کر سکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • عرصہ سات سال سے بیوی کے ساتھ بات چیت نہ کرنے والے کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیا بیوی پر شوہر کی ہر بات ماننا لازم ہے؟

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • بیوی کے ہمبستری کے مطالبہ پر شوہر کا منع کرنا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • ازدواجی حقوق اور نان و نفقہ ادا نہ کرنے والے شوہر سے علیحدگی اختیار کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 1
  • دو شادیاں کرنے کی صورت میں ہر ایک بیوی کے حقوق

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • گھریلو معاملات درست نہ ہونے پر بیوی کا شوہر سے الگ گھر کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • شوہر کے حقوق ادا نہ کرنے والی بیوی کیلئے حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • بھوؤں کو باریک کرنے والی عورت کی نمازکا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • عدالتی یکطرفہ خلع کی ڈگری کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
Related Topics متعلقه موضوعات