سوال: میری بیوی کافی عرصے سے جاب کر رہی ہے، لیکن اب میں نہیں چاہتا کہ وہ جاب کرے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر وہ جاب چھوڑ دے تو میں اسے کم از کم 20,000 روپے ماہانہ خرچ کے طور پر دوں۔
میرا کہنا ہے کہ میں جتنا دے سکوں گا دوں گا، یا پھر میں نے یہ مشورہ دیا ہے کہ میں اپنی پوری تنخواہ اسے دے دوں اور وہ گھر کا خرچ چلائے، اور جو پیسے بچیں، وہ اپنے پاس رکھ لے۔ لیکن وہ اس بات پر راضی نہیں ہے۔اس صورت ِحال میں میرے چند سوال ہیں:کیا ایسی صورت میں میرا زبردستی بیوی سے جاب چھڑوانا صحیح ہے یا غلط؟اگر میں اس سے جاب چھڑوا دوں اور گھر کے تمام اخراجات پورے کرنے کے بعد میرے پاس اسے دینے کے لیے الگ سے پیسے نہ بچیں تو کیا اس کا گناہ مجھ پر ہوگا؟کیا اسلام میں شوہر کو بیوی سے زبردستی جاب چھڑوانے کا حق ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر بیوی شوہر کی اجازت سے ملازمت کررہی ہواور اب شوہر کسی مصلحت کی بنا پر اسے ملازمت چھوڑنے کا کہہ رہاہواو ر وہ بیوی کے نان و نفقہ، رہائش اور ضروری اخراجات بھی پوری ذمہ داری سے اداکررہاہو تو شوہر کو اپنی بیوی کو گھر سے باہر ملازمت سے روکنے کا حق حاصل ہے، چنانچہ بیوی کا ملازمت چھوڑنے کی صورت میں مخصوص رقم ماہانہ ذاتی خرچ کے طورپردینے کا مطالبہ کرناجائزنہیں ، بلکہ شوہر اپنی حیثیت کے مطابق بیوی کا مناسب نفقہ اداکرنے کاشرعاًپابند ہے،
لہٰذا اگر شوہر ملازمت چھڑوانے کے بعداپنی استطاعت کےمطابق بیوی کے ضروری اخراجات، خوراک، لباس، رہائش اور دیگر واجب نفقات ادا کرتا ہے ،توایسی صوت میں بیوی کو الگ سے مقررہ رقم نہ دینے کی صورت میں اس پرکوئی گناہ نہیں ہوگا ۔
البتہ میاں بیوی کو چاہیے کہ باہمی افہام و تفہیم اور حسنِ معاشرت کے ساتھ ایسا حل اختیار کریں جس سے کسی فریق کی حق تلفی نہ ہو۔
کما فی البحرالرائق: وقيد خروج القابلة والغاسلة بإذن الزوج وفسر الغاسلة بمن تغسل الموتى وينبغي أن للزوج أن يمنع القابلة والغاسلة من الخروج؛ لأن في الخروج إضرارا به وهي محبوسة لحقه، وحقه مقدم على فرض الكفاية بخلاف الحج الفرض؛ لأن حقه لا يقدم على فرض العين اھ۔
وفیہ ایضاً: له أن يمنع امرأته من الغزل ولا تتطوع للصلاة والصوم بغير إذن الزوج، كذا في الظهيرية وينبغي عدم تخصيص الغزل، بل له أن يمنعها من الأعمال كلها المقتضية للكسب؛ لأنها مستغنية عنه لوجوب كفايتها عليه اھ (اسباب وجوب النفقۃ، ج:4، ص:195، 196، م:رشیدیۃ)۔
وفی بدائع الصنائع: ومنها وجوب النفقة، والسكنى لقوله تعالى {وعلى المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف} [البقرة: 233] ، وقوله تعالى {لينفق ذو سعة من سعته ومن قدر عليه رزقه فلينفق مما آتاه الله} [الطلاق: 7] ، وقوله {أسكنوهن من حيث سكنتم من وجدكم} [الطلاق: 6] ، والأمر بالإسكان أمر بالإنفاق الخ (فصل وجوب النفقۃ والسکنی، ج:2۔ ص:332، م:سعید)۔