کیا بیوی کو اپنے شوہر کی ناپسندیدگی یا منع کرنے کے باوجود اپنے والدین سے ملنے جانے کی اجازت ہے؟اور کیا بیوی اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر، بلکہ اس کی عدم رضامندی کے باوجود، شوہر کے گھر سے باہر جا سکتی ہے؟
شریعتِ مطہرہ میں بیوی پر شوہر کے جائز حقوق کی رعایت اوررضامندی کو لازم قراردیاگیاہے، لہٰذا عام حالات میں بیوی کاشوہر کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے باہرجانا جائزنہیں ،البتہ والدین کے ساتھ صلہ رحمی اور حسنِ سلوک بھی شریعت کا حکم ہے، اس لیے شوہر کو بلاوجہ بیوی کو والدین سے ملنے یا ان کی خبرگیری سے روکنا نہیں چاہیے۔
چنانچہ اگر والدین کو بیٹی کی ضرورت ہو، یا ان کی عیادت، خدمت یا ملاقات کی معقول حاجت ہو، اور شوہر محض ضد یا بلاشرعی وجہ کے سبب منع کر رہا ہو، تو فقہاء کرام ؒنے ایسی صورت میں والدین سےہفتہ میں ایک بار ملاقات کی گنجائش ذکر فرمائی ہے۔ تاہم اس معاملے میں بھی گھر کے نظام کو درہم برہم کرنے کی بجائے مناسب طریقہ یہی ہے کہ باہمی افہام و تفہیم، حکمت اور مصالحت سے مسئلہ حل کیا جائے ۔
كمافي الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» : (ولايمنعها من الخروج إلى الوالدين) في كل جمعة إن لم يقدرا على إتيانها على ما اختاره في الاختيار ولو أبوها زمنا مثلا فاحتاج فعليها تعاهده ولو كافرا وإن أبى الزوج.
فتح (ولا يمنعها من الدخول عليها في كل جمعة، وفي غيرهما من المحارم في كل سنة) لها الخروج ولهم الدخول زيلعي (ويمنعهم من الكينونة)وفي نسخة: من البيتوتة، لكن عبارة مثلا مسكين: من القرار (عندها) به يفتى.»(ص262)
وفي الشامية تحت قوله(قوله على ما اختاره في الاختيار) الذي رأيته في الاختيار شرح المختار: هكذا قيل لا يمنعها من الخروج إلى الوالدين وقيل يمنع؛ ولا يمنعهما من الدخول إليها في كل جمعة وغيرهم من الأقارب في كل سنة هو المختار. اهـ فقوله هو المختار مقابله القول بالشهر في دخول المحارم كما أفاده في الدرر والفتح، نعم ما ذكره الشارح اختاره في فتح القدير حيث قال: وعن أبي يوسف في النوادر تقييد خروجها بأن لا يقدرا على إتيانها، فإن قدرا لا تذهب وهو حسن، وقد اختار بعض المشايخ منعها من الخروج إليهما وأشار إلى نقله في شرح المختار. والحق الأخذ بقول أبي يوسف إذا كان الأبوان بالصفة التي ذكرت، وإلا ينبغي أن يأذن لها في زيارتهما في الحين بعد الحين على قدر متعارف، أما في كل جمعة فهو بعيد، فإن في كثرة الخروج فتح باب الفتنة خصوصا إذا كانت شابة والزوج من ذوي الهيئات، بخلاف خروج الأبوين فإنه أيسر. اهـ.
وهذا ترجيح منه لخلاف ما ذكر في البحر أنه الصحيح المفتى به من أنها تخرج للوالدين في كل جمعة بإذنه وبدونه، وللمحارم في كل سنة مرة بإذنه (3/ 602)