میرا سوال یہ ہے کہ میری دو بیویاں ہیں، دونوں کو نمبرواری کرتا ہو ں،جس کا نمبر ہو ،اس کواس دن حیض ہو تو کیا اس کو بغیر بتائے دوسری بیوی کے پا س جا سکتا ہوں؟
واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ نے ایک سے زائد بیویوں کی صورت میں ان کے درمیان برابری اور عدل کا حکم محض مجامعت کے مقصد کے لیے نہیں دیا، بلکہ اس کی اصل حکمت میاں بیوی کے درمیان اُنس، سکون، محبت اور حسنِ معاشرت کا قیام ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں ایامِ حیض کے دوران بھی جس بیوی کی باری ہو، اس کی اجازت کے بغیر دوسری بیوی کے پاس جانا شرعاً درست نہیں۔
کمافی الدر المختار: (يجب )وظاهر الآية أنه فرض نهر (أن يعدل) أي أن لا يجوز ( فيه ) أي في القسم بالتسوية في البيتوتة ( وفي الملبوس والمأكول ) والصحبة ( لا في المجامعة ) كالمحبة بل يستحب (الی قولہ)(بلا فرق بين فحل وخصي وعنين ومجبوب ومريض وصحيح ) وصبي دخل بامرأته وبالغ لم يدخل بحر بحثا وأقره المصنف ومريضة وصحيحة ( وحائض وذات نفاس) الخ
وفی رد المختار:تحت قولہ(بلافرق الخ) لانہ حیث علم ان وجوب القسم انما ھو للصحبۃ والمؤانسۃ دون المجامعۃ الخ(باب القسم،ج:3،ص:204،ط:سعید)۔