اگر میاں بیوی کسی وجہ سے الگ الگ رہتے ہوں، اور شوہر پہلی بیوی کی رضامندی سے اپنی دوسری بیوی کے ساتھ رہ رہا ہو، تو کیا ایسی صورت میں پہلی بیوی اور شوہر آپس میں مل نہیں سکتے؟مثلاً اگر پہلی بیوی کے گھر والوں نے شوہر کو گھر کے اندر آنے کی اجازت نہ دی ہو، تو کیا ضرورت کے تحت گھر کے باہر دروازے پر شوہر اور بیوی کا ملنا اور کھڑے ہو کر بات کرنا ناجائز ہے؟پہلی بیوی کے گھر والے اب اس بات پر بھی اعتراض کر رہے ہیں کہ شوہر اور بیوی دروازے پر بھی نہیں مل سکتے۔ کیا شریعت میں واقعی ایسی کوئی ممانعت موجود ہے؟کیا شریعت میں کوئی ایسا حکم ہے کہ اگر میاں بیوی کسی وجہ سے اکٹھے نہ رہ رہے ہوں تو وہ ایک دوسرے سے مل بھی نہیں سکتے؟ یا ضرورت کے مطابق ملاقات اور بات چیت کر سکتے ہیں؟
صورت مسئولہ میں اگر پہلی بیوی اور شوہر کچھ مسائل کی وجہ سے وقتی طور پر ایک دوسرے سے علیحدہ ہوکر پہلی بیوی اپنے میکہ میں رہ رہی ہو ، توسسرال والوں کا داماد کو گھر آنے پر اسے بیوی سے ملنے نہ دینا اور کسی طریقے سے ان کی بات چیت پر بھی پابندی کے درپے ہونا درست طرز عمل نہیں ، بلکہ میاں بیوی کے درمیان دوری پیدا کرنے کا سبب بننے کی وجہ سے وہ گناہ گار ہورہے ہیں، انھیں چاہیئے کہ وہ میاں بیوی کی ملاقات پر قدغن لگانے کے بجائے انھیں ایک دوسرے سے بات چیت اور ملنے کا موقع فراہم کریں ، تاکہ ان کے درمیان اگر کچھ تلخیاں یا غلط فہمیاں پیداہوگئی ہو ں ، تو وہ دور ہوکر ان کا گھر بس جائے۔
کما فی مسند احمد: «عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن إبليس يضع عرشه على الماء، ثم يبعث سراياه، فأدناهم منه منزلة أعظمهم فتنة، يجيء أحدهم، فيقول: فعلت كذا وكذا، فيقول: ما صنعت شيئا. قال: ويجيء أحدهم، فيقول: ما تركته حتى فرقت بينه وبين أهله، قال: فيدنيه منه - أو قال: فيلتزمه - ويقول: نعم أنت أنت " قال أبو معاوية مرة: " فيدنيه منه "» ( ص: 22 ج:275 ناشر: مؤسسة الرسالة)
کما فی رد المحتار تحت: («قوله وقولهم إلخ) جواب عن قوله في الفتح: إن قولهم بإباحته»( الی قوله) وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل، بل هي أعم كما اختاره في الفتح، فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر، ولهذا قال تعالى {فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} [النساء: 34] أي لا تطلبوا الفراق، وعليه حديث «أبغض الحلال إلى الله الطلاق» قال في الفتح: ويحمل لفظ المباح على ما أبيح في بعض الأوقات أعني أوقات تحقق الحاجة المبيحة اهـ( باب الطلاق ج: 3 ص: 228 ناشر: الحلبی)