شوهر و بیوی کے حقوق

طویل عرصہ میاں بیوی کا آپس میں نہ ملنے سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
90416
| تاریخ :
2025-12-31
معاشرت زندگی / ازدواجی مسائل / شوهر و بیوی کے حقوق

طویل عرصہ میاں بیوی کا آپس میں نہ ملنے سے نکاح کا حکم

میں اپنی بیوی اور اپنے رشتے کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں۔ میں اکثر و بیشتر کام کے سلسلے میں بیرونِ ملک میں مقیم رہتا تھا۔ 2016 سے 2017 میں یو ایس اے (امریکہ) میں جاب کرتا تھا، اس دوران ہر چھ مہینے بعد پاکستان اپنی فیملی سے ملنے آتا تھا اور پھر واپس چلا جاتا تھا۔ یعنی آنا جانا لگا رہتا تھا۔ 2018 میں میرا امریکہ کا ویزا ختم ہوگیاتو میرے مالی حالات خراب ہونا شروع ہوگئے، مالی طور پر مستحکم نہ ہونے کی وجہ سے پریشانیاں بڑھ گئیں۔ مگر اس دوران میں نے اپنے بیوی بچوں کو کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی، اور گھر کے تمام معاملات اور اخراجات کو اچھے طریقے سے لے کر چلتا رہا۔تاہم اسی دوران میں نے اپنی زوجہ کو اپنے گھر میں اپنے ایک دوست کے ساتھ دیکھا، اس وقت گھر میں میرے علاوہ میرے دو بیٹے بھی موجود نہیں تھے۔ جبکہ اس واقعے کے بعد میری زوجہ نے مجھ سے معافی بھی مانگی اور کہا مجھ سے غلطی ہوگئی، برائے مہربانی اس بات کی اطلاع میرے گھر پر نہیں دینا۔ جبکہ اس بات کا علم میری ساس کو پہلے سے تھا اور ساس نے کہا کہ میں نے خود اسے بھیجا تھا کیونکہ تمہاری بیوی رو رہی تھی۔ مگر میرا دوست اس وقت کمرے کے باتھ روم میں چھپا ہواتھا، اور اس کو میری بیوی نے ہی چھپایا تھا، میرے دل میں شک پیدا ہوا اور میں نے اچانک گھر جاکر دیکھا تو جیسے میں نے سوچا تھا ویسا ہی بلکہ اس سے زیادہ پایا۔ تاہم اس بات کو کافی عرصہ گزرچکا تھا اور معافی مانگنے کے بعد میری زوجہ کا رویہ اور حقوقِ شوہر باقاعدگی سے ادا کررہی تھی۔ پھر ستمبر 2024 کومیری زوجہ اپنی سہیلی کے ساتھ جوکہ ہمارے فلیٹ کے سامنے رہتے ہیں، ان کے ساتھ بہت زیادہ میل جول بڑھ گیا، اور میری بیوی بھی ان کے ساتھ بہت زیادہ اٹیچ ہوگئی۔ میرے بارہا منع کرنے پر بھی میری بیوی اور اس کی فلیٹ والی سہیلی بمع اپنی پوری فیملی اور شوہر کے میری بیوی کے ساتھ ملنا جلنا کرتے رہے، اور میری بیوی کی سہیلی کا شوہر میری بیوی کو یہ تأثر دینے کی کوشش کرنے لگا کہ وہ مجھ سے زیادہ تمہارا خیال رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔ جبکہ سہیلی کی فیملی کو پورا اندازہ ہے کہ ان کے میل جول سے میرے گھر کا ماحول مسلسل خراب ہوتا جارہا ہے۔ اس کے باوجود بھی میری زوجہ مجھے بتائے بغیر اپنی سہیلی کے ساتھ کھانا کھانے گئی اور میرے پوچھنے پر مجھ سے جھوٹ بولا کہ میں اپنی سہیلی کے گھر پہ ہوں۔ تاہم میری زوجہ نے ایک مرتبہ پھر میرے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی اور میری نافرمانی کی مرتکب ہوئی، جس کے بعد میں نے اپنی زوجہ سے خفگی کا اظہار کرتے ہوئےاس سے بات کرنا چھوڑ دی۔ مگر میرے ناراض ہونے کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوااور الٹا مجھ سے مزید ناراض ہوگئی، جس پر میں نے خود اس کو منایا اور احساس دلوایا، جس پر میری بیوی نے کہا کہ تمہیں تو میں ہی غلط نظر آتی ہوں۔ اس دن کے بعد جان بوجھ کر میری بیوی نے مزید اس طرح کی حرکتوں میں اضافہ کردیا، جس سے میرا دل دکھتا تھا، اور دونوں بچوں کو بھی اپنی جانب راغب کرلیا۔ اس کے علاوہ میرے سسرال والے بھی اپنی بیٹی کی طرف داری کررہے ہیں، اس بات کو لے کر میں نے اپنی جانب سے بھر پور کوشش کی اور بستر بھی الگ کرلیا، مگر اس پر کوئی اثر نہیں ہوا۔اور آج تک میرا اپنی بیوی سے بستر الگ ہے۔ جب بات بہت خراب ہوئی اور معاملات جھگڑنے کی نوبت تک پہنچ گئے تو بجائے اپنی بیٹی کو سمجھانے، احساس دلانے کے الٹا مجھ سے کہا کہ ہماری بیٹی کو طلاق دیدو اور اپنا سامان لے کر تم گھر سے نکل جاؤ، گھر کرائے کا ہےاور میں خود گھر کا واحد کفیل ہوں اور آج تک میں نے اپنی بیوی بچوں کی تمام ضروریات پوری کی ہیں۔ اب اس بات کو کم و بیش ایک سال ہوگیا ہے، میری بیوی میرے ساتھ ہوتے ہوئے بھی میرے ساتھ نہیں ہے، میں اپنا سارا کام خود کرتا ہوں اور میری زوجہ کو کسی قسم کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اب دیگر رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ ایک سال بات چیت نہ کرنے اور ہم بستری نہ کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ جبکہ میں نے اپنے منہ سے آج تک اس قسم کے الفاظ اپنی زوجہ سے نہیں کہے۔ براہِ مہربانی اس سلسلہ میں میری رہنمائی کی جائے اور قرآن و سنت اور شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں مجھے بتایا جائے کہ آیامیرا اپنی زوجہ کے ساتھ ازدواجی رشتہ قائم ہے یا نہیں؟
نوٹ: میری بیوی کا کہنا ہے کہ اگر مجھے اس کے ساتھ رشتہ قائم رکھنا ہے تو ان تمام معاملات کو برداشت کرنا پڑے گا، خود ہی میرے رنگ میں رنگ جائیں، میں تمہارے رنگ میں نہیں رنگوں گی اور اپنی زندگی اسی طرح اپنی مرضی سے بناء شوہر کے کہے سنے گزارنا چاہتی ہوں، اس بارے میں بھی جواب ارشاد فرمائیں کہ ان حالات میں مجھے کیا کرنا چاہیئے؟
آپ کے شرعی جواب کا منتظر

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نکاح منعقد ہوجانے کے بعد شرعاً میاں بیوی کے ذمے ایک دوسرے کے متعدد حقوق لازم ہوجاتے ہیں، جن کی پاسداری فریقین پر واجب اور ان میں کوتاہی شرعاً باعثِ گناہ ہے۔ نکاح کے بعد میاں بیوی پر لازم ہے کہ وہ باہمی نباہ کی ہر ممکن کوشش کریں، حسنِ معاشرت کے ساتھ اس رشتے کو قائم و دائم رکھنے کی سعی کریں، اور اگر کسی ایک فریق میں کوئی خامی، کمی یاکوتاہی پائی جائے تو افہام و تفہیم اور حکمت کے ساتھ اسے دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کا بیان واقعۃً مبنی بر حقیقت ہو تو سائل کی بیوی کا غیر محرم لڑکوں سے ناجائز تعلقات رکھنا، شوہر کے حقوق ادا نہ کرنا، طویل عرصہ تک بلا عذرِ شرعی شوہر سے ازدواجی تعلق قائم نہ رکھنا، شوہر کی اجازت یا اطلاع کے بغیر گھر سے نکلنا اور اپنی سہیلیوں اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ گھومنا پھرنا، نیز شوہر کے منع کرنے کے باوجود ان کے ساتھ میل جول جاری رکھنا، اور شوہر کو ذہنی و نفسیاتی اذیت میں مبتلا کرنا،یہ تمام امور شرعاً ناجائز، گناہ اور نہایت قبیح طرزِ عمل ہیں، جن پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
چنانچہ ایک حدیثِ مبارکہ میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
"جو عورت بلا کسی شرعی عذر کے اپنے شوہر کے بلانے پر حقِ زوجیت کی ادائیگی سے انکار کرے تو فرشتے صبح تک اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں"(صحیح بخاری)۔ اسی طرح سائل کی بیوی کا اپنے شوہر کو اپنے تابع بنانے کی کوشش کرنا اور شوہر کی نافرمانی کرتے ہوئے من مانی زندگی گزارنا، اسی طرح سائل کے سسرال والوں کا اپنی بیٹی کے غلط اور ناجائز طرزِ عمل پر اسے سمجھانے کے بجائے الٹا سائل کو برا بھلا کہنا اور اس سے طلاق کا مطالبہ کرنا بھی شرعاً درست نہیں، بلکہ ان تمام حرکات کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوئی ہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کے ساتھ ساتھ شوہر سے بھی دست بستہ معافی مانگے اور آئندہ اپنے طرزِ عمل سے باز رہنے کا پختہ عزم کرلے، تو سائل اس کو معاف کرکے اس کے ساتھ زندگی بسر کرسکتا ہے، لیکن اگر وہ اپنے اس غلط طرزِ زندگی سے باز نہ آئے اور مسلسل شوہر کی نافرمانی کرتی رہے تو ایسی صورت میں سائل اس کو ایک طلاق دے کر اپنی زوجیت سے علیحدہ بھی کرسکتا ہے اور اس صورت میں سائل گناہ گار بھی نہ ہوگا، البتہ سائل کو چاہیئے کہ طلاق سنت کے مطابق دے جس کا طریقہ یہ ہے کہ سائل بیوی کو ایسے طُہر (پاکی کی حالت) میں، جس میں اس نے ہم بستری نہ کی ہو، صریح الفاظ کے ساتھ ایک طلاق دے، پھر طلاق کے بعد اسے تین حیض گزرنے تک چھوڑ دے، جس کے بعد عدت مکمل ہوجانے پر نکاح ختم ہو جائے گا اور ایک طلاقِ بائن واقع ہو جائے گی۔ اس صورت میں اگر آئندہ دونوں باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو نئے مہر کے ساتھ، بغیر حلالہ کے، نکاح کرسکتے ہیں۔رہی یہ بات کہ سائل کا اپنی بیوی کو طلاق دیے بغیر محض ایک سال تک علیحدہ رہنا اور ازدواجی تعلق قائم نہ کرنا، تو اس وجہ سے شرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ سائل کی بیوی بدستور اس کے نکاح میں ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی صحیح البخاری: عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه فأبت فبات غضبان عليھا لعنتھا الملائكة حتى تصبح)۔ الحدیث۔ (باب إذا قال أحدکم آمین والملائکۃ فی السماء، رقم:3237، ج 4، ص 116، ط:البشریٰ)۔
وفی بدائع الصنائع:ومنھا المعاشرة بالمعروف، وأنه مندوب إليه، ومستحب قال الله تعالى:(وعاشروهن بالمعروف)(النساء: 19) قيل هي المعاشرة بالفضل والإحسان قولا وفعلا وخلقا قال النبي: صلى الله عليه وسلم (‌خيركم ‌خيركم ‌لأهله، وأنا خيركم لأهلي)، وقيل المعاشرة بالمعروف هي أن يعاملھا بما لو فعل بك مثل ذلك لم تنكره بل تعرفه، وتقبله وترضى به، وكذلك من جانبھا هي مندوبة إلى المعاشرة الجميلة مع زوجھا بالإحسان باللسان، واللطف في الكلام، والقول المعروف الذي يطيب به نفس الزوج، وقيل في قوله تعالى (ولھن مثل الذي عليھن بالمعروف) (البقرة: 228) أن الذي عليھن من حيث الفضل والإحسان هو أن يحسن إلى أزواجھن بالبر باللسان،والقول بالمعروف إلخ۔(فصل المعاشرة بالمعروف، ج 2، ص 334، ط:دار الکتب العلمیۃ)۔
وفی البحر الرائق: تحت (قولہ و ھو رفع القید الثابت شرعابالنکاح) و أما سببہ فالحاجۃ إلی الخلاص عند تباین الأخلاق و عروض البغضاء الموجبۃ عند عدم إقامۃ حدود اللہ تعالی و شرع رحمۃ منہ سبحانہ و أما صفتہ فھو أبغض المباحات إلی اللہ تعالی و فی المعراج إیقاع الطلاق مباح و إن کان مبغضا فی الأصل عند عامۃ العلماء و من الناس من یقول لا یباح إیقاعہ إلا لضرورۃ کبر سن أو ریبۃ لقولہ علیہ السلام لعن اللہ کل مذواق مطلاق و لنا إطلاق الآیات فإنہ یقتضی الاباحۃ مطلقا و طلق النبی صلی اللہ علیہ وسلم حفصۃ رضی اللہ عنھا فأمرہ اللہ تعالی أن یراجعھا (إلی قولہ) و قد روی أبو داود عن ابن عمر مرفوعا أبغض الحلال إلی اللہ تعالی عز و جل الطلاق (إلی قولہ) أن الاصل فی الطلاق ھو الحظر لما فیہ من قطع النکاح الذی تعلقت بہ المصالح الدینیۃ و الدنیاویۃ و الاباحۃ للحاجۃ إلی الخلاص (إلی قولہ) و فی غایۃ البیان یستحب طلاقھا إذا کانت سلیطۃ مؤذیۃ أو تارکۃ للصلاۃ لا تقیم حدود اللہ تعالی إلخ۔ (کتاب الطلاق، ج 3،ص 235۔238،ط: ماجدیۃ)۔
و فی الفقہ الإسلامی و أدلتہ: فلیس للزوجۃ الخروج من المنزل و لو إلی الحج إلا بإذن زوجھا، فلہ منعھا من الخروج إلی المساجد و غیرھا، لما روی ابن عمر رضی اللہ عنہ قال رأیت امرأۃ أتت إلی النبی صلی اللہ علیہ و سلم، و قالت: (یا رسول اللہ ما حق الزوج علی زوجتہ؟ قال: حقھا علیھا ألا تخرج من بیتھا إلا بإذنہ، فإن فعلت، لعنھا اللہ و ملائکۃ الرحمۃ، و ملائکۃ الغضب حتی تتوب أو ترجع، قالت یا رسول اللہ و إن کان لھا ظالما؟ قال و إن کان لھا ظالما) و لأن حق الزوج واجب، و لا یجوز ترکہ بما لیس بواجب إلخ۔ (الباب الزواج و آثارہ، الفصل فی حقوق الزواج، ج 7، ص 324، ط: رشیدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90416کی تصدیق کریں
0     209
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • شادی کے بعد بیوی کے نام کے ساتھ شوہر کا نام لگانا

    یونیکوڈ   اسکین   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیابیوی اپنے شوہر سے جیب خرچی مانگ سکتی ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • شوہر بیوی کی دلجوئی کے لئے میک اپ کرواسکتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیابیوی شوہرکے مطالبے پر بالوں پر ہرارنگ کرسکتی ہے

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیا شوہر اجازت دے تو بیوی روزانہ اپنے والدین کو ملنے جاسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • بیوی پر ہاتھ اٹھانا اور مارپیٹ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 5
  • دیور کا بھابھی پر ہاتھ اٹھانا اور مارپیٹ کرنا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • لڑکی کے جہیز کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • سسرال والوں کا بہو سے گھر کا سارا کام لینا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 1
  • بیوی کا شوہر سے الگ گھر کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • نکاح نامے میں بطور حق مہر سونے کی مقدار لکھی جائے یا مالیت؟

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 1
  • میاں بیوی کے تنازع کا حل

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • اگر ساس بہو کو ناجائز تنگ کرے تو بیٹے کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • شادی کے موقع پر لڑکی کو دیے گئے زیورات کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • شوہر کے والدین کی خدمت کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • عرصہ سات سال سے بیوی کے ساتھ بات چیت نہ کرنے والے کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • نافرمان بیوی کے شوہر کیلئے حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیا پہلی بیوی شوہر کو دوسری بیوی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے سے منع کر سکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • کیا بیوی پر شوہر کی ہر بات ماننا لازم ہے؟

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • بیوی کے ہمبستری کے مطالبہ پر شوہر کا منع کرنا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • ازدواجی حقوق اور نان و نفقہ ادا نہ کرنے والے شوہر سے علیحدگی اختیار کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 1
  • گھریلو معاملات درست نہ ہونے پر بیوی کا شوہر سے الگ گھر کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 1
  • دو شادیاں کرنے کی صورت میں ہر ایک بیوی کے حقوق

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • شوہر کے حقوق ادا نہ کرنے والی بیوی کیلئے حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
  • بھوؤں کو باریک کرنے والی عورت کی نمازکا حکم

    یونیکوڈ   شوهر و بیوی کے حقوق 0
Related Topics متعلقه موضوعات