میں ایک پرائیوٹ کمپنی میں کام کرتاہوں ، میں نےکسی دوسرے ملازم کو سپلائر سے ملوایا ہے ، اور ان کےلئے کام کیا ہے ،اب اگر میں ان کے کام میں سے کمیشن لوں توکیساہے؟جبکہ سپلائر نے کہا تھاکہ آپ ہمارے لئے مارکیٹینگ کرو۔
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ مذکور کمپنی میں اس کی بنیادی ذمہ داری کیا ہے؟اور جس سپلائر نے اسے مارکیٹینگ کرنے کے لئے کہاہےوہ بھی اسی کمپنی کے لئے کام کر رہاہےیا کسی دوسری کمپنی کے لئے تاکہ اسی کے مطابق جواب دیاجاتا،تاہم اگر سائل کی بنیادی ذمہ داری اسی کمپنی کی مصنوعات کی مارکیٹینگ نہ ہو اور نہ ہی وہ مارکیٹینگ کا یہ کام کمپنی کو دیے گئے اوقات میں کررہاہو نیز سپلائر کے ساتھ باقاعدہ متعین مقدار میں کمیشن بھی طے کی گئی ہو تو ایسی صورت میں دیگر لوگوں کو سپلائر کے ساتھ جوڑنے پر اپنا طے شدہ کمیشن لینے کی اجازت ہوگی ورنہ نہیں ۔
کمافی الھندیۃ:وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل وما تواضعوا عليه أن من كل عشرة دنانير كذا فذلك حرام عليهم. كذا في الذخيرةالخ(الباب السادس عشر في مسائل الشيوع في الإجارة، ج: 4، ص: 450، ناشر: ماجدیہ)
وفی ردالمحتار:قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس الخ(باب الاجارۃالفاسدۃ،ج:6،ص: 63، ناشر: سعید)