السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضرت مفتی صاحب!
مجھے ایک مسئلہ میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔
میں نے اپنی ویب سائٹ پر کچھ عرصہ پہلے جوئے (آن لائن کیسینو) کی ایپس کو بطور اشتہار پروموٹ کیا تھا اور اس کے بدلے میں مجھے کچھ رقم ملی تھی۔
اب میں نے اس کام سے سچی توبہ کر لی ہے اور آئندہ یہ کام نہ کرنے کا ارادہ ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس پروموشن کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی کو صدقہ کرنا ضروری ہے؟ یا اگر آدمی سچی توبہ کر لے اور آئندہ یہ کام نہ کرے تو کیا وہ رقم اپنے پاس رکھ سکتا ہے؟
براہِ کرم اس بارے میں شرعی رہنمائی فرما دیں۔
جزاکم اللہ خیراً
واضح ہو کہ جیسا گناہ کرنا حرام ہے، ایسا ہی گناہ کے کام میں تعاون کرنا یا اسکی تشہیر کرنا بھی قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کے صریح نصوص کی روشنی میں ناجائزا ور حرام ہے، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کا اپنی ویب سائٹ پر جوئے اور قمار کے ایپس کی تشہیر کرنا شرعا جائز نہیں تھا بلکہ اس کی وجہ سے سائل گناہ گار ہوا ہے، جبکہ اس کے بعد سائل نے جو توبہ کرلی ہے تو امید ہے کہ اللہ تعالی نے توبہ قبول کرکے اسکے گناہ معاف کیے ہوں، تاہم توبہ تائب ہونے کے باوجود اس تشہیر کی مد میں سائل کو جو رقم ملی ہے وہ سائل کے لیے شرعا حلال نہیں ہے، بلکہ حرام ہے، اس لیے سائل پر لازم ہے کہ توبہ کے ساتھ ساتھ اس رقم کو بھی بلا نیت ثواب صدقہ کردے۔
قال الله تعالى في القرآن الكريم: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَاب (الآية، المائدة:2)
في البحر الرائق في شرح كنزالدقائق: "(ولايجوز على الغناء والنوح والملاهي)؛ لأن المعصية لايتصور استحقاقها بالعقد فلايجب عليه الأجرة من غير أن يستحق عليه؛ لأن المبادلة لاتكون إلا عند الاستحقاق وإن أعطاه الأجر وقبضه لا يحل له ويجب عليه رده على صاحبه." اه (ج:8،ص:23 كتاب الإجارة)