آپ کے پاس جیولری ہے سونے کی جو آپ کے ماں باپ نے دی ہے ، آپ ا س میں سے فروخت کردو بغیر اپنے شوہر سے پرمیشن لیے تو کیا وہ پیسے حرام ہونگے؟
واضح ہو کہ ہر آزاد ، بالغ ، عاقل ،شخص اپنی ملکیت میں موجود ہر قسم کے ساز و سامان کا تنہا مالک ہوتا ہے ، اسے اپنے ملکیتی سامان میں تصرف کیلئے کسی دوسرے شخص سے اجازت طلب کرنےکی شرعاً ضرورت نہیں ہوتی ، چنانچہ صورت مسئولہ میں سائلہ کے لیے بوقت ضرورت شوہر کی اجازت کے بغیر بھی اپنے ملکیتی زیور کو فروخت کرنے کی اجازت ہے ، تاہم اگر شوہر کو حمایت میں لیکر بیچے تو یہ اس کی ازدواجی زندگی اور میاں ، بیوی کے باہمی اعتماد کو مزید مضبوط کرنے اور تقویت پہنچانے کے حوالے سے زیادہ بہتر ہے۔
وفی درر الحکام: لا يمنع أحد من التصرف في ملكه ما لم يكن فيه ضرر فاحش للغير وفي هذه الحالة يفصل في الفصل الثاني، لا يمنع أحد من التصرف في ملكه الخالص (التنوير في مسائل شتى القضاء) .
والملك المقصود هنا هو أعم من ملك الرقبة وملك المنفعة فيدخل في ذلك العقارات الموقوفة للسكنى أو للاستغلال(الحموی)(الکتاب العاشر الشرکات، ج: ٣، ص: ٢١٠، رقم المادۃ: ١١٩٧، مط: دارا لجيل)
وفيه أيضاً: كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير.(الكتاب العاشر الشركات،الفصل الأول في بيان بعض القواعد المتعلقة بأملاك، ج: ٣، ص: ٢٠١، رقم المادة : ١١٩٢، مط: دار الجيل)