السلام علیکم
میں اپنے شوہر سے الگ رہائش کے حق کے بارے میں ایک فتویٰ کی درخواست کر رہی ہوں۔ میں ایک سال سے اپنے شوہر اور اس کے خاندان کی مداخلت، بدسلوکی اور زیادتی کی وجہ سے اس سے الگ رہ رہی ہوں۔ میرے شوہر کے پانچ بہن بھائی ہیں، اور سب ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔ قطر میں اپنے سسرال کے گھر میں، مجھے اوپر کی منزل پر ایک چھوٹا سا کمرہ دیا گیا تھا جس کے ساتھ باتھ روم اور ایک چھوٹا سا کچن تھا۔ اس میں ہوا کی آمد و رفت، پنکھا، مناسب روشنی کچھ بھی نہیں تھا، اور وہ جگہ انتہائی گرم تھی۔ وہاں چھپکلیاں، کیڑے مکوڑے، ٹوٹی ہوئی فرنیچر، کوئی تالہ نہیں، اور الگ داخلی راستہ بھی نہیں تھا۔
میرے شوہر کو اپنی بنیادی تنخواہ کے برابر ہاؤسنگ الاؤنس ملتا ہے۔ وہ مجھے اپنی ماہانہ آمدنی کا صرف% 15 بھیجتا ہے اور اصرار کرتا ہے کہ میں یا تو اسی اوپر والے کمرے میں رہوں یا پاکستان میں اس کے والدین/بھائیوں کے ساتھ رہوں۔
ایک شدید واقعے کے بعد میں قطر چھوڑ کر واپس پاکستان آگئی، جس میں وہ مجھے گھسیٹ کر اپنے والد کے سامنے لے گیا تھا اور میرے کپڑے اس کے گھر والوں کے سامنے کھلے رہ گئے تھے۔ مجھے ذلیل کیا گیا اور کسی نے میری مدد یا پردہ نہیں کیا۔ ایسے کئی واقعات ہیں جن کا ذکر میں فون پر کر سکتی ہوں، مگر یہ آخری واقعہ میرے پاکستان واپس آنے کا سبب بنا ۔
میں راہنمائی چاہتی ہوں کہ کیا وہ میری اور میرے بیٹے کے لئے میری شرعی حقوق اور عرف کے مطابق الگ اور محفوظ رہائش فراہم کرنے کا پابند ہے؟میرے ساتھ ذہنی اور جسمانی ظلم، اور خاص طور پر گھر والوں کے سامنے مجھے نظرانداز کرنے کا اسلامی حکم کیا ہے؟
واضح ہو کہ شریعت مطہرہ میں جس طرح مرد کے عورت پر حقوق ہیں اسی طرح عورت کے بھی مرد پر حقوق ہیں شوہر کی شرعی ذمہ داری ہے کے وہ اپنی بیوی کو ایسی رہائش فراہم کرے کہ جس میں وہ خود مختار ہو کر یکسوئی کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرسکے اور اسمیں کسی اور کا عمل دخل نہ ہو ، لہذا اگر سائلہ کا شوہر اسے الگ گھر دینے کے بجائے مشترکہ مکان میں ایک ایسا مستقل جدا کمرہ دے جسکا بیت الخلاء باورچی خانہ وغیرہ الگ ہوں اور سائلہ کی ضروریات پوری ہورہی ہوں تو اس سے اسکی شرعی ذمہ داری پوری ہوجائیگی اور سائلہ کے لئے مستقل مکان کے مطالبہ کا اختیار باقی نہ رہے گا تاہم اگر وہ مستقل مکان فراہم کرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو اسے اسکا انتظام کرنا چاہیئے تاکہ سائلہ اپنے بیٹے کے ساتھ یکسوئی کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرسکے سائلہ کے شوہر کا اسے بلاوجہ مارنا پیٹنا، بے عزت کرنا شریعتِ مطہرہ کی رو سے ناجائز اور ظلم ہے، اس لئے اسے چاہیئے کہ اپنے اس نامناسب رویّہ پر بیوی سے معافی مانگے اور آئندہ کے لئے اس طرز عمل سے مکمل طور پر اجتناب کرتے ہوئے بیوی کی حقوق کی ادائیگی اور اسکے ساتھ عزت سے پیش آنے کی کوشش کرے اور سائلہ کو بھی چاہیئے کہ اس سلسلہ میں اگر اسکی جانب سے کوئی کوتاہی ہورہی ہو جس کی وجہ سے اس کے شوہر اور سسرال والوں کا رویہّ اس کے ساتھ درست نہ ہو تو وہ غلطی کو سدھارنے کی کوشش کرے تاکہ دونوں کی شادی شدہ زندگی پر منفی اثرات مرتب نہ ہو ں ۔
و فی القرآن الکریم : و عاشروھن بالمعروف ( سورۃ النساء ، آیت نمبر : 19 )
و فی مشکاۃ المصابیح : "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أكمل المؤمنين إيماناً أحسنهم خلقاً ، وخياركم خياركم لنسائهم ( باب عشرۃ النساء ، ج : 2 ، ص : 282 ، ط : قدیمی کتب خانہ )
وفی الھندیۃ: امرأۃ ابت ان تسکن مع ضرتھا او مع احمائھا کامہ و غیرھا فان کان فی الدار بیوت وفرغ لھا بیتاً وجعل لبیتھا غلقا علی حدۃ لیس لھا ان تطلب من لزوج بیتا آخر فان لم یکن فیھا الا بیت واحد فلھا ذلک وان قالت لا اسکن مع امتک لیس لھا ذلک الخ ( الفصل الثانی فی السکنیٰ ج : 1 ، ص : 556 ، ط : ماجدیۃ ) ۔
وفی الدر المختار : ومرادہ لزوم کنیف و مطبخ ،
و فی رد المختار تحت قولہ ( و مفادہ لزوم کنیف و مطبخ ) ای بیت الخلاء و موضع الطبخ بان یکونا داخل البیت او فی الدار لا یشارکھا فیھما احد من اھل الدار (باب النفقۃ ، ج : 3 ، ص : 600 ، ط : سعید )