السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں اپنے سسرال سے الگ رہائش کے حق کے بارے میں ایک شرعی فتویٰ کی درخواست کر رہی ہوں۔
میں اپنے شوہر سے ایک سال سے علیحدہ ہوں اور کئی واقعات اور سسرال کی مسلسل مداخلت کی وجہ سے 13 نومبر 2024 کو پاکستان واپس آگئی۔ اگر ضرورت ہو تو میں ان تمام واقعات کی تفصیل کال پر بتا سکتی ہوں۔ میرے شوہر کے پانچ بہن بھائی ہیں، اور سب کے سب ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔
سسرال کے گھر میں مجھے چھت پر ایک کمرہ دیا گیا تھا جس کے ساتھ باتھ روم اور ایک چھوٹا سا حصہ تھا جسے کچن کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ اس میں نہ مناسب ہوا کا گزر تھا، نہ پنکھا، نہ روشنی، خصوصاً قطر کی شدید گرمی میں۔ کمرے میں چھپکلیاں، کیڑے مکوڑے، ٹوٹی ہوئی چیزیں، کوئی تالہ نہیں تھا اور نہ ہی الگ داخلہ۔ یہ ماحول میرے لیے اور میرے کمسن بیٹے کے لیے غیر محفوظ تھا اور میرے معیارِ زندگی (عرف) سے بہت نیچا تھا۔
شادی سے پہلے، میں ایک آرام دہ گھر میں رہتی تھی جہاں میری تمام بنیادی ضروریات عرف کے مطابق پوری ہوتی تھیں۔ ہمیں مناسب سہولیات، پرائیویسی، اور گھریلو مدد میسر تھی۔ میں نے کبھی غیر محفوظ یا غیر صحت مند حالات میں زندگی نہیں گزاری۔
میرے شوہر کو کمپنی کی طرف سے علیحدہ ہاؤسنگ الاؤنس ملتا ہے جو خاص طور پر بیوی اور بچے کو ساتھ رکھنے کے لیے ہے۔ یہ رقم ان کی بنیادی تنخواہ کے برابر ہے اور بغیر کسی مالی بوجھ کے ایک الگ گھر لینے کے لیے کافی ہے۔ لیکن وہ صرف اپنی آمدنی کا تقریباً 15% میرے اور میرے بیٹے کے خرچ کے لیے بھیجتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں یا تو اسی چھت والے کمرے میں رہوں یا اپنے والدین/بھائیوں کے گھر رہتی رہوں—یعنی مجھے محفوظ گھر دینے سے انکار۔
پانچ سال کی شادی میں، میں نے صرف 1 سال 6 ماہ ہی اپنے شوہر کے ساتھ گزارے؛ باقی وقت میں اپنے والدین کے گھر رہی۔ میں نے صرف اس کمرے کی وجہ سے الگ گھر نہیں مانگا تھا بلکہ مسلسل مداخلت، بدسلوکی، ذہنی، جذباتی اور جسمانی تشدد کی وجہ سے مانگا۔
آخری سنگین واقعہ وہ تھا جب میرے شوہر نے مجھے میرے کمرے سے گھسیٹ کر نیچے اپنے والد کے پاس لے گیا۔ اس دوران میرے کپڑے کھل گئے اور میں گھر والوں کے سامنے بے پردہ ہوگئی، حالانکہ میں بار بار رکنے کی منت کر رہی تھی۔ مجھے شدید ذلت کا سامنا کرنا پڑا، اور نہ میرے شوہر اور نہ ہی میری ساس نے میری مدد کی یا مجھے ڈھانپا۔ اس واقعے نے مجھے اپنی اور اپنے بچے کی حفاظت کے لیے فوراً پاکستان واپس آنے پر مجبور کر دیا۔
مزید بہت سے واقعات ہیں جو ضرورت پڑنے پر میں نجی طور پر بتا سکتی ہوں۔
میں درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی چاہتی ہوں:
1. کیا اسلام کے مطابق میرے شوہر پر میرے اور میرے بیٹے کے لیے الگ، محفوظ، باوقار اور عرف کے مطابق رہائش فراہم کرنا لازم ہے؟
2. کیا وہ اس حق سے انکار کر سکتا ہے خصوصاً جب اسے کمپنی کی طرف سے بیوی اور بچے کے ساتھ رہنے کے لیے خصوصی ہاؤسنگ الاؤنس ملتا ہے؟
3. شوہر کا بیوی کو جذباتی، ذہنی یا جسمانی طور پر تکلیف دینا، خصوصاً دوسروں کے سامنے, اس بارے میں اسلامی حکم کیا ہے؟
4. اگر وہ میرے بنیادی حقوق ادا کرنے سے انکار کرتا رہے اور ظلم کرتا رہے تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟
اگر وضاحت کے لیے فون کال ممکن ہو تو میں دستیاب ہوں:
براہِ کرم مجھے جلد رہنمائی دیں۔
جزاکم اللہ خیراً۔
واضح رہے کہ خاوند کے زمہ اپنی بیوی کو عرف کے مطابق رہائش دینا شرعاً لازم ہے چنانچہ سب سے کم درجہ یہ ہے کہ اگر مشترکہ گھر ہو تو بیوی کو ایک ایسے کمرے کی رہائش دینا لازم ہے کہ جس کے ساتھ ضروری سہولیات موجود ہوں مثلاً الگ کچن ،واشروم وغیرہ ،نیز اس کے ساتھ ساتھ اس کمرے میں کسی اور شخص (ساس ،سسر،نند وغیرہ ) کی مداخلت بھی نہ ہو ورنہ اس کے برعکس صورتحال میں بیوی کو الگ گھر میں رہائش دینا لازم ہوگا ۔چنانچہ صورت مسئولہ میں سائلہ نے جو صورت حال بیان کی ہے اگر یہ بیان حقیقت پر مبنی ہو تو سائلہ کا شوہر اپنے مذکور رویّے کی وجہ سے سخت گناہ گار ہورہا ہے اس پر لازم ہے کہ اپنے مذکور رویّے سے باز آکراپنی بیوی اور بچے کے حقوق أدا کرنے اور عرف کے مطابق خرچہ اور دیگر سہولیات مہیا کرے ورنہ سائلہ کو حق حاصل ہے کہ اپنے حق کی وصولیابی کیلئے قانونی چارہ جوئی کرے۔
كما في الفتاوى الخانية على هامش الهندية: أما السكنى فحقها في بيت على حده تأمن على متاعها ولا تستحي عن غيرها من معاشره الزوج فان كان للرجل والدة او أخت او ولد من غيرها في منزلها فقالت صيرني في منزل على حدة كان لها ذلك لان لانها لا تأمن على متاعها وتستحي عن المعاشرة (ج:1،ص:428،مط:ماجدية )
وفي الفقه الإسلامي وأدلته :يجب للزوجة أيضا مسكن لائق بها إما بملك أو كراء أو إعارة أو وقف ..فان كان للرجل أقارب فله عند الحنفية أن يسكن زوجته معهم إلا إذا ثبت أن الأقارب يؤذونها بقول او فعل..الخ_(ج:10،ص:7930،7391)