محترم مفتی صاحب!السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، میرا سوال یہ ہے کہ اگر بیوی شوہر کے منع کرنے کے باوجود جان بوجھ کر وہی کام کرے جن سے شوہر منع کرتا ہو، اور گھر کا ماحول اس حد تک خراب کر دے کہ گھر کی کوئی چیز محفوظ نہ رہے، حتیٰ کہ اگر شوہر کسی مجبوری سے چند دن کے لیے گھر سے باہر جائے تو واپسی پر یا تو گھر کی چیزیں ٹوٹی ہوئی ہوں یا غائب ہو چکی ہوں۔اسی طرح بیوی گھریلو ذمہ داریاں بھی درست طور پر ادا نہ کرتی ہو، مثلاً: شوہر کی چھٹی کے دن جان بوجھ کر کھانا نہ پکانا، وقت پر کھانا تیار نہ کرنا، روٹی صحیح طریقے سے نہ پکانا، بار بار سمجھانے کے باوجود بات نہ سننا، صبح ناشتہ نہ دینا، پورا دن کچھ نہ پکانا اور شام کو شوہر کے گھر آنے پر الٹا سیدھا، کچا پکا یا بے ترتیبی کا کھانا سامنے رکھ دینا، مزید یہ کہ بیوی شوہر سے مسلسل بدتمیزی، چیخ و پکار، گالی گلوچ اور بعض اوقات شدید مار پیٹ تک اتر آتی ہو۔ یہاں تک کہ اگر شوہر بیوی کی والدہ یا بھائی کو فون کرنے کے لیے فون اٹھائے تو بیوی فون توڑ دیتی ہو، فون کرنے سے زبردستی روکتی ہو، اور اس موقع پر بھی انتہائی درجے کی ہاتھا پائی کرتی ہو۔شوہر نے نرمی، نصیحت، صلح صفائی اور خاندان کے بڑوں کے ذریعے اصلاح کی ہر ممکن کوشش کر لی ہو، مگر بیوی کے والدین یا بھائی اس معاملے میں کوئی دلچسپی نہ لیتے ہوں، نہ اسے سمجھاتے ہوں اور نہ ہی اس کے ممکنہ ذہنی یا نفسیاتی علاج کی کوئی کوشش کرتے ہوں۔ایسی صورتِ حال میں:اس قسم کی بیوی کے بارے میں شرعاً کیا حکم ہے؟شوہر کے لیے شرعی طور پر کیا لائحۂ عمل اختیار کرنا چاہیے؟کیا ایسی حالت میں شوہر کے لیے دوسری شادی کرنا جائز ہے؟ اور اگر تمام اصلاحی کوششوں کے باوجود معاملہ درست نہ ہو تو شرعی طور پر آخری حل کیا ہے؟
واضح ہوکہ نکاح کے بعد میاں بیوی دونوں پرازروئےشرع ایک دوسرے کے حقوق کاخیال رکھتےہوئے حسنِ معاشرت کے ساتھ زندگی گزارنےکاحکم ہے ۔ چنانچہ بیوی پر شوہر کی جائز باتوں میں اطاعت کرنا ، گھریلو ذمہ داریوں کو درست طریقے سے ادا کرنالازم وضروری ہے۔ لہٰذا اگر بیوی جان بوجھ کر شوہر کی جائز باتوں کی خلاف ورزی کرے، گھریلو ذمہ داریوں میں کوتاہی کرے، بدتمیزی، گالی گلوچ، جھگڑا یا گھر کے نظام کو خراب کرنے جیسے امور کا ارتکاب کرے تواس کامذکور طرزِ عمل شرعاً درست نہیں، بلکہ ایسی عورت ناشزہ (نافرمان) کے حکم میں آتی ہے۔
ایسی صورت میں شوہر کو شریعت کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق پہلے نرمی کے ساتھ نصیحت کرنی چاہیے، اگر اصلاح نہ ہو تو وقتی طور پر بستر علیحده کرلے، اور اس کے بعد بھی معاملہ درست نہ ہو تو دونوں خاندانوں کے ذمہ دار افراد کے ذریعے صلح و اصلاح کی کوشش کی جائے۔
اگر ان تمام تدابیر کے باوجود بھی اصلاح نہ ہو اور ہر وقت كے لڑائى جھگڑوں كى وجہ سے دونوں كا حدود اللہ پر قائم رہتے ہوئے ازدواجی زندگی نبھانا دشوار ہو جائے تو ايسى صورت مىں شوہر اىك طلاق دىكر عورت كو اپنے نكاح سے آزاد كر سكتا ہے اور اس صورت مىں وه گناه گار بھى نہ ہوگا.
کما قال الله تعالى: وَٱلَّٰتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَٱهۡجُرُوهُنَّ فِي ٱلۡمَضَاجِعِ وَٱضۡرِبُوهُنَّۖ فَإِنۡ أَطَعۡنَكُمۡ فَلَا تَبۡغُواْ عَلَيۡهِنَّ سَبِيلًاۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيّٗا كَبِيرٗا )34( وَإِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَيۡنِهِمَا فَٱبۡعَثُواْ حَكَمٗا مِّنۡ أَهۡلِهِۦ وَحَكَمٗا مِّنۡ أَهۡلِهَآ إِن يُرِيدَآ إِصۡلَٰحٗا يُوَفِّقِ ٱللَّهُ بَيۡنَهُمَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرٗاِ الخ(سورۃ النساء،الآیۃ:34۔33)
وفی القرطبی تحت( قولہ تعالٰی: واضربوهن) أمر الله أن يبدأ النساء بالموعظة أولا ثم بالهجران، فإن لم ينجعا فالضرب، فإنه هو الذي يصلحها له ويحملها على توفية حقه. والضرب في هذه الآية هو ضرب الأدب غير المبرح(الی قولہ) (قولہ تعالی:فابعثوا حكما من أهله وحكما من أهلها) والحكمان لا يكونان إلا من أهل الرجل والمرأة، إذ هما أقعد بأحوال الزوجين، ويكونان من أهل العدالة وحسن النظر والبصر بالفقه إلخ(ج: 5، ص: 175۔172،ط: دار الکتب المصریۃ)
وفی اعلاء السنن: وعند تفریط المرأۃ في حقوق اللّٰہ تعالیٰ الواجبۃ علیہا مثل الصلاۃ ونحوھا أن تکون غیر عفیفۃ أو خارجۃ إلی المخالفۃ والشقاق مندوب إلیہ ( کتاب الطلاق ،ج11،ص142،ط: بیروت)۔
وفی الدر المختار: (وقيل) قائله الكمال (الأصح حظره) (أي منعه) (إلا لحاجة)( الی قولہ) وقولهم الأصل فيه الحظر، معناه أن الشارع ترك هذا الأصل فأباحه. إلخ
وفی رد المحتار: تحت (قولہ: وقولهم إلخ) جواب عن قوله في الفتح: إن قولهم بإباحته وإبطالهم قول من قال لا يباح إلا لكبر أو ريبة «بأنه صلى الله عليه وسلم طلق حفصة» ولم يقترن بواحد منهما مناف لقولهم الأصل فيه الحظر لما فيه من كفران نعمة النكاح والإباحة للحاجة إلى الخلاص(الی قولہ) ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل، بل هي أعم كما اختاره في الفتح، فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر، ولهذا قال تعالى :فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا[النساء: 34] أي لا تطلبوا الفراق، وعليه حديث: أبغض الحلال إلى الله الطلاق. إلخ(کتاب الطلاق،ج: 3، ص: 228، ط: إیچ إیم سعید)
وفی نفع المفتی والسائل: إذا اعتادت الزوجۃ الفسق، علیہ الأمر بالمعروف والنہي عن المنکر والضرب فیما یجوز فیہ فإن لم تنزجر لا یجب التطلیق علیہ؛ لأن الزوج قد أدی حقہ والإثم علیہا ہٰذا ما اقتضاہ الشرع وأما مقتضی غایۃ التقویٰ فہو أن یطلقہا لکن جواز الطلاق إنما ہو إذا قدر علی أداء المہر وإلا فلا یطلقہا الخ(کتاب الطلاق، ص: 163، ط: کراچی)