میں زیر تعمیر عمارت میں ایک دکان خریدنا چاہتا ہوں۔ اس عمارت کو بنانے والی کمپنی کی یہ پالیسی ہے کہ وہ مجھے آمدنی پر منافع (ریٹرنز) دیں گے، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ فکسڈ (طے شدہ) ہے اور یہ میری انویسٹمنٹ (دکان خریدنے کے لیے جو رقم میں ادا کروں گا) کا 1 فیصد ہے۔ پوچھ گچھ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ کمپنی یہ منافع اس لیے دے رہی ہے کیونکہ اس جگہ اور عمارت کی مارکیٹ ویلیو (مارکیٹ کی قیمت) میں ایک سال میں 20 سے 30 فیصد اضافہ ہوتا ہے، اور اس میں سے کمپنی آپ کو 3 سال کے فکسڈ (مستقل) عرصے کے لیے سالانہ 12 فیصد دے گی، جس مدت میں کمپنی عمارت کا کام مکمل کرے گی اور اس کے بعد کرایہ شروع ہو جائے گا کیونکہ یہ کمپنی کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ یہ دکانیں برانڈز کو دے اور مجھے اس کے بعد اپنا کرایہ ملے گا۔ میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اس عمارت میں دکان خریدنے کے لیے دی جانے والی رقم پر یہ آمدنی کا منافع (ماہانہ 1 فیصد) حاصل کرنا حلال ہے یا حرام؟
واضح ہو کہ کسی بھی پراجیکٹ میں تعمیر ہونے والی دکان خریدنا بیعِ استصناع کے طور پر جائز ہے، لیکن بیعِ استصناع میں جب تک مطلوبہ چیز (دکان وغیرہ) تیار ہو کر خریدار کے حوالے نہ کی جائے، تب تک اس میں اس کی ملکیت ثابت نہیں ہوتی اور غیر مملوکہ اشیاء کا کرایہ وصول کرنا یا عقدِ استصناع میں بطورِ ایڈوانس دی گئی رقم کا منافع لینا شرعاً جائز نہیں؛ لہذا سائل کا دکان کی بکنگ کے لئے ایڈوانس دی گئی رقم پر کمپنی سے منافع وصول کرنا جائز نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی بدائع الصنائع:وأما جوازه، فالقياس: أن لا يجوز؛ لأنه بيع ما ليس عند الإنسان، لا على وجه السلم، وقد نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع ما ليس عند الإنسان، ورخص في السلم، ويجوز استحسانا؛ لإجماع الناس على ذلك؛ لأنهم يعملون۔اھ(کتاب الاستصناع،ج:5،ص:2،ط:سعید)
وفيه ايضاً:وإذا ثبت أن معنى الإجارة والشركة لازم لهذا العقد فاشتراط قدر معلوم من الخارج ينفي لزوم معنى الشركة لاحتمال أن الأرض لا تخرج زيادة على القدر المعلوم؛ ولهذا إذا شرط في المضاربة سهم معلوم من الربح لا يصح كذا هذا، وكذا إذا ذكر جزءا شائعا،»(كتاب المزارعة،ج:٦،ص:١٧٨،ط: سعيد)