میں میری شوہر کی دوسری بیوی ہو ں ، میرے شوہر نے مجھ سے یہ بول کے شادی کی کہ انکا پہلی بیوی سے جسمانی تعلق نہیں ہے اور بھی بہت مسائل ہیں ، جھگڑے ہوتے رہتے ہیں ، انھوں نے مجھے الگ گھر میں رکھنے کی بات کی تھی ،گھر لیا تو ایک سال کے اندر ہی بیچ دیا ، جبکہ کوئی مجبوری نہیں تھی ، اور مجھے ایک کچے گھر میں رکھا ہے، شادی سے پہلے بہت وعدے اور شرائط رکھے گئے تھے ، جنھیں انھوں نے صاف منع کردیا کہ میں نے ایسے ہی بول دیا تھا ، میری حالت ایسی نہیں ہے کہ میں یہ سب کروں ، جبکہ ان ہی ساری وجوہات کی بناء پر میں راضی ہوئی تھی ، انکا اپنے شرائط وعدوں سے مکرنا کیسا ہے ؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ میں میرے میکے جاتی ہوں ، دور ہے تو وہاں پندرہ ، بیس دن رک جاتی ہوں اور واپس آنے پر میرے ساتھ اتنا نہیں رہتا ، پچھلے سال اپنی پہلی بیوی کو حج پر لے کے گیا، دو مہینے پہلے سے تب بھی میرے ساتھ اتنا نہیں رہا ، پہلی بیوی کو حج عمرہ کروادیا ، میں بولتی ہو ں تو بولتا ہے میرے پاس پیسے نہیں ہے ، میرے سوالوں کا اسلامی شریعت کی روشنی میں جواب دیں ، جزاک اللہ خیرا !
واضح ہو کہ شریعت مطہرہ میں ایک سے زائد بیویوں کے درمیان عدل اور انصاف کی بڑی تاکید اور کسی ایک بیوی کا زیادہ خیال رکھنے اور دوسری بیوی کے حقوق واجبہ میں کوتاہی پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ۔حدیث شریف میں واردہوا ہے کہ جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور کسی ایک بیوی کا زیادہ خیال رکھے اور دوسری کے حقوق میں کوتاہی کرے تو قیامت کے روز جب اللہ کے دربار میں حاضر ہوگا تو اس کے جسم کے ایک طرف کا حصہ شل اور فالج زدہ ہوگا۔
لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کے شوہر کو چاہیے کہ وہ دونوں بیویوں کے درمیان عدل اور برابری کا اہتمام کرے اور حسب وعدہ ان تمام جائز شرائط کی پاسداری کرے جو سائلہ کے ساتھ نکاح کے وقت طے ہوچکی تھی، جہاں تک سائلہ کے پاس رات گزارنے کا تعلق ہے، تو اس میں بھی شوہر کے ذمہ برابری لازم ہے، البتہ اسمیں وہ ایام شامل نہ ہوں گےجس میں سائلہ اپنے میکے میں قیام کرتی ہے، اس طرح فرضیت حج کا تعلق چونکہ وسعت سے ہے، اس لیئے اگر سائلہ صاحب وسعت نہ ہو تو اس پر ادائیگی حج فرض نہ ہوگی، البتہ اگر شوہر اپنے ساتھ لیجانا چاہےتو یہ ان کی طرف سے تبرع ہوگا۔
کما فی القرآن الکریم : وافوا بالعھد ان العھد کان مسؤلا ( سورۃ بنی اسرائیل ،آیت نمبر : 34 )
وفی سنن ابی داؤود : عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما جاء يوم القيامة وشقه مائل ( باب فی القسم بین النساء ، ج : 2 ، ص : 207 ، ط : المطبعۃ الانصاریۃ )
و فی الھندیۃ : واذا کانت لہ امراۃ و اراد ان یتزوج علیھا اخری و خاف ان لا یعدل بینھما لا یسعہ ذلک وان کان لا یخاف وسعہ ذلک والامتناع اولی و یؤجر بترک ادخال الغم علیھا کذا فی السراجیۃ ، والمستحب ان یسوی بینھن فی جمیع الاستمتاعات من الوطء والقبلۃ و کذا بین الجواری وامھات الاولاد و لا یجب شیئ کذا فی فتح القدیر اھ ( کتاب النکاح ، ج : 1 ، ص : 341 ، ط : ماجدیہ )
و فی الخانیۃ : فلو انہ سافر مع احدی امراتیہ لما قدم طلبت التی لم یسافر معھا ان یقیم عندھا مثل تلک المدۃ لم یکن ذلک ( کتاب النکاح ،فصل فی القسم ، ج : 1 ، ص : 440 ، ط : ماجدیہ )
وفی الھندیہ: (ومنها القدرة على الزاد والراحلة) بطريق الملك أو الإجارة دون الإعارة والإباحة ( الباب الاول فی تفسیر الحج، ج: 1، ص: 217،ط: ماجدیہ)
وفی بدائع الصنائع: بخلاف الفقير لأنه لا يجب الحج عليه في الابتداء ثم إذا حج بالسؤال من الناس يجوز ذلك عن حجة الإسلام حتى لو أيسر لا يلزمه حجة أخرى؛ لأن الاستطاعة بملك الزاد، والراحلة، ومنافع البدن شرط الوجوب؛ لأن الحج يقام بالمال، والبدن جميعا، والعبد لا يملك شيئا من ذلك فلم يجب عليه ابتداء، وانتهاء، والفقير يملك منافع نفسه إذ لا ملك لأحد فيها إلا أنه ليس له ملك الزاد، والراحلة وإنه شرط ابتداء الوجوب، فامتنع الوجوب في الابتداء فإذا بلغ مكة، وهو يملك منافع بدنه فقد قدر على الحج بالمشي، وقليل زاد فوجب عليه الحج، فإذا أدى وقع عن حجة الإسلام، فأما العبد فمنافع بدنه ملك مولاه ابتداء، وانتهاء ما دام عبدا فلا يكون قادرا على الحج ابتداء، وانتهاء فلم يجب عليه، ولهذا قلنا: إن الفقير إذا حضر القتال يضرب له بسهم كامل كسائر من فرض عليه القتال، وإن كان لا يجب ( فصل شرائط فرضیۃ الحج، ج: 2، ص: 120، ط: سعید)