السلام علیکم
قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب چاہئیے، میری شادی فروری ۲۰۰۱ء میں ہوئی تھی، مختلف وجوہات کی بنا پر شروع دن سے ہی مسائل کا سامنا رہا ، میں نے کبھی بھی ایسا نہیں چاہا تھا ، ہمیشہ اللہ سے اچھے کی امید رکھی اور سب کی بہتری کا سوچا، پچھلے دنوں تقریباً پندرہ دن پہلے میں تو گھر پر نہیں تھا میری بیوی گھر پر تھی ، میرے گھر میں میرے والدین اور دو چھوٹے بھائی رہتے ہیں، میرا الگ کمرہ ہے، میری غیر موجودگی میں میری ساس گھر پر آئی ، باتوں ہی باتوں میں میری امی اور میری ساس کے درمیان لڑائی ہوئی، اور اپنے ساتھ میری بیوی کو بھی چلنے کے لئے تیار کیا، اس سے پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے، ذرا سی بات پر،مسئلہ پر وہ میری بیوی کو مجھ سے یا میرے والدین کی اجازت لیے بغیر میری بیوی کو گھر لے جاتے ہیں، اور پھر ان کی طرف کوئی مصلحت کی کوشش بھی نہیں ہوتی ہے، شروع شروع میں تو میری اور میری بیوی کی درمیان کوئی زیادہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ ہماری شادی خاندان میں ہوئی تھی، اور ہم ایک دوسرے کو بالکل نہیں جانتے تھے، لیکن اب وہ مجھ سے بے حد محبت کرتی ہیں، اور مجھ سے دور رہنا نہیں چاہتی، لیکن میرے والدین اور ان کے والدین کے درمیان جھگڑے سے ہم ایک دوسرے سے دور رہنے پر مجبور ہیں۔
نہ اس کو مجھ سے فون پر بات کرنے کی اجازت ہے، اور نہ ہی خط لکھنے کی اجازت ہے، میں نے اس کو مختلف خطوط لکھ کر حالات سے اس کو آگاہ کیا ہے، اور فون پر بھی بات کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن بات نہیں ہو پا رہی ہے، میرا دل اس کی طرف سے بالکل صاف ہے، اور وہ مجھ سے محبت کرتی ہے، لیکن حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں، مجھے ڈر ہے اور خدشہ ہے، لیکن میں اس سلسلے میں کیا کر سکتا ہوں؟ میں اپنے سسرال سے ہمیشہ بہتر کرنے کی کوشش کرتا ہوں، کبھی کوئی غلط بات نہیں کی، میرا ابھی کوئی بچہ بھی نہیں ہے، اور مجھے دونوں خاندان کو دیکھ ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں کرتا ہوں۔
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور حقیقت پر مبنی ہے تو اس صورت میں سائل کی بیوی کا باہمی چپقلش میں معمولی باتوں پر والدہ کو مطلع کرنا اور پھر اس کی والدہ کا مذکور رویہّ بہر حال اس کی ناسمجھی اور اپنی بیٹی کے گھر کو برباد کرنے کے مترادف ہے، ان دونوں پر اپنے مذکور رویّے سے احتراز لازم ہے، جبکہ سائل کو بھی چاہیئے کہ ان معاملات و حالات میں اپنے بڑوں سے مشورہ کرکے بعد باہمی صلح کی کوشش کرے ۔
کمافی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 611)
(وتجب السكنى) فقط (لمعتدة فرقة بمعصيتها) إلا إذا خرجت من بيته فلا سكنى لها في هذه الفرقة قهستاني وكفاية (كردة) وتقبيل ابنه (لا غير) من طعام وكسوة، والفرق أن السكنى حق الله تعالى فلا تسقط بحال، والنفقة حقها فتسقط بالفرقة بمعصيتها (وتسقط النفقة بردتها بعد البت) أي إن خرجت من بيته وإلا فواجبة قهستاني۔