السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!اگر کسی کی چار بیویاں ہیں اور ایک کو چپس اچھے لگتے ہیں، دوسری کو بوتل، تیسری کو سموسے، اور چوتھی کو پکوڑے، تو اشیاء میں مساوات اور برابری کیسے کریں گے؟ اگر ہر ایک اپنا سامان چاہتی ہے مگر دوسرے کا سامان اسے اچھا نہیں لگتا، تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟ اور کیا شہوت میں بھی برابری ہوگی؟ اور وقت میں بھی برابری کیسے ہوگی؟ براہِ کرم مفصل اور مدلل بیان فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً
واضح ہو کہ تعدد ازواج میں شوہر پر عدل ضروری ہے، ہر پہلو سے یکساں اور عین برابری لازم نہیں۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں شوہر پر لازم ہے کہ ہر بیوی کو معروف اور عرف کے مطابق نفقہ فراہم کرے، نفقہ میں عدل کا مطلب یہ نہیں کہ سب کو ایک ہی چیز دی جائے، بلکہ ہر بیوی کو اس کی ضرورت، ذوق اور پسند کے مطابق دیا جائے، بشرطیکہ مقدار، معیار اور قیمت کے اعتبار سے کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہو، اس لیے اگر ایک بیوی کو چپس پسند ہیں، دوسری کو بوتل، تیسری کو سموسے، اور چوتھی کو پکوڑے، تو ہر ایک کو اس کی پسند کے مطابق دینا ہی شرعی عدل ہے، اور سب کو ایک جیسی چیز دینا لازم نہیں۔ نیز اگر کسی بیوی کو دوسری بیوی کی پسندیدہ چیز پسند نہیں تو اسے اس پر مجبور کرنا شرعاً لازم نہیں، جب تک کہ اس کے حقِ نفقہ میں کمی نہ کی جائے، اور کسی قسم کی حق تلفی نہ ہو۔ جبکہ بیویوں کے درمیان محض راتوں کے قیام میں برابری واجب ہے، جماع، اور شہوت میں برابری واجب نہیں ،کیونکہ یہ طبعی اور قلبی امور ہیں جن پر انسان کو کامل اختیار حاصل نہیں، البتہ شوہر کا کسی بیوی کو بالکل حق زوجیت سے محروم رکھنا شرعاً و اخلاقاً نامناسب عمل ہے، اسی طرح بلا عذر شرعی کسی ایک کو زیادہ وقت دینا، اور دوسری کو محروم رکھنا بھی جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی بدائع الصنائع: وجملة الكلام فيه أن الرجل لا يخلو إما أن يكون له أكثر من امرأة واحدة وإما إن كانت له امرأة واحدة، فإن كان له أكثر من امرأة، فعليه العدل بينهن في حقوقهن من القسم والنفقة والكسوة، وهو التسوية بينهن في ذلك حتى لو كانت تحته امرأتان حرتان أو أمتان يجب عليه أن يعدل بينهما في المأكول والمشروب والملبوس والسكنى والبيتوتة والأصل فيه قوله عز وجل {فإن خفتم ألا تعدلوا فواحدة} [النساء: 3] عقيب قوله تعالى {فانكحوا ما طاب لكم من النساء مثنى وثلاث ورباع} [النساء: 3] أي: إن خفتم أن لا تعدلوا في القسم والنفقة في نكاح المثنى، والثلاث، والرباع، فواحدة ندب سبحانه وتعالى إلى نكاح الواحدة عند خوف ترك العدل في الزيادة، وإنما يخاف على ترك الواجب، فدل أن العدل بينهن في القسم والنفقة واجب، وإليه أشار في آخر الآية بقوله {ذلك أدنى ألا تعولوا} [النساء: 3] أي: تجوروا، والجور حرام، فكان العدل واجبا ضرورة؛ ولأن العدل مأمور به لقوله عز وجل {إن الله يأمر بالعدل والإحسان} [النحل: 90] على العموم والإطلاق إلا ما خص أو قيد بدليل وروي عن أبي قلابة «أن النبي - صلى الله عليه وسلم - كان يعدل بين نسائه في القسمة، ويقول اللهم هذه قسمتي فيما أملك، فلا تؤاخذني فيما تملك أنت، ولا أملك» ، وعن أبي هريرة - رضي الله عنه - عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «من كان له امرأتان، فمال إلى إحداهما دون الأخرى جاء يوم القيامة، وشقه مائل» ، ويستوي في القسم البكر، والثيب والشابة والعجوز، والقديمة والحديثة والمسلمة والكتابية؛ لما ذكرنا من الدلائل من غير فصل؛ ولأنهما يستويان في سبب وجوب القسم، وهو النكاح، فيستويان في وجوب القسم اھ(فصل وجوب العدل بين النساء في حقوقهن، ج 2، ص 332، ط: دار الکتب العلمیۃ)۔
وفی الدر المختار: (يجب) وظاهر الآية أنه فرض نهر (أن يعدل) أي أن لا يجور (فيه) أي في القسم بالتسوية في البيتوتة (وفي الملبوس والمأكول) والصحبة (لا في المجامعة) كالمحبة بل يستحب الخ
وفی الشامیۃ تحت: (قوله وظاهر الآية أنه فرض) فإن قوله تعالى {فإن خفتم ألا تعدلوا فواحدة} [النساء: 3] أمر بالاقتصار على الواحدة عند خوف الجور. (قوله وفي الملبوس والمأكول) أي والسكنى، ولو عبر بالنفقة لشمل الكل. قال في البدائع: يجب عليه التسوية بين الحرتين والأمتين في المأكول والمشروب والملبوس والسكنى والبيتوتة، ومما يجب على الأزواج للنساء: العدل والتسوية بينهن فيما يملكه، والبيتوتة عندهما للصحبة، والمؤانسة لا فيما لا يملكه وهو الحب والجماع الخ (کتاب النکاح ،باب القسم بین الزوجات، ج:3، ص:202، ط:سعید)۔