میرے شوہر میرے پاس نہیں رہتے، اپنے بھائی بھابھی کے پاس رہتے ہیں، جبکہ میں اپنے ذاتی فلیٹ میں اپنی بوڑھی ماں، فالج زدہ بھائی اور ایک بہن کے ساتھ رہتی ہوں۔ شادی بھی اسی لیے کی تھی کہ ایک مرد کا سہارا چاہیے تھا ہمیں، لیکن شوہر شروع سے اپنے بھائی بھابھی کے ساتھ ہیں، گھر کا کرایہ 30 ہزار میرے شوہر ہی دیتے ہیں (جبکہ ٹوٹل سیلری ہی 40 ہزار ہے)۔ شوہر جاب سے واپسی پر بھی میرے پاس نہیں آتے، زیادہ تر اپنی بھابھی کی طرف ہی رہنا پسند کرتے ہیں، چاہے دن ہو یا رات، اور بھائی گھر پر موجود ہو یا نہ ہو۔ بھابھی کی اسی غیر ضروری مداخلت اور دوسری حرکتوں کے پیشِ نظر، اور گھر کی چابی بھی مجھے نہ دینے پر میری اپنے شوہر سے لڑائی ہوئی، جس کے بعد سے میرے ہسبنڈ نے مجھے بولا اب تم اپنے گھر رہو، میں طلاق نہیں دے رہا، نہ اب تم یہاں آ کر رہو گی، نہ میں وہاں تمہاری طرف رہوں گا۔ کیا میرے شوہر کا اپنی بیوی کو چھوڑ کر اس طرح اپنی بھابھی کے ساتھ رہنا جائز ہے ،جبکہ وہ میرے ازدواجی تعلق بھی پورے نہیں کر رہے، خرچہ بھی کبھی دیتے کبھی نہیں؟ شوہر کی بڑی چچی وغیرہ کو بولا تو ان لوگوں نے بھی میرے خلاف محاذ بنا کر غیرت کا مسئلہ بنا لیا ہے اور سب مجھے ہی چھوڑ دینے کو بول رہے ہیں۔ حضرات ایسے شوہر اور اس کے بھائی کے بارے میں اب آپ کیا فرمائیں گے، کیونکہ اس طرح میرا حق مارا جا رہا ہے اور میرا وقت، جذبات، احساسات بھی مجروح ہو رہے ہیں۔
سوال میں ذکر کردہ سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی قسم کی کمی زیادتی سے کام نہ لیا گیا ہو، توسائلہ کےشوہر کا مذکور طرز عمل اور رویہ ناجائزاور واجب الترک ہے ، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہو رہاہے، اس پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرز عمل پر بصدقِ دل توبہ و استغفار اورآئندہ کے لئے ان امور سے مکمل اجتناب کرے ، نیز بیوی کے اخراجات نان نفقہ اور دیگر ازدواجی حقوق کی ادائیگی کی فکر کرتے ہوئے اپنا گھر بسانے کی فکر کرے، جبکہ سائلہ کے شوہر کا مستقل طور پر بھابھی کے ہاں رہنا اور کھانا پینا وغیرہ کرنا (جبکہ دیور بھابھی شرعاً آپس میں نامحرم ہوتے ہیں) شرعاً درست اور جائز نہیں، اس پر لازم ہے مواخذۂ اخروی سے ڈرتے ہوئے اپنی بیوی کے پاس آکر گھر بسائے۔
كما قال لله تعالى:وَعَاشِرُوهُنَّ بِٱلۡمَعۡرُوفِۚ فَإِن كَرِهۡتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰٓ أَن تَكۡرَهُواْ شَيۡـٔٗا وَيَجۡعَلَ ٱللَّهُ فِيهِ خَيۡرٗا كَثِيرٗا(سورة النساء:١٩)
وقال لله تعالى في مقام اخر:وَلَا يَحِلُّ لَكُمۡ أَن تَأۡخُذُواْ مِمَّآ ءَاتَيۡتُمُوهُنَّ شَيۡـًٔا إِلَّآ أَن يَخَافَآ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَا فِيمَا ٱفۡتَدَتۡ بِهِۦ تِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ فَلَا تَعۡتَدُوهَاۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ ٱللَّهِ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّٰلِمُونَ (سورة البقرة:٢٢٩)
و في صحيح البخاري: عن عقبة بن عامر، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:(إياكم والدخول على النساء) فقال رجل من الأنصار: يا رسول الله، أفرأيت الحمو؟ قال: (الحمو الموت)( باب: لا يخلون رجل بامرأة إلا ذو محرم،ج:٥،ص:٢٠٠٥،مط:دار ابن كثير)
وفي مرقاة المفاتيح: قال الحمو الموت) أي دخوله كالموت مهلك يعني الفتاة منه أكثر لمساهلة الناس في ذلك وهذا على حد الأسد الموت والسلطان النار أي قربهما كالموت والنار أي فالحذر عنه كما يحذر عن الموت اھ( باب النظر،ج:٥،ص:٢٠٥١،مط:دار الفكر)