اگر کسی کو اپنی بیوی پسند نہ آتی ہو ، اس وجہ سے کہ اس کا قد بہت کم ہے، اور وہ خوبصورت بھی نہیں ہے، حالانکہ اس نے شادی کیلئے ہاں کی تھی، مگر منگنی کے بعد اس شخص کولڑ کی پسند نہیں آرہی، اب شادی ہو چکی ہے اور اس لڑکے کو اپنی بیوی سے بالکل بھی محبت نہیں ہے، اور اب وہ دوسری شادی کرنا چاہتا ہے، مگر وہ جانتا ہے کہ وہ برابری نہیں کر سکے گا ،۔ تو کیا وہ اپنی پہلی بیوی کو رکھ سکتا ہے بغیر کسی تعلقات کے؟ وہ اپنی بیوی کا خرچہ برداشت کر سکتا ہے، مگر اس کے ساتھ رہ نہیں سکتا، کیونکہ جس کے ساتھ وہ شادی کرنا چاہتا ہے وہ کسی دوسرے ملک میں رہتی ہے اور اس نے صاف کہہ دیا ہے کہ اگر وہ دوسری شادی نہ بھی کرے، پھر بھی وہ کسی طرح اپنی بیوی کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔
اگر رخصتی نہ ہوئی ہو ،تو شخص مذکور کو چاہیئے کہ اس رشتہ کو ختم کر دے اور اسے طلاق دے دے،بلاوجہ کسی کی بچی کواپنی تحویل میں لے کر اس کے ساتھ ظلم زیادتی کرنے سے احتراز کرے، اور اگر رخصتی ہو چکی ہو، اور دوسری شادی کی صورت میں وہ دونوں کے حقوق واجبہ ادا کرنے پر استطاعت رکھتا ہو، اور کسی ایک کے ساتھ ظلم کا بھی ارادہ نہ ہو ،تو اس صورت میں دوسری شادی جائز ہے، اور جہاں تک قلبی رجحان کا تعلق ہے، تو وہ اس کے اختیار میں نہیں، مگر نان و نفقہ، رہائش ، شب باشی میں فرق نہ کرے، ورنہ سخت گناہ گار ہوگا۔
كما قال الله تعالى: {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى}۔الآیة [النحل: 90]
وفي مشكاة المصابيح: عن عائشةؓ: أن النبي ﷺ كان يقسم بين نسائه فيعدل ويقول: «اللهم هذا قسمي فيما أملك فلا تلمني فيما تملك ولا أملك». رواه الترمذي وأبوداود والنسائي وابن ماجه والدارمي۔الحدیث (2/ 965)
وفي الدر المختار: (يجب) وظاهر الآية أنه فرض نهر (أن يعدل) أي أن لا يجور (فيه) أي في القسم بالتسوية في البيتوتة (وفي الملبوس والمأكول) والصحبة (لا في المجامعة) كالمحبة بل يستحب اھ وفي رد المحتار: تحت (قوله بل يستحب) أي ما ذكر من المجامعة ح. أما المحبة فهي ميل القلب وهو لا يملك. قال في الفتح: والمستحب أن يسوي بينهن في جميع الاستمتاعات من الوطء والقبلة، وكذا بين الجواري وأمهات الأولاد ليحصنهن عن الاشتهاء للزنا والميل إلى الفاحشة اھ (3/ 201)