آمدنی و مصارف

فاریکس ٹریڈنگ کا حکم

فتوی نمبر :
89833
| تاریخ :
2025-12-09
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

فاریکس ٹریڈنگ کا حکم

میں آن لائن ٹریڈنگ کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں، جیسے کہ فاریکس یا دیگر آن لائن ٹریڈنگ کیا یہ اسلامی شریعت کے مطابق حلال ہے یا حرام؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ اس وقت آن لائن ٹریڈنگ کی مختلف صورتیں مارکیٹ میں رائج ہیں، جن میں سے بعض جائز اور بعض ناجائز ہیں،تاہم جو صورتیں عموماًاس وقت رائج ہیں، بلکہ ان میں سے بیشتر صورتیں قمار اور جوئے کے لئے استعمال ہوتی ہیں، لہذا آن لائن ٹریڈنگ کی جس خاص صورت میں سرمایہ کاری کرنے کاارادہ ہو،اس کےمتعلق کسی مستنددارالافتاء سے بغیرحکم شرعی معلوم کیے اس میں شرکت سے بچنا چاہیئے۔
جبکہ فاریکس کا کاروبار شرعاً جائز نہیں ہے، کیونکہ اس کا طریقہ کار ہمارے علم کے مطابق یہ ہے کوئی شخص براہِ راست اس مارکیٹ میں خریداری کا اہل نہیں ہوتا ، بلکہ وہ کسی کمپنی میں کچھ رقم مثلاً ایک ہزار ڈالر سے اپنا اکاؤنٹ کھلوا کر اس کے ذریعے اس مارکیٹ میں داخل ہوتا ہے ، اور یہ کمپنیاں دیگر سہولیات کے علاوہ ایک بڑی رقم کی ضمانت بھی اسے فراہم کرتی ہیں، انٹرنیٹ پر مارکیٹ کے حوالے سے مختلف اشیاء کے ریٹ آرہے ہوتے ہیں، اور لمحہ بہ لمحہ کم زیاہ ہوتے رہتے ہیں، یہ شخص کمپنی کی طرف سے فراہم کردہ رقم سے کوئی سودا کرتاہے، اور پھر ریٹ بڑھتے ہی اسے آگے فروخت کرکے نفع کماتا ہے، اور اگر قیمت گر جاتی ہے تو یہ اس کا نقصان شمار ہوتا ہے، کمپنی ایک ٹریڈ مکمل ہونے پر اپنا طے شدہ کمیشن وصول کرتی ہے اور اگر مقررہ وقت پر سودا مکمل نہ ہوسکے تو کمپنی اس کے بعد مزید چارجز بھی وصول کرتی ہے اور اس شخص کا کسی کو چیز خرید و فروخت کرنا سب کاغذی کاروائی ہوتی ہے، خریدی ہوئی اشیاء پر نہ قبضہ ہوتا اور نہ قبضہ کرنا مقصود ہوتا ہے، بلکہ محض نفع ونقصان (ڈیفرنس) برابر کیا جاتاہے، اس لئے یہ سٹہ کی ایک صورت ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما قال اللہ تعالى: واحل الله البيع و حرم الربوا (البقرة: 275)۔
کما فی الدر المختار : ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل. وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول: خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون، فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض على الصحيح اھ
وفی رد المحتار : تحت : (قوله علی وجه یتمکن من القبض) (الی قوله) طلب في شروط التخلية وحاصله: أن التخلية قبض حكما لو مع القدرة عليه بلا كلفة لكن ذلك يختلف بحسب حال المبيع، ففي نحو حنطة في بيت مثلا فدفع المفتاح إذا أمكنه الفتح بلا كلفة قبض، وفي نحو دار فالقدرة على إغلاقها قبض (الی قوله) (قوله: بلا مانع) بأن يكون مفرزا غير مشغول بحق غيره، فلو كان المبيع شاغلا كالحنطة في جوالق البائع لم يمنعه بحر (الی قوله) (قوله: ولا حائل) بأن يكون في حضرته. اهـ. ح وقد علمت بيانه (قوله ان یقول خلیت الخ) الظاہر ان المراد به الاذن بالقبض لا خصوص لفظ التخلیۃ لما فی البحر ولو قال البائع للمشتری بعد البیع: خذ لا یکون قبضا ولو قال خذہ یکون تخلیۃ اذا کان یصل الی اخذہ اھ وفی الفروع المارۃ ما یدل علیه ایضاً (قوله: أو كان بعيدا) أي وإن قال: خليت إلخ كما مر والمراد بالبعيد ما لا يقدر على قبضه، بلا كلفة، ويختلف باختلاف المبيع كما قررناه ( الی قوله) والصحیح ما ذکر فی ظاھر الروایۃ لانه اذا کان قریبا یتصور فیه القبض الحقیقی فی الحال فتقام التخلیۃ مقام القبض اھ (کتاب البیوع ، ج: 4 ، ص: 561 ، ط: سعید)۔
وفی الدر المختار : و هما ركنه ، وشرطه اهلية المتعاقدين الخ
وفي رد المحتار : تحت : (قوله وشرطه اهلية المتعاقدين ) أي بكونها عاقلين (الى قوله ) واما الثالث، وهو شرائط الصحة فخمسة وعشرون : منها عامة ومنها خاصة ( الى قوله) والخاصة معلومة الاجل في البيع المؤجل ثمنه والقبض في بيع المشترى المنقول، وفى الدين (الى قوله) ( قوله وحكمه ثبوت الملك) أي في البدلين لكل منهما في بدل، وهذا حكمه الاصلى والتابع وجوب تسليم المبيع والثمن الخ (كتاب البیوع ، ج: 4، ص: 504 ، ط: سعيد)ـ
وفی رد المحتار : تحت: (قولہ لأنہ یصیر قمارا) لأن القمار من القمر الذی یزداد تارۃ و ینقص أخرٰی، و سمی القمار قمارا لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذھب مالہ إلی صاحبہ و یجوز أن یستفید مال صاحبہ و ھو حرام بالنص (إلی قولہ) لأن القمار ھو الذی یستوی فیہ الجانبان فی احتمال الغرامۃ علی ما بینا اھ الخ (کتاب الحظر و الإباحۃ، ج: 6، ص: 403، ط: ایچ ایم سعید)ـ

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد رحمان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89833کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مالک کے علم میں لائے بغیر کسی کام کے کرنے پر کمیشن لینا جائز نہیں

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • کسی بھی ملازم کا کمپنی کے توسط سے ہدیہ لینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 0
  • کرکٹ میچ کے اسکور ویب سائٹ پر ڈال کر پیسے کمانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • پروفیشنل کرکٹ کھیلنے اور اس کی آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 1
  • حلال آمدن میں حرام آمدن شامل ہونے سے سارا مال حرام ہوجائیگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال سے خریدی گئی گاڑی سے حاصل ہونے والی حلال آمدنی

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ایک مصرف کے نام پر چندے میں جمع کی ہوئی رقم ، کسی دوسرے مصرف میں خرچ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • "پی ایل ایس " اکاؤنٹ کےمنافع اور اس کے مصرف کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • عورت کےلئے نس بندی کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سودی رقم سے ٹیکس ادا کرنا جائز نہیں

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کسی کمپنی ویب سائٹ پر پر غیر متعلقہ کمپنی کی تشہیر پر اجرت لینے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ”studypool.com“ ویب سائٹ پر لٹریچر نوٹس سیل کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • فراڈ اور دھوکہ دہی سے حاصل کردہ مال کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • قبرستان میں لگے ہوئے درختوں کا کاٹنا -حدیث "قاتل مقتول دونوں جہنمی" کی تشریح

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • بینک کے لیے انجئنیرنگ کا کام کر کے اس کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کیا پیسے کمانا اللہ سے دوری کا سبب ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • اولیاء اللہ کی قبروں کو تجارت کا ذریعہ بنانا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • دکان کے سامنے والی جگہ کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 2
  • میزان بینک کے" نیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ" میں سرمایہ کاری کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • مقررہ تنخواہ والے امام کا اپنے لئے ،اپنی مسجد میں چندہ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • بینک اکاونٹ کے سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کرنٹ اکاونٹ کا کہنے کے باوجود ، بینک والوں نے سیونگ اکاونٹ کھول دیا،اس میں جمع شدہ سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال خرچ کرنے کے بعد بھی بلانیت ثواب صدقہ کرنالازم ہے

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سرکاری سکول کے اساتذہ کا مقررہ وقت سے پہلے چھٹی کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • والد مرحوم کی, حلال و حرام سے مخلوط آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
Related Topics متعلقه موضوعات