DCMN ایپس کا استعمال شرعاً کیسا ہے؟ اس میں اکاؤنٹ بنایا جاتا ہے، اور اس میں سات ہزار روپے سے لے کر غیر متناہی روپے ڈالے جاسکتے ہیں، اور سات ہزار روپے اکاؤنٹ میں رکھنے پر 250 روپے ملتے ہیں، اس طرح ہر محدود رقم پر مختلف قسم کے اضافی روپے مل سکتے ہیں، اور اصل روپے ہر وقت آپ خود نکال سکتے ہیں، ہر دن تقریباً دس ویڈیوز ایپس استعمال کرنےوالے نے دیکھنی ہونگی، اور یہ اضافی روپے اصل اکاؤنٹ میں جمع شدہ روپے پر اس ویڈیوز دیکھنے پر ملتے ہیں، اس کا شرعاًً کیا حکم ہے؟
سائل نے سوال میں مذکور ایپ کے طریقہ کار کی جو تفصیل ذکر کی ہے، آج کل اس نوعیت کے کاروبار بہت رائج ہیں،لیکن اس میں عموماًشرعی اصول وضوابط کا لحاظ نہیں رکھا جاتا، نیز اس میں دھوکہ دہی اور پیسے ڈوب جانے کا بھی قوی اندیشہ رہتا ہے، لہذا ان جیسے ایپس میں بغیر تحقیق کے پیسے انویسٹ نہیں کرنے چاہیئے۔
کما فی الھدایۃ : قال الاجرۃ لا تجب بالعقد وتستحق باحدی معانی الثلاثۃ اما بشرط التعجیل او بالتعجیل من غیر شرط او باستیفاء معقود علیہ الخ (کتاب الاجارۃ، ج3، ص297، ط: رحمانیۃ)۔
وفی الھندیۃ: الاجر لایملک بنفس العقد ولا یجب تسلیمہ بہ عندنا (إلی قولہ) ثم الأجرۃ تستحق بأحد معان ثلاثۃ اما بشرط التعجیل أو بالتعجیل أو باستیفاء المعقود علیہ فإذا وجد أحد ھذہ الأشیاء الثلاثۃ فإنہ یملکھا کذا فی شرح الطحاوی و کما یجب الاجر باستیفاء المنافع یجب بالتمکن من استیفاء المنافع إذا کانت الاجارۃ صحیحۃ۔إلخ( کتاب الإجارۃ، الباب الثانی فی بیان أنہ متی تجب الأجرۃ، ج: 4، ص: 313، ط: مکتبہ ماجدیۃ)۔
وفی الدر المختار : (ھی) لغۃ اسم للأجرۃ وھو ما استحق علی عمل الخیر ولذا یدعی بہ یقال اعظم اللہ أجرک (تملیک نفع) مقصود من العین (بعوض) حتی لو استاجر ثیابا أو أوانی لیتجمل بھا أو دآبۃ لیجنبھا بین یدیہ أو دارا لیسکنھا أو عبدا أو غیر ذلک لا لیستعملہ بل لیظن الناس أنہ لہ فالإجارۃ فاسدۃ فی الکل ولا أجر لہ لأنھا منفعۃ غیر مقصودۃ من العین الخ
و فی الشامیۃ: تحت (قولہ مقصود من العین) أی فی الشرع ونظر العقلاء (إلی قولہ) فإنہ و إن کان مقصودا للمستأجر لکنہ لا نفع فیہ ولیس من المقاصد الشرعیۃ الخ (کتاب الاجارۃ، ج6، ص4، ط:سعید)۔