السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!کیا اگر بیوی شوہر کی اجازت کے ساتھ اپنے ماں باپ یا محرم رشتہ داروں کے گھر رات گزارنے جائے تو اس دوران نفقہ اور سکنی کس کے ذمے ہوگا؟کیا یہ شوہر کی ذمہ داری ہے یا نہیں؟اور آنے جانے کا کرایہ کس کے ذمے ہوگا؟براہِ کرم مفصل اور مدلل بیان فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً
اگر بیوی شوہر کی اجازت سے اپنے والدین یا کسی محرم رشتہ دار کے گھر عارضی طور پر رات گزارنے جائے تو وہ شرعاً ناشزہ نہیں ہوتی، لہٰذا اس مدت میں بھی نفقہ اور سکنیٰ بدستور شوہر کے ذمہ رہےگا،البتہ آنے جانے کا کرایہ اصولاً بیوی کے ذمہ ہے، ہاں اگر شوہر نے بطورِ شرط یا عرف کے مطابق اس کا ذمہ لیا ہو تو پھر شوہر پر لازم ہوگا۔
تاہم مروت کا تقاضہ یہی ہے کہ میاں بیوی چونکہ دونوں ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی ہوتےہیں، لہذابیوی کی اس قسم کی ضروریات پربھی شوہر لیت ولعل سے کام لینے کی بجائے خوش دلی سے خرچ کرناچاہیے ،تا کہ باہمی اتحاد و اتفاق ، محبت اور خوشحالی قائم رہ سکے۔
کما في أصول الإفتاء وآدابه: قد عرف في عبارات الفقهاء أن الأحكام تتغير بتغير الزمان. وليس هذا الأصل كليًا بحيث تتغير جميع الأحكام الشرعية كما زعمه بعض الإباحيين في عصرنا، وإنما المراد بهذا الأصل أن بعض الأحكام تتغير بتغير الزمان. وإنما يقع هذا التغيّر بأحد الوجوه الأربعة الآتية.... والثاني: أن يكون الحكم مبنيًا على العرف والعادة، فلو تغيّر العرف تغيّر الحكم. وهذا في الحقيقة يرجع إلى الوجه الأول، لأن تغيّر العرف إنما يغيّر الحكم إذا كان الحكم السابق معلومًا بالعرف، (ص:285، ط: معارف القرآن)-
"و فی الدر المختار: (و) لھا (السفر والخروج من بيت زوجھا للحاجة؛ و) لھا (زيارة أهلھا بلا إذنه ما لم تقبضه) أي المعجل، فلا تخرج إلا لحق لھا أو عليھا أو لزيارة أبويھا كل جمعة مرة أو المحارم كل سنة".
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ :" (قوله أو لزيارة أبويھا) سيأتي في باب النفقات عن الاختيار تقييده بما إذا لم يقدرا على إتيانھا، وفي الفتح أنه الحق. قال: وإن لم يكونا كذلك ينبغي أن يأذن لھا في زيارتھما في الحين بعد الحين على قدر متعارف، أما في كل جمعة فھو بعيد، فإن في كثرة الخروج فتح باب الفتنة خصوصا إن كانت شابة والرجل من ذوي الھيآت. (3/ 145)-