السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! میرا نام جاوید علی ہے ، میرا سوال یہ ہے کہ میری نہر کی زمین ہے، اس پہ ابھی گورنمنٹ سندھ نے ایک کارڈ جاری کیا ہے، جس کا نام ہاری کارڈ ہے ، اس پے اب پیسہ آیا ہے، جو گورنمنٹ نے سبسڈی دی ہے، کہ گندم کے بیج کے لئے ان کا کہنا ہے کہ آپ ان پیسوں سے گندم کا بیج لے کر زمین میں لگائیں ، اگلی قسط اور دیں گے جس سے آپ کھاد وغیرہ لینا، یہ کارڈ سارے زمینداروں کو ملا ہے ۔کیا ان پیسوں کو استعمال کرسکتے ہیں؟ کیا یہ جائز ہے؟ مجھے اس کافتوی جاری کریں۔ جزاک اللہ
حکومتِ سندھ کی طرف سے زمینداروں کےلئے جاری کئے گئے ہاری کارڈ کے تحت ملنے والی رقم حکومت کی طرف سے ایک عطیہ اور تبرع ہےجو کہ کسانوں کےلئے ایک قسم کی مالی امداد ہے، جس کے لینے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
کما فی الھندیۃ: قال الفقيه أبو الليث رحمه الله تعالى: اختلف الناس في أخذ الجائزة من السلطان، قال بعضھم: يجوز ما لم يعلم أنه يعطيه من حرام، قال محمد رحمه الله تعالى: و به نأخذ ما لم نعرف شيئًا حرامًا بعينه،وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى وأصحابه، كذا في الظھيرية إلخ۔ (کتاب الکراھیۃ، الباب فی الھدایا و الضیافات، ج 5، ص 342، ط:دار الفکر)۔
وفی المحیط البرھانی: وعن علي رضي الله عنه: أن السلطان يصيب من الحلال والحرام، فإذا أعطاك شيئاً فخذه، فإن ما يعطيك حلال لك إلخ۔ (کتاب الاستحسان والکراھیۃ، الفصل فی الھدایا و الضیافات، ج 5، ص 367، ط:دار الکتب العلمیۃ)۔