کیا بیوی کو اپنا ذاتى مال خرچ کرنے کیلئے شوہر کی اجازت ضروری ہے ؟ بعض مفتيان کرام مندرجہ ذیل حديث سے استفادہ کر کے کہتے ہیں کہ شوہر سے اجازت لینا ضروری ہے ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، وَحَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَجُوزُ لِامْرَأَةٍ أَمْرٌ فِي مَالِهَا إِذَا مَلَكَ زَوْجُهَا عِصْمَتَهَا۔ براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں ۔
واضح ہو کہ بیوی اپنے ذاتی مال کے خرچ کرنے میں خود مختار ہے، وہ جہاں چاہے، جیسے چاہے، جتنا چاہے، جائز کاموں میں خرچ کرسکتی ہے ، اس پر شوہر سے اجازت لینا شرعاً لازم نہیں ، البتہ اس کے علم میں لاکر یا اس سے مشاورت کے بعد اگر اپنا مال خرچ کرے تو یہ میاں بیوی کے باہمی تعلق کے لیے زیادہ مفید ہے اور عورت کو ایسا ہی کرنا چاہیے۔
جہاں تک مذکور حدیث کا تعلق ہے تو شراح حدیث نے اس حدیث کو ادب اور استحباب پر محمول کیا ہے ، یعنی شوہر سے اجازت لینا مستحب ہے، لازم نہیں ، کیونکہ خود ازواج مطہرات کا نبی ﷺ سے اور صحابیات کا اپنے خاوندوں سے اجازت لیے بغیر اپنے مال میں تصرف کرنا ثابت ہے۔
كما في بذل المجهود في حل سنن أبي داود: «(حدثنا موسى بن إسماعيل، نا حماد، عن داود بن أبي هند وحبيب المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده» «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا يجوز لامرأة أمر في مالها إذا ملك زوجها عصمتها)
قال الخطابي (1): عند أكثر العلماء هذا على معنى حسن العشرة واستطابة نفس الزوج بذلك، إلا أن مالك (2) بن أنس قال: يرد ما فعلت من ذلك حتى يأذن الزوج، قال الشيخ: وقد يحتمل أن يكون ذلك في غير الرشيدة، وقد ثبت عنه صلى الله عليه وسلم أنه قال للنساء: "تصدقن، فجعلت المرأة تلقي القرط والخاتم، وبلال يتلقاها بكسائه"، وهذه عطية بغير إذن الزوج.
3547 - (حدثنا أبو كامل، نا خالد -يعني ابن الحارث-، نا حسين، عن عمرو بن شعيب، أن أباه أخبره، عن عبد الله بن عمرو، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا تجوز لامرأة عطية إلا بإذن زوجها)
وفي هذا الحديث إن كان المراد من العطية من مال زوجها فحكمه ظاهر، وأما إذا كان المراد من العطية من مالها، فهو محمول على الأدب والاختيار والمشاورة مع الزوج.» (11/ 274)