میری بیوی صوم و صلوٰۃ کی پابند ہے، لیکن میرے حقوق کا خیال نہیں رکھتی ، کچھ کہیں تو زبان درازی کرتی ہے، ایسے میں، میں ان سے بات چیت بند کرلیتا ہو ں،پھر معافی مانگتی ہے، قسمیں اٹھاتی ہے، کہ آئندہ ایسا نہیں کرونگی اور کچھ دنوں پھر وہی پرانی روش اختیار کر لیتی ہے، اب اس مرتبہ میں نے بات چیت بند کرنےکے ساتھ ساتھ دوری اختیار کی ہے لیکن اب بھی وہی اکڑ ہے ،تو اس بارے میں شریعت کیا حکم دیتی ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل اگر واقعۃً حق پر ہو اور قصور اس کی بیوی کا ہو ،تو ایسی صورت میں اس کی بیوی مذکور رویّہ کی وجہ سے شرعا گناہ گار ہورہی ہے ،اس پر لازم ہے کہ اپنے اس طرز ِعمل سے باز آئے، اور سائل کے حقوق کی ادائیگی کی فکر کرے ،لیکن اگر وہ باز نہ آئے اور سائل کے حقوق کی ادائیگی کی فکر نہ کرے،تو سائل کیلئے اسے سمجھانے کی غرض سے مذکو رطرزِ عمل اختیار کرنے کی شرعا گنجائش ہے،اور اگر اس کے باوجود بیوی کے رویہّ میں کوئی مثبت تبدیلی نہ آئے ،تو خاندان کے بڑوں کو بٹھا کر معاملہ سلجھانے کی کوشش کرنا زیادہ مناسب ہے۔
کما جاء فی التنزیل العزیز : وَٱلَّٰتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهۡجُرُوهُنَّ فِي ٱلۡمَضَاجِعِ وَٱضۡرِبُوهُنَّۖ فَإِنۡ أَطَعۡنَكُمۡ فَلَا تَبۡغُواْ عَلَيۡهِنَّ سَبِيلًاۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيّٗا كَبِيرٗا( 34) وَإِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَيۡنِهِمَا فَٱبۡعَثُواْ حَكَمٗا مِّنۡ أَهۡلِهِۦ وَحَكَمٗا مِّنۡ أَهۡلِهَآ إِن يُرِيدَآ إِصۡلَٰحٗا يُوَفِّقِ ٱللَّهُ بَيۡنَهُمَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرٗا(النساء،ایۃ:35)
و فی احکام القران للجصاص تحت ھذہ الآیۃ: وقوله تعالى فَعِظُوهُنَّ يَعْنِي خَوِّفُوهُنَّ بِاَللَّهِ وَبِعِقَابِهِ وقَوْله تَعَالَى وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضاجِعِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَعِكْرِمَةُ وَالضَّحَّاكُ وَالسُّدِّيُّ هَجْرُ الْكَلَامِ وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ هَجْرُ الْجِمَاعِ وَقَالَ مُجَاهِدٌ وَالشَّعْبِيُّ وَإِبْرَاهِيمُ هَجْرُ الْمُضَاجَعَةِ وَقَوْلُهُ وَاضْرِبُوهُنَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إذَا أَطَاعَتْهُ فِي الْمَضْجَعِ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَضْرِبَهَا (الی ان قال ) وقال الحسن [فاضربوهن] قَالَ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ وَغَيْرَ مُؤَثِّرٍ(ج:3،ص:150 ،دار احیاءالتراث العربی)
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
(مرقاۃ،ج:5 ،ص:3255 ،رقم الحدیث: 3246،3255)..